غزل بغرض اصلاح

سرفرازاحمدسحر — دسمبر 11، 2024 9:21 صبح
حد مقابل نے لگائی ہے تو حد سے بڑھے ہیں
ہم تو آگے بھی حریفوں کی مدد سے بڑھے ہیں
بھاؤ بگڑے تھے اندھیرے میں ہواؤں کے بہت
نرخ ان کے بھی چراغوں کی رسد سے بڑھے ہیں
بل مراعات کا ایوان کی منظور ہوا
خرچ حاکم کے بھی تعلیم کی مد سے بڑھے ہیں
کیوں پرستش میں فقط لوگ ہیں سورج کی لگے
جب اُجالے یہ چراغوں کی مدد سے بڑھے ہیں
بن کے دریا ہیں جو قطرے یہ سمندر میں ڈھلے
اپنی ہستی کو مٹایا ہے تو حد سے بڑھے ہیں
سرفرازاحمدسحر — دسمبر 11، 2024 9:23 صبح
محترمی الف عین
سرفرازاحمدسحر — دسمبر 14، 2024 5:35 شام
حد مقابل نے لگائی ہے تو حد سے بڑھے ہیں
ہم تو آگے بھی حریفوں کی مدد سے بڑھے ہیں
بل مراعات کا ایوان سے منظور ہوا
خرچ سالار کے تعلیم کی مد سے بڑھے ہیں
بھاؤ بگڑے تھے اندھیرے میں ہواؤں کے بہت
نِرخ ان کے بھی چراغوں کی رسد سے بڑھے ہیں
بن کے دریا جو یہ قطرے ہیں سمندر میں ڈھلے
اپنی ہستی کو مٹایا ہے تو حد سے بڑھے ہیں
کیوں پرستش میں فقط لوگ ہیں سورج کی لگے
جب اُجالے یہ چراغوں کی مدد سے بڑھے ہیں
الف عین — دسمبر 16، 2024 3:59 صبح
اس کا ٹیگ مجھے ملا ہی نہیں!
پہلی بات تو یہ کہ مجھے ردیف ہی پسند نہیں آئی۔ "بڑھے" کی' ے' کے اسقاط کی وجہ سے۔
بہر حال آسانی سے بدلی نہیں جا سکتی اس لئے قبول کرنی پڑےگی مجبوراً

حد مقابل نے لگائی ہے تو حد سے بڑھے ہیں
ہم تو آگے بھی حریفوں کی مدد سے بڑھے ہیں
ہم تو آگے/پہلے... مجھے پہلے بہتر لگ رہا ہے
بل مراعات کا ایوان سے منظور ہوا
خرچ سالار کے تعلیم کی مد سے بڑھے ہیں
سمجھ نہیں سکا، کس سلسلے میں مراعات؟
بھاؤ بگڑے تھے اندھیرے میں ہواؤں کے بہت
نِرخ ان کے بھی چراغوں کی رسد سے بڑھے ہیں
درست
بن کے دریا جو یہ قطرے ہیں سمندر میں ڈھلے
اپنی ہستی کو مٹایا ہے تو حد سے بڑھے ہیں
یہاں تو "حد سے بڑھنا" کا عمل مجھے درست نہیں لگ رہا
کیوں پرستش میں فقط لوگ ہیں سورج کی لگے
جب اُجالے یہ چراغوں کی مدد سے بڑھے ہیں
پہلے مصرعے کے الفاظ بدل کر بہتر روانی دی جا سکتی ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%BA%D8%B1%D8%B6-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.121194/