غزل حاضر ہے۔۔۔۔۔ تبصرہ ضرور کریں

سلیمان جاذب — دسمبر 16، 2008 1:32 شام
غزل
اپنے قابو میں دل نہیں تب سے
اس کو دیکھا ہے اک نظر جب سے
اس کا انداز ہر کسی سے الگ
اور مرا راستہ جدا سب سے
پھول مجھ کو وہ خوش نما سا لگے
چھو گیا جو ترے حسیں لب سے
بات سنتا نہیں یہاں کوئی
بات کرنا ہے اب نئے ڈھب سے
شہر سونا ہے اس طرح جاذب
چاند روٹھا ہو جس طرح شب سے
محمد وارث — دسمبر 16، 2008 2:11 شام
اچھی غزل ہے سلیمان صاحب،
دو شعر مجھے بہت اچھے لگے
اس کا انداز ہر کسی سے الگ
اور مرا راستہ جدا سب سے
شہر سُونا ہے اس طرح جاذب
چاند روٹھا ہو جس طرح شب سے
لا جواب!
مطلع جاندار نہیں ہے۔
پھول والے شعر میں میر کے لازوال شعر کا جواب مجھے ضرور ملا اور بات بھی بنی لیکن خیر ----------- :)
سلیمان جاذب — دسمبر 16، 2008 2:22 شام
اب اگر آپ مناسب سمجھیں تو میر کا شعر بھی لکھ بھیجیں تا کہ مئجھے بھی پتہ چھلے
محمد وارث — دسمبر 16، 2008 2:33 شام
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے!
سلیمان جاذب — دسمبر 16، 2008 2:49 شام
ویسے آپکی میموری اچھی ہے
الف عین — دسمبر 16، 2008 3:29 شام
بہت خوب۔۔۔ لیکن ساری غزلیں ایک ہی بحر میں کہتے ہیں بھائی؟
مظلع واقعی کمزور ہے
مغزل — دسمبر 17، 2008 5:58 صبح
بہت خوب سلمان جاذب صاحب ۔۔ خوب کہتے ہیں‌جناب !
اللہ کرے زورِ قلم مشقِ سخن تیز
سلیمان جاذب — دسمبر 17، 2008 6:05 صبح
ساری غزلیں ایک بحر میں تو نہیں کہتا لیکن آپ نے ابھی تک جو دیکھیں ہیں وہ شائد ایک ہی بحر میں ہیں
مجھے چھوٹی بحر میں کہنا اچھا لگتا ہے
سلیمان جاذب — دسمبر 17، 2008 6:06 صبح
مغل صاحب اتنا بھی مت چڑہائے ہمیں اپنی حثیثت کا پتہ ہے
خرم شہزاد خرم — دسمبر 19، 2008 6:57 صبح
بہت خوب جناب جاذب صاحب کیا غزل ہے بہت پسند آئی مجھے تو سارے ہی شعر اچھے لگے لیکن سب سے پیارا شعر
شہر سُونا ہے اس طرح جاذب
چاند روٹھا ہو جس طرح شب سے
مجھے یہی لگا ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AD%D8%A7%D8%B6%D8%B1-%DB%81%DB%92%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81-%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1-%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA.17379/