غزل در زمینِ اقبال

محمد ریحان قریشی — اپریل 15، 2016 9:16 صبح
قفس سے آشیاں تک ہے مسرت سے فغاں تک ہے
یہ سوزِ زندگی شاید فقط میرے جہاں تک ہے
وہ گلچیں ہوں کہ بوئے گل سے ہو جاتا ہوں میں بیخود
ہوائے بادہ مجھ کو موسمِ نا مہرباں تک ہے
نہیں کاوش سے پہلے ہمنواؤ بے دلی اچھی
جو مشکل راستے کی ہے رحیلِ کارواں تک ہے
وہ قطرہ ہوں کہ سوزِ عشق سے ہوں بیکراں دریا
مری وسعت خدا کے تخت سے کوئے بتاں تک ہے
نہیں رمزی کوئی اب مصلحت اس در سے اٹھنے میں
کہ ہر اک راستے کی انتہا اس آستاں تک ہے
(رمزی سیکنڈری تخلص ہے)
سید اسد معروف — اپریل 15، 2016 10:08 صبح
بہت اچھے رمزی بھائی۔
کاشف اسرار احمد — اپریل 15، 2016 12:00 شام
یہ سیکنڈری تخلص کی بھی ، " آئی ایم دی ہیڈ آف دی اردو ڈپارٹمنٹ "، کی سی رہی !!:grin:

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AF%D8%B1-%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86%D9%90-%D8%A7%D9%82%D8%A8%D8%A7%D9%84.89364/