غزل سازوں میں ہونے آیا شامل میں

محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 15، 2013 5:11 شام
غزل گوئی میں گرچہ ہوں نہ قابل میں
غزل سازوں میں ہونے آیا شامل میں
سمجھ آئی ، ہوا جب خود بھی گھائل میں
بہت سی اور باتیں ہیں اس گِل میں
سجا قرآن ہے سینے کی محفل میں
”مہِ کامل دمکتا ہے مرے دل میں“
ہٹاتا جاۗؤں گا ہر ایک حائل میں
رہِ معراجِ سوزِ عشقِ منزل میں
ہے الٹی آج ہر اک شے محافل میں
کہ لیلیٰ دربدر اور قیس محمِل میں
سکون و چین کرلیتا ہوں حاصل میں
غزالی چشم کے پرکیف ساحل میں
’’مئے الفت‘‘ یہاں بنتی ہے یا ’’سرکہ‘‘
اساؔمہ جانچنے آیا ہے اس مل میں
محترمو مکرماساتذہ!راہنمائیفرمائیں۔
الف عین — مارچ 15، 2013 5:24 شام
اتنے مطلع ایک ساتھ مت کہا کرو میاں۔
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 15، 2013 5:25 شام
اتنے مطلع ایک ساتھ مت کہا کرو میاں۔
آیندہ نہیں کہوں گا۔:)
محمد یعقوب آسی — مارچ 15، 2013 5:45 شام
میں (یائے مجہول کے ساتھ: in ) کے ساتھ مَیں (یائے لین کے ساتھ: I, me) ۔۔ ردیف؟
میں: گھر میں، گلی میں، اس بات میں، کھیل کود میں، اتنے میں، ۔۔۔۔ یائے مجہول
مَیں: میں گیا، میں نے دیکھا، میں کون ہوں، میں نہیں جانتا، ۔۔۔۔ یائے لِین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد یعقوب آسی — مارچ 15، 2013 5:46 شام
سکون و چَین ۔۔۔ ترکیب؟؟؟
۔۔۔۔
محمد یعقوب آسی — مارچ 15، 2013 5:47 شام
’’مئے الفت‘‘ وہی ہجوں کا مسئلہ۔
ابھی پرسوں اترسوں استاد قمر جلالوی کی ایک غزل آپ کو ٹیگ کی تھی۔
۔۔۔۔
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 15، 2013 5:48 شام
میں (یائے مجہول کے ساتھ: in ) کے ساتھ مَیں (یائے لین کے ساتھ: I, me) ۔۔ ردیف؟
میں: گھر میں، گلی میں، اس بات میں، کھیل کود میں، اتنے میں، ۔۔۔ ۔ یائے مجہول
مَیں: میں گیا، میں نے دیکھا، میں کون ہوں، میں نہیں جانتا، ۔۔۔ ۔ یائے لِین
۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
بہت مفید بات بتائی آپ نے۔ جزاکم اللہ خیرا۔
سکون و چَین ۔۔۔ ترکیب؟؟؟
۔۔۔ ۔
عطف۔
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 15، 2013 5:49 شام
’’مئے الفت‘‘ وہی ہجوں کا مسئلہ۔
ابھی پرسوں اترسوں استاد قمر جلالوی کی ایک غزل آپ کو ٹیگ کی تھی۔
۔۔۔ ۔
میں نے اسے پہلے ”میے“ لکھا ، نہیں سمجھ میں آیا، پھر ”مےِ“ لکھا تو وضاحت میں کمی محسوس ہوئی ، بالآخر ”مئے“ لکھ دیا، اب آپ راہنمائی فرمائیں۔
محمد یعقوب آسی — مارچ 15، 2013 5:54 شام
گھایَل: (فتحہ یائے کے ساتھ) جس کو گھاؤ لگا ہو۔ زخمی
۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک اور مثال
پایَل: (فتحہ یائے کے ساتھ) پاؤں میں باندھنے کا ایک زیور۔ پازیب
۔۔۔۔۔۔۔۔
گھایَل کو گھائِل بھی لکھتے ہیں، جو میرے نزدیک محلِ نظر ہے۔
محمد یعقوب آسی — مارچ 15، 2013 5:59 شام

عطف تو ہے صاحب! مگر ۔۔۔
میرا خیال ہے سکون عربی الاصل ہے اور چین ہندی الاصل۔
اگر واقعی ایسا ہے تو ان سے ترکیبِ عطفی واو کے ساتھ بنانا درست نہیں۔
بے چین کی مثال مت دیجئے گا؛ بے دھڑک، بے ڈول، بے بس، بے سُرا وغیرہ بہت معروف ہیں۔
محمد یعقوب آسی — مارچ 15، 2013 6:08 شام
پچھلے دنوں مے کی ترکیب (اضافی، توصیفی) پر خاصی گفتگو ہوئی۔ میرا مؤقف بہت واضح ہے۔
اصل لفظ مَے دو حرفی ہے۔ استاد قمر جلالوی کی غزل اس میں سند ہے۔
ترکیب کی سورت میں حروف کی ترتیب یہ ہو گی: میم، یاے، ہمزہ (یہ ہمزہ پیدا ہی ترکیب کی وجہ سے ہوا)۔
مَےءِ الفت، مَۓ الفت درست ہے۔
واوِ عطفی کی صورت میں یہ ہمزہ پیدا نہیں ہوتا:
طاعت میں تا رہے نہ مے و انگبیں کی لاگ​
دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو​
۔۔۔
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 15، 2013 6:09 شام
گھایَل: (فتحہ یائے کے ساتھ) جس کو گھاؤ لگا ہو۔ زخمی
۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔
ایک اور مثال
پایَل: (فتحہ یائے کے ساتھ) پاؤں میں باندھنے کا ایک زیور۔ پازیب
۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔
گھایَل کو گھائِل بھی لکھتے ہیں، جو میرے نزدیک محلِ نظر ہے۔
میں اسے قائل کے وزن پر سمجھا تھا۔
ہوا ہوں ان دنوں مائل کسی کا
نہ تھا میں اس قدر گھائل کسی کا(کلیات سراج)
نیز لغات میں گھایل کو متغیرات میں سے لکھا ہے:
گھائِل {گھا + اِل} (سنسکرت)
گھات + ال، گھائِل
سنسکرت زبان کے لفظ گھات اور ال سے ماخوذ گھائل اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ 1697ء کو "دیوانِ ہاشمی" میںمستعمل ملتا ہے۔
متغیّرات
گھایَل {گھا + یَل}
باقی اصل تحقیق تو آپ کے پاس ہوگی، حوالے پیش کرنے سے مقصود صرف اپنی راہنمائی ہے۔
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 15، 2013 6:11 شام
عطف تو ہے صاحب! مگر ۔۔۔
میرا خیال ہے سکون عربی الاصل ہے اور چین ہندی الاصل۔
اگر واقعی ایسا ہے تو ان سے ترکیبِ عطفی واو کے ساتھ بنانا درست نہیں۔
بے چین کی مثال مت دیجئے گا؛ بے دھڑک، بے ڈول، بے بس، بے سُرا وغیرہ بہت معروف ہیں۔

:notworthy:
محمد یعقوب آسی — مارچ 15، 2013 6:19 شام
گھائِل {گھا + اِل} (
سنسکرت
)
گھات + ال، گھائِل
سنسکرت زبان کے لفظ گھات اور ال سے ماخوذ گھائل اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ 1697ء کو "دیوانِ ہاشمی" میںمستعمل ملتا ہے۔

اس کو بھی مان لیتے ہیں صاحب۔ ڈاکٹر حقی نے اس کا تعلق گھات کی بجائے گھاؤ سے جوڑا ہے؛ بات قریب قریب کی ہے۔
ایک بات ضرور کہوں گا۔ ’’اردو وکی پیڈیا‘‘ بہت قابلِ اعتماد نہیں ہے۔
محمد یعقوب آسی — مارچ 15، 2013 6:22 شام
ہوا ہوں ان دنوں مائل کسی کا​
نہ تھا میں اس قدر گھائل کسی کا
(کلیات سراج)

مان لیا جناب ۔۔ بارِ دگر مان لیا! اس سے قطع نظر کہ ’’کسی کا مائل ہونا‘‘ آج کل نہیں چل رہا۔
’’کسی (کام، عمل) پر مائل ہونا‘‘ یا ’’کسی (ہستی، شخصیت) کی طرف مائل ہونا‘‘ معروف ہے۔ واللہ اعلم
مزمل شیخ بسمل — مارچ 15، 2013 8:11 شام

ہم کیا فرمائیں اب ؟ :laugh:[/quote]
الف عین — مارچ 16، 2013 6:48 صبح
’فرمانا‘ تو مجھے بھی بہت کچھ تھا، لیکن وقت نہیں تھا، صرف ایک جملہ لکھ کر چھٹی کر دی!! اب تو آسی بھائی نے سب کچھ کہہ ہی دیا ہے۔ گھائل کو لوگوں نے گھائِل بھی باندھا ہے، اس سے متفق ہوں، اگرچہ ہے غلط۔
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 16، 2013 6:58 صبح
ہم کیا فرمائیں اب ؟ :laugh:
[/quote]
’فرمانا‘ تو مجھے بھی بہت کچھ تھا، لیکن وقت نہیں تھا، صرف ایک جملہ لکھ کر چھٹی کر دی!! اب تو آسی بھائی نے سب کچھ کہہ ہی دیا ہے۔ گھائل کو لوگوں نے گھائِل بھی باندھا ہے، اس سے متفق ہوں، اگرچہ ہے غلط۔
نوازش ہے جناب آپ سب حضرات کی۔
مزمل شیخ بسمل — مارچ 16، 2013 7:19 صبح
اس کو بھی مان لیتے ہیں صاحب۔ ڈاکٹر حقی نے اس کا تعلق گھات کی بجائے گھاؤ سے جوڑا ہے؛ بات قریب قریب کی ہے۔
ایک بات ضرور کہوں گا۔ ’’اردو وکی پیڈیا‘‘ بہت قابلِ اعتماد نہیں ہے۔

لفظ "نزع" کا تلفظ دیکھیں
محمد یعقوب آسی — مارچ 16، 2013 9:32 صبح
نزع : وتد مفروق ہے۔
اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو​
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں​
۔۔۔۔ قمر جلالوی​
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%B3%D8%A7%D8%B2%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DB%81%D9%88%D9%86%DB%92-%D8%A7%D9%93%DB%8C%D8%A7-%D8%B4%D8%A7%D9%85%D9%84-%D9%85%DB%8C%DA%BA.61098/