غزل کا مطلع اور مقطع تنقید اور اصلاح کے لئی پیش ہے

نون جیم — نومبر 6، 2009 3:22 صبح
محبتوں کے نصاب لکھنا
تو زندگی کی کتاب لکھنا
شوخیاں اپنی بے انتہا ناصر
عنائتیں اُس کی بے حساب لکھنا
کسی بحر کے قریب قریب ہے کہ نہیں۔؟۔ اگر ہے تو کیا بحر بنے گی؟ مطلع اور مقطع کی بحور میں کافی فاصلہ نظر آتا ہے، اس فاصلہ کو کس طرح ختم کیا جا سکتا ہےَ؟ اگر ان دو اشعار پر راھتمائی مل جائے تودرمیانی اشعا پر خود مشق کرے پیش کرونگا۔
بحر کی ناپ تول کا اعشاری نظام کچھ کچھ آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے جبکہ روایتی نظام کو سمجھنا خاصا صبر آزما کام ہے خصوصاً مجھ جیسے مبتدی کے لئے!
شکریہ
فاتح — نومبر 6، 2009 3:37 صبح
مطلع تو بالکل درست طور پر بحر متقارب میں ہے:
فَعُولُ فَعلُن، فَعُولُ فَعلُن
جب کہ مقطع میں ایک آدھ لفظ کے ہیر پھیر سے وزن میں کیا جا سکتا ہے۔
اشتیاق علی — نومبر 6، 2009 4:20 صبح
ابتدائی شاعروں کیلئے تو بہترین معلومات ہیں۔ شکریہ۔ فاتح بھائي ۔
الف عین — نومبر 6، 2009 9:08 صبح
اعشاری نظام میں شاید مطلع کی تقطیع یوں ہو گی:
12122 12122
مطلع تو درست ہے، اسی بحر میں غزل کہیں۔ مقطع کو بھول جائیں فی الحال۔ وہ کسی طرح اس بحر میں آ تو جائے گا، لیکن مطلب خبط ہو جائے گا۔ اس مضمون کو دوسری غزل کے لئے اٹھا رکھیں
فاتح — نومبر 6، 2009 9:23 صبح
اعشاری نظام میں شاید مطلع کی تقطیع یوں ہو گی:
12122 12122
مطلع تو درست ہے، اسی بحر میں غزل کہیں۔ مقطع کو بھول جائیں فی الحال۔ وہ کسی طرح اس بحر میں آ تو جائے گا، لیکن مطلب خبط ہو جائے گا۔ اس مضمون کو دوسری غزل کے لئے اٹھا رکھیں
اعجاز صاحب! میں اعشاری نظام کا الجبرا نہیں جانتا ہوں لیکن اب تک جو سمجھا ہوں اس کے مطابق کیا اِس کا الگورتھم یوں نہیں ہے کہ متحرک حرف کے لیے 2 اور ساکن کے لیے 1 لکھا جاتا ہے؟
اگر ایسا ہے تو کیا اس بحر (فعول فعلن ۔ فعول فعلن) کے اعداد یوں نہ ہوں گے؟
فَ عُ و لُ فَ ع لُ ن ۔ فَ عُ و لُ فَ ع لُ ن
2 2 ا 2 2 1 2 1 ۔ 2 2 ا 2 2 1 2 1​
محمد وارث — نومبر 6، 2009 11:47 صبح
فاتح صاحب، اعجاز صاحب نے درست لکھا تھا لیکن غلط 'سمت' میں :)
اس نظام کی کلید بہت آسان ہے،
سببِ خفیف یا ہجائے بلند: 2
آدھا سببِ ثقیل (چاہے ساکن ہو یا متحرک) یا ہجائے کوتاہ: 1
یعنی
فعول یا ف عو ل یا 1 2 1
اور فعلن یا فع لن یا 22
گویا
فعول فعلن
121 22
و علی ہذا القیاس
بہت آسان ہے :)
فاتح — نومبر 6، 2009 12:13 شام
بہت شکریہ وارث صاحب۔
گویا اس کی کلید کچھ یوں ہو گی:
سبب خفیف: 2
سبب ثقیل: 11
وتد مجموع: 1 2
وتد مفروق: 2 1
فاصلہ صغریٰ: 1 1 2
فاصلہ کبریٰ: 1 1 1 2
ابھی میں نے مشق کی خاطر ایک شعر کی تقطیع اس عددی نظام کے مطابق کرنا چاہی لیکن دماغ ہی گھوم گیا اس بائنری سسٹم میں۔:grin:
محمداحمد — نومبر 6، 2009 12:30 شام
سبب خفیف: 2
سبب ثقیل: 11
وتد مجموع: 1 2
وتد مفروق: 2 1
فاصلہ صغریٰ: 1 1 2
فاصلہ کبریٰ: 1 1 1 2
ویسے کیا یہ سب چیزیں کسی بھی کم ہمت کو شاعری سے متنفر کر دینے کے لئے کافی نہیں ہیں؟
فاتح — نومبر 6، 2009 1:06 شام
محمد احمد صاحب! بجا ارشاد فرماتے ہیں آپ لیکن شعر گوئی کے لیے ان خرافات کی بجائے موزونیِ طبع ضروری ہے بالکل اسی طرح جیسے کمپیوٹر چلانے کے لیے سسٹم آرکیٹیکچر ڈیزائن پڑھنا ضروری نہیں۔
چونکہ میں ذاتی طور پر اس 1 اور 2 والے عددی نظام کو پسند نہیں کرتا یا یوں کہہ لیجیے کہ تبدیلی کو ذرا دیر سے قبول کرنے کا عادی ہوں تو کبھی اس نظام پر غور ہی نہیں کیا لہٰذا محض سیکھنے کی غرض سے اپنے ذہن میں عروض کی کلیدوں (سہگانہ اصول) کو اعداد کے ساتھ میپ کرنا چاہا تھا اور انہیں یہاں درج کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اگر میں غلط انداز میں سوچ رہا ہوں تو وارث صاحب درستگی کر دیں جیسا کہ گذشتہ مراسلے میں انہوں نے کی۔
محمداحمد — نومبر 6، 2009 2:08 شام
بہت شکریہ فاتح صاحب،
کبھی ہمت ہوئی تو ہم بھی ان بھول بھلیوں میں ضرور بھٹک کر دیکھیں گے ۔ رہی بات عددی نظام کی تو وہ ہم جیسے سہل طلب لوگوں کے لئے ہے چونکہ آپ علمِ عروض کی باریکیوں سے واقف ہیں سو عددی نظام آپ کے اطمینان کے لئے یقیناً ناکافی ہوگا۔
خوش رہیے۔
الف عین — نومبر 6، 2009 5:34 شام
بھائی وارث، اس کو تحریر کرنے میں سمجھ میں نہیں آتیہ، کہ کی بورڈ انگریزی استعمال کیا جائے یا انگریزی کا ٹیگ منتخب کیا جائے۔ اور پڑھنے والا بھی پھر دائیں سے بائیں پڑھے گا یا بائیں سے دائیں۔۔۔
اس نظام میں ایک تو ارکان کو کنورٹ کرنے میں بھی ہم کو مشکل ہوتی ہے، اور دوسرے تحریر کرنے میں۔ تمہارے حساب سے درست طریقہ کیا ہے اس لکھنے کے لئے یہاں؟
فاتح — نومبر 7، 2009 12:52 صبح
اعجاز صاحب! میں نے تو اعداد کے درمیان سپیس دے دیے ہیں لیکن یہ بھی "درست" ہے یا نہیں۔ واللہ اعلم بالصواب
محمد وارث — نومبر 9، 2009 3:12 شام
اعجاز صاحب میں ان کو اردو کی بورڈ ہی سے لکھتا ہوں لیکن الٹا، یعنی جو ہندسہ بعد والا ہوتا ہے اس کو پہلے :)
محمد وارث — نومبر 9، 2009 3:21 شام
بہت شکریہ وارث صاحب۔
گویا اس کی کلید کچھ یوں ہو گی:
سبب خفیف: 2
سبب ثقیل: 11
وتد مجموع: 1 2
وتد مفروق: 2 1
فاصلہ صغریٰ: 1 1 2
فاصلہ کبریٰ: 1 1 1 2
ابھی میں نے مشق کی خاطر ایک شعر کی تقطیع اس عددی نظام کے مطابق کرنا چاہی لیکن دماغ ہی گھوم گیا اس بائنری سسٹم میں۔:grin:

آپ نے صحیح لکھا ہے فاتح صاحب، لیکن علامتوں کو اصولِ سہ گانہ پر منطبق نہیں کیا جاتا کہ پھر یہ واقعی چیستان بن جائے گا، بلکہ چونکہ ہر لفظ ہجوں میں توڑا جا سکتا ہے جو کہ صرف دو ہی نوعیت کے ہوتے ہیں یعنی کوتاہ 1 اور بلند 2 سو اس نظام میں اسباب، اوتاد اور فواصل کی قطعاً ضرورت نہیں رہتی فقط کوتاہ اور بلند۔
مثلا مفاعیلن، م فا عی لن یا 1 2 2 2
اور فاعلاتن، فا ع لا تن یا 2 1 2 2
و علی ہذا القیاس۔
اور آپ بخوبی جانتے ہیں کہ عروض کا کوئی اطلاقیہ بنانے کیلیے اسی کی ضرورت ہی پڑے گی :)
--------
نون جیم صاحب سے معذرت کے بحث انکے مطلعے سے نکل کر کہیں اور پہنچ گئی۔ بقولِ سر سید احمد خان
فلَک یک مطلعِ خورشید دارَد با ہمہ شوکت
ھزاراں ایں چنیں دارد گریبانے کہ من دارم
:)
نون جیم — نومبر 10، 2009 1:52 صبح
نون جیم صاحب سے معذرت کے بحث انکے مطلعے سے نکل کر کہیں اور پہنچ گئی۔ بقولِ سر سید احمد خان[/size نے کہا:

فلَک یک مطلعِ خورشید دارَد با ہمہ شوکت
ھزاراں ایں چنیں دارد گریبانے کہ من دارم
:)

جی نہیں وارث صاحب، بندہ اس گفتگو بہت محظوظ ہو رہا ہے اور اس کے علاوہ اُپکے اسباق کی گزشتہ لڑیاں خوپ دلچسپی سے پڑھ رہا ہے اور بہت کچھ سیکھنے کے علاوہ لطف اندوز ہو رہا ہے۔ آپ یہ علم بانٹ کر ایک بہت پڑی نیکی کر رہے ہیں اورآپ کی طرف سے ایک صدقہ جاریہ ہے۔ جیسے جیسے لوگ اس سے فیض یاب ہونگے آپ کو اس کارِ خیر کا ثواب پہنچتا رہے گا۔ انشاءاللہ ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر سے نوازے۔ آمین۔
جیسا کہ میں نے گزارش کی تھی کی اشعار کو میزان میں تولنے کا اعشاری نظام میرے ذہن کو زیادہ پرکشش لگا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس طریقہ درس و ترریس جس میں‌کہ صوتیات ناپید ہیں، ایک قاری کے ذہن پر زیادہ بوجھ محسوس نہیں ہوتا۔ ہو سکتا ہے کہ کلاس روم میں جہاں اُستاد اور شاگرد با لمشافہ زبانی تبادلہ خیالات کرہے ہوں، وہاں یہ اتنا کارآمد نہ ہو اور روایتی طریق ہی زیادہ مناسب ہو۔ بلکہ کلاس روم میں تو 2 جمع 2 کرتے نیند کے غلبے کا امکان سو فیصد ہے!
محمد وارث — نومبر 10، 2009 5:02 صبح
نوازش محترم، دراصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ نظام ابھی شاید ہمارے روایتی اساتذہ کے ہاتھ نہیں لگا، انٹرنیٹ تو دور کی بات ہے، عروض کی صرف چند ایک جدید کتب میں اس پر اجمالی بات کی جاتی ہے۔ خاکسار نے تین سال قبل جب عروض سیکھنے کی کوشش کی تو کچھ سمجھ میں نہیں آیا لیکن جب اس نظام کا علم ہو گیا تو روایتی علم عروض بھی پانی ہو گیا :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DA%A9%D8%A7-%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%B9-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%85%D9%82%D8%B7%D8%B9-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%92-%D9%84%D8%A6%DB%8C-%D9%BE%DB%8C%D8%B4-%DB%81%DB%92.26412/