غزل کو کیسے مترنم پڑھا جائے ؟؟؟

عمران سرگانی — دسمبر 15، 2019 10:40 صبح
السلام علیکم ! میرا ایک سوال ہے ، ایک شاعر جو علم موسیقی سے آشنا نہیں ہے اور اپنی غزل مترنم کہنا چاہتا ہے تو اسکو کیا کرنا چاہئے؟؟؟
سر الف عین عظیم شاہد شاہنواز و دیگر اساتذہ اس پر کچھ روشنی ڈالیں۔۔۔ شکریہ
سید عاطف علی — دسمبر 15، 2019 10:49 صبح
تو اسکو کیا کرنا چاہئے؟؟
پہلے تو اس کو ترنم خوب سننا چاہیئے ۔ پھر خود ہی اگر شاعر (واقعی) ہے تو بحر اور ترنم کا باہمی رشتہ سمجھ آجائے گا ۔
اور جب یہ سمجھ میں آجائے گا تو ترنم سے کہہ بھی سکے گا۔
میم الف — دسمبر 15، 2019 10:56 صبح
ایک شاعر جو علم موسیقی سے آشنا نہیں ہے اور اپنی غزل مترنم کہنا چاہتا ہے تو اسکو کیا کرنا چاہئے؟؟؟
اُس کو چاہیے کہ تھوڑا بہت علمِ موسیقی سیکھ ہی لے!
محمد احسن سمیع راحلؔ — دسمبر 15، 2019 11:15 صبح
السلام علیکم ! میرا ایک سوال ہے ، ایک شاعر جو علم موسیقی سے آشنا نہیں ہے اور اپنی غزل مترنم کہنا چاہتا ہے تو اسکو کیا کرنا چاہئے؟؟؟
سر الف عین عظیم شاہد شاہنواز و دیگر اساتذہ اس پر کچھ روشنی ڈالیں۔۔۔ شکریہ
عمران صاحب، آداب۔
عروض کی پابند شاعری کی سب سے بڑی خوبصورتی میری نظر میں اس کی فطری موسیقیت ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر شاعر اعلیٰ پائے کا موسیقار بھی ہو اور خود کوئی دھن بنانے پر قادر ہو۔ اگر آواز اچھی ہو تو آدمی کسی بھی مشہور طرز پر اپنا کلام سنا سکتا ہے۔ آپ یوٹیوب پر ایسے شعراء کو سنیں جو اپنے ترنم کے لئے مشہور ہوں جیسے منظرؔ بھوپالی، مظفرؔ واثی مرحوم وغیرہ ۔۔۔ یا پھر کسی غزل گائیک کی مشہور غزلوں کو بغور سنیں۔ آپ کا جو بھی کلام اس بحر میں موزوں ہے، اسے اس طرز یا دھن میں روانی سے، بغیر اٹکے گنگنانے کی کوشش کریں۔ ذرا سی مشق سے آپ اپنے کلام کو ترنم کے ساتھ پڑھنے پر قادر ہوجائیں گے۔ مثال کے طور پر آنجہانی جگجیت سنگھ کی مشہور غزل ہے ’’آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا‘‘۔ اس دھن میں ’’فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن‘‘ کے وزن پر کوئی بھی غزل گائی جاسکتی ہے۔ بعینہ یہی معاملہ دیگر بحور کا بھی ہے۔ کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ ایک طرز یا دھن میں متعدد بحروں میں موزوں کلام کو گایا جاسکتا ہے۔ مثلاً، جگجیت سنگھ ہی کی گائی ایک غزل ہے ’’ہوش والوں کو خبر کیا، بےخودی کیا چیز ہے‘‘۔ یہ غزل رمل میں ہے یعنی فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن۔ اب اس دھن میں اس وزن کی تو ساری غزلیں گائی ہی جاسکتی ہیں مگر تھوڑی سی مشق سے بحر ہندی میں موزوں کلام بھی روانی سے گایا جاسکتا ہے۔
تو بھائی پھر کب عنایت کررہے ہیں ترنم کے ساتھ اپنا کلام؟؟؟ :)
شکیب — دسمبر 15، 2019 12:29 شام
آٹو ٹیون۔
عمران سرگانی — دسمبر 15، 2019 5:10 شام
عمران صاحب، آداب۔
عروض کی پابند شاعری کی سب سے بڑی خوبصورتی میری نظر میں اس کی فطری موسیقیت ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر شاعر اعلیٰ پائے کا موسیقار بھی ہو اور خود کوئی دھن بنانے پر قادر ہو۔ اگر آواز اچھی ہو تو آدمی کسی بھی مشہور طرز پر اپنا کلام سنا سکتا ہے۔ آپ یوٹیوب پر ایسے شعراء کو سنیں جو اپنے ترنم کے لئے مشہور ہوں جیسے منظرؔ بھوپالی، مظفرؔ واثی مرحوم وغیرہ ۔۔۔ یا پھر کسی غزل گائیک کی مشہور غزلوں کو بغور سنیں۔ آپ کا جو بھی کلام اس بحر میں موزوں ہے، اسے اس طرز یا دھن میں روانی سے، بغیر اٹکے گنگنانے کی کوشش کریں۔ ذرا سی مشق سے آپ اپنے کلام کو ترنم کے ساتھ پڑھنے پر قادر ہوجائیں گے۔ مثال کے طور پر آنجہانی جگجیت سنگھ کی مشہور غزل ہے ’’آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا‘‘۔ اس دھن میں ’’فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن‘‘ کے وزن پر کوئی بھی غزل گائی جاسکتی ہے۔ بعینہ یہی معاملہ دیگر بحور کا بھی ہے۔ کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ ایک طرز یا دھن میں متعدد بحروں میں موزوں کلام کو گایا جاسکتا ہے۔ مثلاً، جگجیت سنگھ ہی کی گائی ایک غزل ہے ’’ہوش والوں کو خبر کیا، بےخودی کیا چیز ہے‘‘۔ یہ غزل رمل میں ہے یعنی فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن۔ اب اس دھن میں اس وزن کی تو ساری غزلیں گائی ہی جاسکتی ہیں مگر تھوڑی سی مشق سے بحر ہندی میں موزوں کلام بھی روانی سے گایا جاسکتا ہے۔
تو بھائی پھر کب عنایت کررہے ہیں ترنم کے ساتھ اپنا کلام؟؟؟ :)
میں نے اپنے ایک غزل اپنے کچھ طالب علموں کو گانے کے لئے دی جو سکول نعت پڑھا کرتے ہیں۔۔۔ وہ چار گانوں کی طرز پر تیار کر لائے۔۔۔ اور یقین جانئے ان گانوں کی بحر بھی وہی تھی جو اس غزل کی تھی حالانکہ بچے بحروں سے واقفیت نہیں رکھتے تھے۔۔۔
انس معین — دسمبر 23، 2019 5:05 شام
محمد خلیل الرحمٰن
ہمارے خلیل بھائی اس فن پر بہت مہارت رکھتے ہیں ۔
انس معین — دسمبر 23، 2019 5:08 شام
السلام علیکم ! میرا ایک سوال ہے ، ایک شاعر جو علم موسیقی سے آشنا نہیں ہے اور اپنی غزل مترنم کہنا چاہتا ہے تو اسکو کیا کرنا چاہئے؟؟؟
سر الف عین عظیم شاہد شاہنواز و دیگر اساتذہ اس پر کچھ روشنی ڈالیں۔۔۔ شکریہ

میں تو غزل کہتا ہی گنگنا کر ہوں ۔ خلیل بھائی کے ایک مراسلے نے میرا عروض والا مسلہ حل کر دیا ۔
بحور نام ہی ترنم کا ہے ۔ آپ غزل گنگنائیں نا بھی تو اگر بحر کے مطابق پڑھیں تو ایک لے محسوس ہو گا آپ کو ۔
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 23، 2019 5:17 شام
میں تو غزل کہتا ہی گنگنا کر ہوں ۔ خلیل بھائی کے ایک مراسلے نے میرا عروض والا مسلہ حل کر دیا ۔
بحور نام ہی ترنم کا ہے ۔ آپ غزل گنگنائیں نا بھی تو اگر بحر کے مطابق پڑھیں تو ایک لے محسوس ہو گا آپ کو ۔
بہت شکریہ انس معین بھائی!
لیجیے عمران سرگانی بھائی کے لیے ہم اپنے مضمون کا لنک بھی لگائے دیتے ہیں۔
شاعری سیکھنے کا بنیادی قاعدہ
عمران سرگانی — دسمبر 23، 2019 8:42 شام
میں تو غزل کہتا ہی گنگنا کر ہوں ۔ خلیل بھائی کے ایک مراسلے نے میرا عروض والا مسلہ حل کر دیا ۔
بحور نام ہی ترنم کا ہے ۔ آپ غزل گنگنائیں نا بھی تو اگر بحر کے مطابق پڑھیں تو ایک لے محسوس ہو گا آپ کو ۔
بالکل درست کہا آپ نے۔۔۔
عمران سرگانی — دسمبر 23، 2019 8:43 شام
بہت شکریہ انس معین بھائی!
لیجیے عمران سرگانی بھائی کے لیے ہم اپنے مضمون کا لنک بھی لگائے دیتے ہیں۔
شاعری سیکھنے کا بنیادی قاعدہ
بہت شکریہ جناب۔۔۔ پہلے بھی اس مضمون کا مطالعہ کر چکا ہوں۔۔۔ بہت خوب ہے۔۔ن

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DA%A9%D9%88-%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92-%D9%85%D8%AA%D8%B1%D9%86%D9%85-%D9%BE%DA%91%DA%BE%D8%A7-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%9F%D8%9F%D8%9F.109559/