غزل: کوئی بچوں کی شرارت کی شکایت نہ کرے

ثاقب سراج نگری — مئی 18، 2016 12:18 صبح
کوئی بچوں کی شرارت کی شکایت نہ کرے
کیسے ممکن ہے کوئی بچہ شرارت نہ کرے
تتلیاں کھیلنے آتیں نہیں اب گلشن میں
مالی خائن ہے اسے کہہ دو خیانت نہ کرے
دیکھ کر حال یمن مصر و عراق و تونس
ایسا لگتا ہے کہ اب کوئی بغاوت نہ کرے
شام پوری طرح اب ہونے لگا ہے برباد
کاش اب روس اسد کی یوں حمایت نہ کرے
باغ الفت کو میں سینچا ہوں جگر کے خوں سے
کوئی بھی مجھ کو بھکانے کی جسارت نہ کرے
خود ہی شیشے کے وہ گھر میں ہے اسے یہ کہہ دو
مجھ پہ پتھر وہ چلانے کی حماقت نہ کرے
تیری خاطر ہی سجی آج کی محفل ثاقب
ہے یہ ناکام اگر تو ہی خطابت نہ کرے۔
عباد اللہ — مئی 18، 2016 12:38 صبح
اصلاح تو اساتذہ ہی فرمائیں گے فقیر ہے داد و تحسین حسبِ ضرورت و منشا وصول کیجئے
دیکھ کر حال یمن مصر و عراق و تونس
ایسا لگتا ہے کہ اب کوئی بغاوت نہ کرے
مجھے تونس کا لفظ اچھا نہیں لگا
خیر یہ ایک عام قاری کی رائے ہے ہو سکتا ہے شاعری میں اس کی گنجائش ہو کیا عجب کہ یہی زیادہ فصیح ہو
دوسرا مصرع
ایسا لگتا ہے کہ اب کوئی بغاوت نہیں کرے گا
نہ کرے میں جو حکمیہ انداز ہے وہ ایسا لگتا ہے کے ساتھ نہیں جچتا
یہ بھی ذاتی رائے ہے
غزل پر بہت داد
ثاقب سراج نگری — مئی 18، 2016 12:45 صبح
بہ
اصلاح تو اساتذہ ہی فرمائیں گے فقیر ہے داد و تحسین حسبِ ضرورت و منشا وصول کیجئے
مجھے تونس کا لفظ اچھا نہیں لگا
خیر یہ ایک عام قاری کی رائے ہے ہو سکتا ہے شاعری میں اس کی گنجائش ہو کیا عجب کہ یہی زیادہ فصیح ہو
دوسرا مصرع
ایسا لگتا ہے کہ اب کوئی بغاوت نہیں کرے گا
نہ کرے میں جو حکمیہ انداز ہے وہ ایسا لگتا ہے کے ساتھ نہیں جچتا
یہ بھی ذاتی رائے ہے
غزل پر بہت داد
بہت بہت شکریہ بھائی
اللہ آپ کو جزاء خیر سے نوازے
آپ نے اپنی رائے کا اظہار مخلصانہ انداز میں کیا۔
اساتذہ کی آراء کا انتظار ہے، پھر ان شاء اللہ العزیز آپ اور استاذ شعراء حضرات کی اصلاح کی روشنی میں ضرور تعدیل کروں گا۔
اور
" بغاوت نہ کرے" سے امید کا اظہار مقصود ہے۔
عباد اللہ — مئی 18، 2016 1:59 صبح
پھر ان شاء اللہ العزیز آپ اور استاذ شعراء حضرات کی اصلاح کی روشنی میں
اساتذہ کی بات اور ہے ان کی رائے کو میں بھی گرہ میں باندھ کر رکھتا ہوں البتہ میری یاوہ گوئی پر زیادہ دھیان نہ دیجئے
الف عین — مئی 18، 2016 6:52 صبح
دو اشعار مکمل سیاسی ہیں۔ جو کسی اخبار میں بھلے لگ سکتے ہیں لیکن شاعری نہیں۔
باغ الفت کو میں سینچا ہوں جگر کے خوں سے
کوئی بھی مجھ کو بھکانے کی جسارت نہ کرے
’میں سینچا ہوں‘ غلط ہے۔ ’میں نے سینچا ہے‘ ہونا چاہئے۔
بھکانے؟ اگر یہ بھگانے ہے تو ناگوار لفظ ہے۔ الفاظ بدل کر کوشش کریں
ثاقب سراج نگری — مئی 18، 2016 8:25 صبح
اللہ استاد محترم کو جزاء خیر سے نوازے ۔
"بھگانے " ہے۔
ان شاء اللہ تعدیل کی پوری کوشش کروں گا ۔
اکمل زیدی — مئی 18، 2016 8:29 صبح
دو اشعار مکمل سیاسی ہیں۔ جو کسی اخبار میں بھلے لگ سکتے ہیں لیکن شاعری نہیں۔
سر . . . حالات حاضرہ پر بھی تو غزل لکھی جاتی ہے تو اس حوالے سے فٹ نہیں ہوسکتے کیا . .قطع نظر کسی اتفاق یا اختلاف ؟
شاہد شاہنواز — مئی 20، 2016 8:50 صبح
سر . . . حالات حاضرہ پر بھی تو غزل لکھی جاتی ہے تو اس حوالے سے فٹ نہیں ہوسکتے کیا . .قطع نظر کسی اتفاق یا اختلاف ؟
حالاتِ حاضرہ پر نظم تو ہوسکتی ہے، غزل میں محض اشارہ کیا جاتا ہے۔ واضح طور پر ممالک کے نام نہیں لیے جاتے کیونکہ ایسا کرنا اسے متنازعہ اور غیر فصیح بنا دیتا ہے جو ایک ناگوار بات ہے۔ حالانکہ بہت سے شعراء نے یہ روایت بدلنے کی کوشش کی لیکن وقت نے ثابت کیا کہ یہ اٹل ہے۔ ان کی غزل محض ان ہی کی غزل کہلائی۔ غزل کی تعریف کے اعتبار سے ہر حال میں اسے مسترد ہی کیا گیا اور خوب نکتہ چینی ہوئی۔
محمداحمد — مئی 20، 2016 9:07 صبح
کوئی بچوں کی شرارت کی شکایت نہ کرے
کیسے ممکن ہے کوئی بچہ شرارت نہ کرے
تتلیاں کھیلنے آتیں نہیں اب گلشن میں
مالی خائن ہے اسے کہہ دو خیانت نہ کرے

واہ
کیا کہنے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%A8%DA%86%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%B1%D8%AA-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA-%D9%86%DB%81-%DA%A9%D8%B1%DB%92.89956/