غزل کی اصلاح درکار ہے۔

محمد زید (فیصل آباد) — مارچ 13، 2017 3:05 شام
یہ شہر خراب حالوں کا ہے
کچھ آفتوں کچھ وبالوں کا ہے
معلوم نہیں یہ بات مجھ کو
اب ہجر یہ کتنے سالوں کا ہے
کیونکر ہو عزیز مجھ کو فرقت
بس شوق مجھے وصالوں کا ہے
ہر سمت جواب کی ہے طالب
گویا یہ عدم سوالوں کا ہے
خوش شکل و خوش بدن وہ ہائے
کیسا یہ نشہ خیالوں کا ہے
محمد زید (فیصل آباد) — مارچ 13، 2017 3:25 شام
مفعول مفاعلن فعولن
اساتذہ کرام سے گزارش ہے کہ مندرجہ بالا افاعیل پر پرکھ کر اصلاح فرمائیں۔
الف عین — مارچ 14، 2017 9:50 صبح
ردیف میں اسقاط اچھا نہیں لگ رہا ہے۔ جمع کی بجائے محض واحد میں کہیں
ھال کا ہے، وبال کا ہے
تو بہتر ہو گا۔
باقی مشورے بعد میں
محمد زید (فیصل آباد) — مارچ 15، 2017 1:48 صبح
ردیف میں اسقاط اچھا نہیں لگ رہا ہے۔ جمع کی بجائے محض واحد میں کہیں
ھال کا ہے، وبال کا ہے
تو بہتر ہو گا۔
باقی مشورے بعد میں
سر اس طرح میں خیال کو درست طریقے سے بیان نہیں دے پایا، جسکی وجہ سے ردیف جمع میں لایا۔ یہ میرے بالکل ابتدائی چند اشعار ہیں جو میں نے کہے ہیں۔ آپ نظر ثانی فرما لیں اور باقی مفید آراء سے بھی نواز دیں۔ اگر آپ کہیں کہ ردیف کو واحد میں لانا ناگزیر ہے، تو پھر میں دوبارہ کوشش کروں گا۔
الف عین — مارچ 16، 2017 11:02 صبح
تو ردیف واحد کر کے پھر کہنے کی کوشش کریں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%AF%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%DB%81%DB%92%DB%94.95282/