غزل کی اصلاح مطلو ب ھے۔۔۔

عابد علی خاکسار — مئی 2، 2017 10:24 صبح
استاد محترم الف عین صاحب کچھ دوبارہ کوشش کی ہے۔۔
تیرے سنگ ء آستاں تک آ گئے۔
ہم بھی حیراں ہیں کہاں تک آگیے۔
ظلم سہنے کی نہ طاقت جب رہی۔
بے ساختہ آہ و فغاں تک آ گئے۔
مت ہنسو اب تو بجھادو آگ کو۔
شعلے میرے آشیاں تک آ گئے۔
دی صدا بھی دوستوں نے اس گھڑی۔
جب بھنور کے درمیاں تک آ گئے۔
ان کی محفل میں یہ سمجھا خاکسار۔
خاک ہو کے آسماں تک آ گئے۔
محمد تابش صدیقی — مئی 2، 2017 10:28 صبح
پیارے بھائی مصرعوں کے اختتام پر ختمہ نہیں لگائی جاتی۔ :)
عابد علی خاکسار — مئی 2، 2017 10:34 صبح
پیارے بھائی مصرعوں کے اختتام پر ختمہ نہیں لگائی جاتی۔ :)
بہت شکریہ اصل میں ایسے لکھنے کا عادی ہو چکا ہوں فیس بک پر مصرعے الگ الگ کرنے کے لیے۔ انشاءاللہ کوشش کروں گا آئندہ یہ غلطی نہ ہو۔ بہت مہربانی
الف عین — مئی 2، 2017 3:08 شام
اس کے اوزان دیکھیں۔ ساقط البحر ہو گیا ہے
ظلم سہنے کی نہ طاقت جب رہی۔
بے ساختہ آہ و فغاں تک آ گئے۔
دوسرا مصرع، صرف ساختہ وزن میں آتا ہے
عابد علی خاکسار — مئی 2، 2017 8:51 شام
اس کے اوزان دیکھیں۔ ساقط البحر ہو گیا ہے
ظلم سہنے کی نہ طاقت جب رہی۔
بے ساختہ آہ و فغاں تک آ گئے۔
دوسرا مصرع، صرف ساختہ وزن میں آتا ہے
جی جی غلطی ہے۔
ہم بھی پھر آہ و فغاں تک آگئے یا پھر بےجھجک آہ وفغاں تک آگئے کون سا مناسب رہے گا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%85%D8%B7%D9%84%D9%88-%D8%A8-%DA%BE%DB%92%DB%94%DB%94%DB%94.96162/