غزل کی اصلاح مطلو ب ھے۔۔۔

عابد علی خاکسار — مئی 4، 2017 9:15 صبح
محترم استاد الف عین صاحب
محترم ریحان قریشی صاحب
محترم عظیم صاحب
محترم عاطف ملک صاحب
فعولن مفاعیلن فعولن مفاعیلن
نگاہوں میری اب سماں موت کا ٹھہرا
مری جان کا دشمن مرا رہنما ٹھہرا
تمازت سے سورج کی جلی ہے جہاں دنیا
وہیں دھوپ میں جا کے مرا قافلہ ٹھہرا
نہ تھا علم جس کو رخ کدھر ہے ہواوں کا
وہی بے خبر آ کے مرا ناخدا ٹھہرا
بہت تھک گیا میں چلتے چلتے مگر ہائے
وہی دوریاں ان سے وہی فاصلہ ٹھہرا
جو الزام دیتا تھا وہ سارے زمانے کو
وہ تو آپ ہی مجرم اسی جرم کا ٹھہرا
جسے دیکھ کر رستے میں روتا رہا اکثر
مری جیت کی پہچاں وہی آبلہ ٹھہرا
میں سچ بولتا تھا سامنے اس لیے شائد
نہ کوئ یہاں انساں مرا آشنا ٹھہرا
بڑی حسرتیں تھیں دل میں عابد ابھی لیکن
بڑا بے وفا یہ وقت بھی شام کا ٹھہرا
محمد عظیم الدین — مئی 4، 2017 9:27 صبح
تمازت سے سورج کی جلی ہے جہاں دنیا
وہیں دھوپ میں جا کے مرا قافلہ ٹھہرا

میں سچ بولتا تھا سامنے اس لیے شائد
نہ کوئ یہاں انساں مرا آشنا ٹھہرا

بڑی حسرتیں تھیں دل میں عابد ابھی لیکن
بڑا بے وفا یہ وقت بھی شام کا ٹھہرا
بہت خوب عابد صاحب
عابد علی خاکسار — مئی 4، 2017 10:03 صبح
بہت بہت شکریہ محمد عظیم الدین صاحب
الف عین — مئی 4، 2017 5:10 شام
عزیزم ریحان نے ربط بھی دیا تھا غالب کی مستعمل بحروں کا۔ لیکن عابدعلی خاکسار ایجاد بندہ قسم کی بحریں آزماتے جا رہے ہیں!!!
عابد علی خاکسار — مئی 6، 2017 4:35 صبح
عزیزم ریحان نے ربط بھی دیا تھا غالب کی مستعمل بحروں کا۔ لیکن عابدعلی خاکسار ایجاد بندہ قسم کی بحریں آزماتے جا رہے ہیں!!!
ہاہا سر یہ تو مستعمل بحر ہے نا
محمد ریحان قریشی — مئی 6، 2017 6:42 صبح
ہاہا سر یہ تو مستعمل بحر ہے نا
یہ بحر عربی میں بہت مستعمل ہے۔ اردو، فارسی میں بھی یقیناً استعمال ہوئی ہے مگر بہت کم۔ اس لیے اسے مانوس بحر قرار نہیں دیا جا سکتا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%85%D8%B7%D9%84%D9%88-%D8%A8-%DA%BE%DB%92%DB%94%DB%94%DB%94.96208/