غزل کی اصلاح مطلو ب ھے۔۔۔

عابد علی خاکسار — مئی 26، 2017 6:58 شام
الف عین صاحب
ریحان قریشی صاحب
امجد راجا صاحب
عظیم صاحب
یہاں پر ہے وہی پیکر وفا کا
جسے شکوہ نہیں جور و جفا کا
غریبوں کا بنا ہوں جو مسیحا
ثمر ہوں میں کسی کی التجا کا
سفینے پر ہوں میں آلء نبی کے
مجھے کیا ڈر ہے سیلاب ء بلا کا
میں مٹ تو جاوں گا لیکن مرے بعد
رہے گا تذکرہ میری وفا کا
شفا کیا ہے؟ مگر چل پھر رہا ہوں
بھرم تو رکھنا ہے اس کی دوا کا
یہاں پر بے حیائ زور پر ہے
سفر اچھا رہا ہے ارتقا کا
یہ غازے کی چمک چہرے پہ تو ہے
"مگر اندر اندھیرا ہے بلا کا "
خلوصء دل سے جو مانگے نہ عابد
اثر ہوتا نہیں اس کی دعا کا
عابد علی خاکسار
محمد ریحان قریشی — مئی 26، 2017 7:06 شام
اچھی غزل ہے۔
بھرم تو رکھنا ہے اس کی دوا کا
ْ
رکھنا کے الف کا اسقاط اچھا نہیں۔
عابد علی خاکسار — مئی 26، 2017 7:34 شام
اچھی غزل ہے۔
ْ
رکھنا کے الف کا اسقاط اچھا نہیں۔
بہت شکریہ اگر اس کی تھوڑی وضاحت فرما دیں میری اصلاح ہو جاے گی
محمد ریحان قریشی — مئی 26، 2017 7:53 شام
بہت شکریہ اگر اس کی تھوڑی وضاحت فرما دیں میری اصلاح ہو جاے گی
دراصل الف کا گرنا روانی کو مجروح کرتا ہے۔ گو کہ وزن یوں بھی درست ہے مگر بہتری کی گنجائش موجود ہے۔
الف عین — مئی 27، 2017 7:16 صبح
بھرم رکھنا ہے بس۔۔۔۔۔۔ کر دیں۔
مطلع میں ایطا کا سقم ہے۔ یعنی اس حساب سے قوافی صفا۔ وفا ہونے چاہیے تھے
یہ غازے کی چمک چہرے پہ تو ہے"
بھی روانی کا طالب ہے۔ یوں کہیں تو
رخ روشن پہ غازے کی چمک ہے
عابد علی خاکسار — مئی 27، 2017 8:12 شام
بھرم رکھنا ہے بس۔۔۔۔۔۔ کر دیں۔
مطلع میں ایطا کا سقم ہے۔ یعنی اس حساب سے قوافی صفا۔ وفا ہونے چاہیے تھے
یہ غازے کی چمک چہرے پہ تو ہے"
بھی روانی کا طالب ہے۔ یوں کہیں تو4
رخ روشن پہ غازے کی چمک ہے
بہت بہت شکریہ سر۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%85%D8%B7%D9%84%D9%88-%D8%A8-%DA%BE%DB%92%DB%94%DB%94%DB%94.96771/