غزل کے اشعار برائے اصلاح "فرق پر تاج نہیں، ہاتھ میں دستار نہیں"

مہدی نقوی حجاز — جنوری 30، 2013 1:00 شام
ایک نا تمام غزل کے تین اشعار:
فرق پر تاج نہیں ہاتھ میں دستار نہیں
ہے شب ہجر مری نبض میں رفتار نہیں
مورد بحث نہیں عشق کہ ہو جاتا ہے
قابل کفر نہیں لائق اقرار نہیں
جان کیسی بھی ہے پیاری ہے ہمیں اوروں سے
خواہش وصل صنم ہے رسن دار نہیں
الف عین — جنوری 31، 2013 6:17 صبح
پہلا شعر۔۔ سمجھ ہی میں نہیں آ سکا اپنی ناقص عقل کی وجہ سے۔
اور تیسرا شعر۔ دو لخت بھی لگتا ہے، اور ردیف قوافی کا باقی مصرع سے تعلق بھی نطر نہیں آتا۔
دوسرا شعر درست ہے، لیکن اقرار کے معروف معنی تکفیر کے مخالف نہیں ہیں، اگرچہ درست ہیں۔
مہدی نقوی حجاز — فروری 1، 2013 8:49 صبح
پہلا شعر۔۔ سمجھ ہی میں نہیں آ سکا اپنی ناقص عقل کی وجہ سے۔
اور تیسرا شعر۔ دو لخت بھی لگتا ہے، اور ردیف قوافی کا باقی مصرع سے تعلق بھی نطر نہیں آتا۔
دوسرا شعر درست ہے، لیکم اقرار کے معروف معنی تکفیر کے مخالف نہیں ہیں، اگرچہ درست ہیں۔
جناب ویسے تو عقل ناقص ہماری ہے اور یقینا شعر باندھنے میں استباہ ہے۔ پھر بھی کچھ ناقابل "توجیہات" پیش ہیں:
پہلا شعر سختی شب ہجر پر دال ہے۔
دوسرے شعر کے بارے آپ کا خیال یقینا درست ہے۔ پر اور کچھ ہو نہیں سکتا تھا اس بارے۔
تیسرے شعر کے معنی ہیں کہ ہم جان کو اپنے عشق پر قربان نہیں کر سکتے۔ اگر ہمیں وصال نصیب نہ ہوا تو ہم ہرگز سولی پر چڑھ جانے کی تاب نہیں رکھتے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DA%A9%DB%92-%D8%A7%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%81%D8%B1%D9%82-%D9%BE%D8%B1-%D8%AA%D8%A7%D8%AC-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA%D8%8C-%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AF%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.59319/