بہت شکریہ سر ! اپنی کم علمی پر نادم ہوں...
شرمندہ مت کیجیے۔
ایک گزارش ہے کہ اگرآپ کچھ جگہوں کی نشاندہی فرما دیں جہاں پر تقطیع ناقص ہوئی تو اس سے مجھے مشق کرنے میں آسانی رہے گی اور بیان شدہ خامیوں کو دہرانے سے گریز کرنا بھی کسی قدرآسان ہو جائے گا.
حاضر۔ حسبِ ارشاد:
ہم تڑپیں اور وہ کوئی دوا نہ کرے
ہم تڑپیں کا ٹکڑا "فاعلن" پر پورا نہیں اترتا۔
دل وہ مِلا ہے اُس کو نوید کہ اُف
یہ مصرع کاملاً خارج از بحر ہے۔
باقی تمام مصرعوں میں وہی غلطی ہے کہ فعلن کو فَعَلُن قیاس کیا گیا ہے جو کم از کم اس بحر میں روا نہیں۔
محترم مزمل شیخ بسمل صاحب نے '' اردو میں مستعمل اور مانوس بحور کے ضمن میں جو فرمایا وہ یوں ہے (فاعلن فاعلن فاعلن فعلن) گو کہ یہ وزن کوئی مشہور یا مستعمل نہیں ہے لیکن اس لیے عرض کردیا کہ یہ ایسا نا مطبوع بھی نہیں اگر کوئی استعمال کرنا چاہے تو شوق سے کرے۔)
یہ موصوف نے ایک اور بحر کے بارے میں فرمایا ہے:
vi۔ مربع مخلع مضاعف: فاعلن فعَل فاعلن فعَل
(گو کہ یہ وزن کوئی مشہور یا مستعمل نہیں ہے لیکن اس لیے عرض کردیا کہ یہ ایسا نا مطبوع بھی نہیں اگر کوئی استعمال کرنا چاہے تو شوق سے کرے۔)
آپ نے جو بحر استعمال کی ہے وہ یہ ہے:
iv۔ مثمن سالم مقطوع: فاعلن فاعلن فاعلن فعلن
ویسے میری یادداشت میں اس بحر میں کوئی معروف غزل نہیں ہے۔ ممکن ہے یہ وزن قدما کے استعمال میں رہا ہو۔
سر یہاں پرایک اوربات ذہین میں یہ بھی آتی ہے کہ اگر فعلن کواستعمال کیا جا سکتا ہے تو فَعِلن کو استعمال کس وجہ سے نہیں کیا جاتا....
بعض بحور میں اس کی اجازت ہے، نوید بھائی۔ مگر زیرِ بحث وزن اس ذیل میں نہیں آتا۔ توجیہات دو طرح کی ہو سکتی ہیں۔ ایک تو زحافات کے لحاظ سے جو نہایت تکنیکی معاملہ ہے اور بالفعل آپ کے لیے ان بحثوں میں پڑنا مفید نہیں۔ دوسری آہنگ کے لحاظ سے سو یہ آپ پر وقت کے ساتھ ساتھ واضح ہو جائے گا۔ آپ خود محسوس کریں گے کہ بعض بحور میں فعلن اور فَعَلُن ہم آہنگ معلوم ہوتے ہیں جبکہ بعض میں ان کا اجتماع سماعت پر گراں گزرتا ہے۔