غزل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ برائے اصلاح

شزہ مغل — جون 3، 2015 8:14 شام
یہ چاند بھی تیرا ہے ستارے بھی تیرے "شزہؔ"
یہ برف بھی تیری ہے انگارے بھی تیرے "شزہؔ"
تو چاہے تو ہر طوفان کا رخ بدل جائے
یہ سمندر بھی تیرا ہے کنارے بھی تیرے "شزہؔ"
لہو بنیں آنسو۔ لبوں سے مسکرا
یہ درد بھی تیرا ہے درد کے مارے بھی تیرے "شزہؔ"
آتش زمانہ ہی بنائے گی تجھے کندن
یہ تپش بھی تیری ہے شرارے بھی تیرے "شزہؔ"
اپنا گھر چھوڑ کر نہ بھاگ! بزدل!
یہ چارہ گر بھی تیرا ہے بےچارے بھی تیرے "شزہؔ"
شزہ مغل — جون 3، 2015 8:19 شام
:AOA:
برائے مہربانی اصلاح بھی فرمائیے نیز عنوان کے انتخاب کا مشورہ بھی دیجیئے۔
محمد اطھر طاھر — جون 3، 2015 9:49 شام
غلط فہمی میں مت ہنا
خوبصورت نہیں ھو تم
نہ تیرے سر سریلے ھیں
نہ تیرے نین نشیلے ھیں
نہ بات میں کمال ھے
نہ حسن بے مثال ھے
بس تو غبار خاک تھا
بس تو غبار خاک ھے
رفاقت ھے نہ الفت ھے
نہ حاصل تم سے راحت ھے
نہ تم سے کوئی چاہت ھے
نہ ہی تیری ضرورت ھے
محمد اطھر طاھر — جون 3، 2015 9:50 شام
نہ دیکھ حیراں آنکھوں سے
نہ دیکھ ویراں آنکھوں سے
میرے الفاظ مت سوچو
وہ سب خام خیالی تھی
بس دل رکھنے کی باتیں تھیں
میرے ان چار لفظوں نے
تجھے مغرور کرڈالا
مجھے مغرور انسانوں سے
نفرت ھے بغاوت ھے
مجھے تم سے نفرت ھے
محمد اطھر طاھر — جون 3، 2015 9:51 شام
میرے آگے میرے پیچھے
تم سے بہتر ہزار چہرے
میں جو چاھوں وہ قدم چومیں
یہ میرے اپنے مزاج پر ھے
میری طبیعت پر منحصر ھے
تم آئینہ دیکھو غور سے
غلط فہمی میں مت رہنا
تخلیق
محمد اطہر طاہر
محمد اطھر طاھر — جون 3، 2015 9:54 شام
اصلاح تو شاید ہم کر نہیں پائیں گے. لیکن جواب حاضر خدمت ھے. اگر ھو سکے تو اسکی اصلاح ضرور کر دیجئے
فاروق احمد بھٹی — جون 4، 2015 2:56 صبح
یہ چاند بھی تیرا ہے ستارے بھی تیرے "شزہؔ"
یہ برف بھی تیری ہے انگارے بھی تیرے "شزہؔ"
تو چاہے تو ہر طوفان کا رخ بدل جائے
یہ سمندر بھی تیرا ہے کنارے بھی تیرے "شزہؔ"
لہو بنیں آنسو۔ لبوں سے مسکرا
یہ درد بھی تیرا ہے درد کے مارے بھی تیرے "شزہؔ"
آتش زمانہ ہی بنائے گی تجھے کندن
یہ تپش بھی تیری ہے شرارے بھی تیرے "شزہؔ"
اپنا گھر چھوڑ کر نہ بھاگ! بزدل!
یہ چارہ گر بھی تیرا ہے بےچارے بھی تیرے "شزہؔ
غزل بلا عنوان ہوتی ہے۔۔ البتہ نظم کا عنوان ضرور ہوتا ہے۔
شاعری میں ایک چیز ہوتی ہے وزن اس کا ہونا بہت ضروری ہے۔ وگرنہ اس کے بغیر یوں سمجھیے آپ کی شاعری ہے ہی نہیں اور یہ ابتدائی چیز ہے۔آپ کی پیش کردہ غزل میں سے صرف آخری مصرعہ بحر پہ پورا اترتا ہے ۔ باقی کوئی بھی نہیں۔
باقی خیال اچھے ہیں۔ ان کو وزن میں لے آئیے تو اور اچھے لگیں گے۔۔
والسلام
الف عین — جون 4، 2015 3:29 صبح
ہر شعر میں تخلص اچھا بھی نہیں لگتا اور یہاں بحر سے خارج بھی کر رہا ہے۔ نزدیک ترین بحر
یہ چاند بھی تیرا ہے ستارے بھی ہیں تیرے
یہ برف بھی تیری ہے، شرارے بھی ہیں تیرے
اس طرح باقی اشعار کو بحر میں لائیں
نفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
نظام الدین — جون 5، 2015 12:01 شام
آتش زمانہ ہی بنائے گی تجھے کندن
یہ تپش بھی تیری ہے شرارے بھی تیرے
بہت عمدہ لیکن "شزہؔ" کی تکرار درست نہیں
ادب دوست — جون 14، 2015 4:45 شام
اصلاح کےلیے علیحدہ علیحدہ مراسلہ استعمال کیا جائے تو بہتر ہے ۔ کسی دوسرے کے مراسلے میں اپنا کلام رکھنا مجھے بہت محسوس ہوا ۔۔۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.82463/