غزلِ اصلاح درکار ہےض

shakeelirfan — ستمبر 7، 2014 9:12 شام
السلام علیکم
آ پ تمام حضرات سے درخواست ہے کے اپنی قیمتی آرا سے نوازیے۔
اشک برساکےگھرگیاکب کا
لوگو!عرفان مرگیا کب کا
بس چھلکنے کی دیر یے ساقی
جام یہ دل کا بھر گیا کب کا
جو بھی تھا ' رسمِ دنیا تھی'ورنہ
وعدےسےوہ مکر گیا کب کا
کام نبٹا سکے نا ہم کوئی
وقت ہے کہ گزرگیا کب کا
آ ج ویرانی دیکھی ہے میری
عشق تنہا سا کر گیا کب کا
عظیم — ستمبر 7، 2014 10:44 شام
بہت خوب بهائی - ردیف پسند آئی - اللہ ترقی دے -
الف عین — ستمبر 8، 2014 5:09 شام
خوش آمدید شکیل
اچھی غزل ہے
کام نبٹا سکے نا ہم کوئی
وقت ہے کہ گزرگیا کب کا
اس میں ٹائپو ہے۔ اور وزن کی بھی گڑبڑ ہے
کام نبٹا سکے نہ ہم کوئی
درست ہو گا، اور اسی طرح لکھا جائے
وقت تھا جو گزرگیا کب کا
کہیں تو بہتر ہو، ’کہ‘ ’کے‘ کی طرح وزن میں آتا ہے۔ یہ غلط ہے۔ دونوں کے معنی الگ ہیں، کہ محض ’ک‘ کی طرح تقطیع ہونا درست ہے
آ ج ویرانی دیکھی ہے میری
عشق تنہا سا کر گیا کب کا
میری ویرانی؟؟
وزن کے حساب سے ویرانی کی ’ی‘ کا اسقاط اچھا نہیں لگتا
آج دیکھی ہے دل کی ویرانی
زیادہ واضح اور رواں ہو جاتا ہے نا۔
اپنا تفصیلی تعارف بھی دیں تعارف کے سیکشن میں
shakeelirfan — ستمبر 8، 2014 6:15 شام
السلام علیکم
آپ نے میری کوشش پر توجہ دی۔آپ کا شکرگزارہوں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84%D9%90-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%AF%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%DB%81%DB%92%D8%B6.77445/