غزل۔۔۔۔۔ہم شکوہِ بیدادِرقیباں نہیں کرتے ۔۔۔ اصلاح مطلوب۔۔!

متلاشی — مارچ 10، 2013 2:22 شام
ہم شکوہِ بیدادِ رقیباں نہیں کرتے​
ڈھانے سے ستم وہ بھی گریزاں نہیں کرتے​
راضی برضا رہتے ہیں جس حال میں رکھے​
لیکن گلۂ تنگی داماں نہیں کرتے​
یادوں سے تری کرتے ہیں خلوت میں چراغاں​
ہم کعبۂ دل کو کبھی ویراں نہیں کرتے​
اظہارِ تمنا کا سلیقہ گو نہیں ہے​
الفاظ کو لیکن پسِ عنواں نہیں کرتے​
رکھتے ہیں گہر ہم بھی نہاں خانۂ دل میں​
ہر بزم میں لیکن انہیں افشاں نہیں کرتے​
دعویٰ تو نہیں پاکی ٔداماں کا ہمیں پر​
جذبات کو خلوت میں بھی عریاں نہیں کرتے​
سیکھا ہے یہ سر خونِ جگر اپنا جلا کر​
فانی پہ کبھی جان کو قرباں نہیں کرتے​
مائل بہ بتاں ہے دلِ کافر جو نصرؔ آج​
اس رند کو کیوں صاحب ایماں نہیں کرتے​
محمد ذیشان نصرؔ​
10-03-2013​
متلاشی — مارچ 10، 2013 2:28 شام
الف عین مزمل شیخ بسمل محمد یعقوب آسی امجد علی راجا نایاب ابن سعید نیرنگ خیال محمد اسامہ سَرسَری
فرخ منظور سید شہزاد ناصر سید زبیر مہ جبین مقدس مغزل فاتح نیلم محمد بلال اعظم شمشاد محمد وارث کاشف عمران محمد خلیل الرحمٰن محمد احمد مہدی نقوی حجاز محمود احمد غزنوی
محمد علم اللہ — مارچ 10، 2013 2:32 شام
بھائی متلاشی کسی دوسرے دن پوسٹ کرنا چاہئے تھا آپ کو ۔آج تو سارے اساتذہ کا موڈ خراب ہے ۔کل ہی سے ۔
متلاشی — مارچ 10، 2013 2:33 شام
بھائی متلاشی کسی دوسرے دن پوسٹ کرنا چاہئے تھا آپ کو ۔آج تو سارے اساتذہ کا موڈ خراب ہے ۔کل ہی سے ۔
کیوں بھائی اساتذہ کا موڈ کیوں خراب ہے ؟
محمد علم اللہ — مارچ 10، 2013 2:36 شام
آپ نے یہ والا دھاگہ نہیں دیکھا کیا ۔ایسے میں اساتذہ کیا خاک اصلاح دیں گے ۔اس کے لئے پرسکون اور پرسکون ماحول موڈ چاہئے ہوتا ہے ۔
مزمل شیخ بسمل — مارچ 10، 2013 2:37 شام
قافیہ گڑ بڑ ہے ذیشان۔
گریزاں اور رقیباں میں جو "اں" ہے یہ اضافی یعنی زائد ہے۔ روی دونوں کے مختلف ہیں۔
کسی اصلی روی "نون" کو مطلع کے کسی بھی ایک مصرعے میں لے آؤ تو درست ہو جائے۔ اصلی نون والے الفاظ: انساں، عنواں، قرباں، تاباں، مژگاں وغیرہ۔
متلاشی — مارچ 10، 2013 2:45 شام
قافیہ گڑ بڑ ہے ذیشان۔
گریزاں اور رقیباں میں جو "اں" ہے یہ اضافی یعنی زائد ہے۔ روی دونوں کے مختلف ہیں۔
کسی اصلی روی "نون" کو مطلع کے کسی بھی ایک مصرعے میں لے آؤ تو درست ہو جائے۔ اصلی نون والے الفاظ: انساں، عنواں، قرباں، تاباں، مژگاں وغیرہ۔
شکریہ مزمل بھائی ۔۔۔! مجھے تو ان باتوں کا علم نہیں۔۔۔ میرے خیال سے تو ٹھیک ہیں۔۔۔ باقی اساتذہ کی رائے بھی آ جائے تو پھر اس کا کچھ کرتا ہوں
سید شہزاد ناصر — مارچ 10، 2013 2:46 شام
اساتذہ سے پہلے رائے دینا پاسِ ادب کے خلاف ہے
متلاشی — مارچ 10، 2013 2:48 شام
آپ نے یہ والا دھاگہ نہیں دیکھا کیا ۔ایسے میں اساتذہ کیا خاک اصلاح دیں گے ۔اس کے لئے پرسکون اور پرسکون ماحول موڈ چاہئے ہوتا ہے ۔
دیکھا ہے ۔۔۔ !
متلاشی — مارچ 10، 2013 2:53 شام
اساتذہ سے پہلے رائے دینا پاسِ ادب کے خلاف ہے
آپ بھی ہمارے استاذ ہیں۔۔۔! جلدی سے کچھ عرض کیجئے۔۔۔!
محمد یعقوب آسی — مارچ 10، 2013 3:29 شام
ہم شکوہِ بیدادِ رقیباں نہیں کرتے
ڈھانے سے ستم وہ بھی گریزاں نہیں کرتے
راضی برضا رہتے ہیں جس حال میں رکھے
لیکن گلۂ تنگی داماں نہیں کرتے

قوافی کے بارے میں مزمل شیخ بسمل صاحب کا مطالعہ اور تجزیہ مجھ سے کہیں بہتر ہے، اُن کے کہے کو اہمیت دیجئے گا۔
مطلع ۔۔۔ بیداد کا رسمی تعلق محبوب سے ہے، رقیب سے نہیں، اس کو دیکھ لیجئے گا۔ ’’گریزاں نہیں کرتے‘‘؟ مقصود غالب ’’گریز نہیں کرتے‘‘ ہے؟
دوسرا شعر ۔۔۔ تنگیءِ داماں کا گلہ کس سے ہو گا؟ اپنے آپ سے؟ دوسرے یہ لفظ ’’گلہ‘‘ فارسی الاصل ہے کیا؟ میرے علم میں نہیں۔ دوست راہنمائی فرمائیں۔
محمد یعقوب آسی — مارچ 10، 2013 3:32 شام
یادوں سے تری کرتے ہیں خلوت میں چراغاں
ہم کعبۂ دل کو کبھی ویراں نہیں کرتے
اظہارِ تمنا کا سلیقہ گو نہیں ہے
الفاظ کو لیکن پسِ عنواں نہیں کرتے

کعبہ کے استعارے میں چراغاں کا کیا محل ہے، یہ دیکھ لیجئے گا۔
الفاظ کو پسِ عنواں کرنا ۔۔ مجھ پر نہیں کھلا۔ اپنی تنگ دامانی کا اعتراف کرتا ہوں۔ پہلے مصرعے کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔ ’’سلیقہ گو نہیں ہے‘‘ اس میں گو کی صوتیت مجھے کچھ ناملائم محسوس ہو رہی ہے۔
محمد یعقوب آسی — مارچ 10، 2013 3:36 شام
رکھتے ہیں گہر ہم بھی نہاں خانۂ دل میں
ہر بزم میں لیکن انہیں افشاں نہیں کرتے

بزم میں گہر افشانی کرنا؟ وہ تو شاید گفتگو بات چیت کے لئے ہوتا ہے؟ اگر یہاں گہر سے مراد راز ہے تو پھر افشاں نہیں افشاء یا فاش ہونا چاہئے۔
محمد یعقوب آسی — مارچ 10، 2013 3:38 شام
دعویٰ تو نہیں پاکی ٔداماں کا ہمیں پر
جذبات کو خلوت میں بھی عریاں نہیں کرتے

جذبات کو عریاں کرنا؟
مجھے پتہ ہے کیا محسوس ہو رہا ہے؟ میں اس غزل کے ڈکشن کو نہیں پا سکا شاید۔ اگر واقعی ایسا ہے تو میری گزارشات کو نظر انداز کر دیجئے گا، اس میں کوئی قباحت نہیں۔
محمد یعقوب آسی — مارچ 10، 2013 3:39 شام
سیکھا ہے یہ سر خونِ جگر اپنا جلا کر
فانی پہ کبھی جان کو قرباں نہیں کرتے

پہلا مصرع مجھ پر نہیں کھلا۔ شاید وہی ڈکشن تک میری نارسائی کا مسئلہ ہو!
محمد یعقوب آسی — مارچ 10، 2013 3:42 شام
مائل بہ بتاں ہے دلِ کافر جو نصرؔ آج
اس رند کو کیوں صاحب ایماں نہیں کرتے

نصر (وتد مجموع) ۔۔ یہ چونکہ آپ کا تخلص ہے سو، آپ بہتر سمجھ سکتے ہیں۔ ویسے نصر (مدد) ساخت میں وتد مفروق ہے۔
نایاب — مارچ 10، 2013 3:55 شام
بہت خوب متلاشی بھائی
اساتذہ بہتر رہنمائی کر رہے ہیں ۔ بلا شبہ
یہ شعر چن آگے اپنا بنا سنا دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یادوں سے تری کرتے ہیں خلوت میں چراغاں
ہم کعبۂ دل کو کبھی ویراں نہیں کرتے
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 10، 2013 3:59 شام
ماشاءاللہ بہت اچھی غزل کہی ہے۔
اللہم زد فزد۔
گریزاں نہیں کرتے۔
”گریزاں ہونا“ اور ”گریز کرنا“ ہوتا ہے، گریزاں کرنا میرے خیال میں درست نہیں ہے۔
یہاں دیکھیں۔
متلاشی — مارچ 10، 2013 4:03 شام
بہت خوب متلاشی بھائی
اساتذہ بہتر رہنمائی کر رہے ہیں ۔ بلا شبہ
یہ شعر چن آگے اپنا بنا سنا دیا ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
یادوں سے تری کرتے ہیں خلوت میں چراغاں
ہم کعبۂ دل کو کبھی ویراں نہیں کرتے
شکریہ محترمی نایاب صاحب۔۔۔!
شاید یہ کسی اور کا شعر ہو ۔۔۔ مجھے تو علم نہیں۔۔ آپ کے علم ہو تو ضرور بتائیے گا۔۔۔! ہو سکتا ہے میں نے اسے کہیں پڑھا ہو پھر جب غزل لکھنے بیٹھا ہو تو وہی شعر ذہن میں آ گیا ہو۔۔۔ جسے میں نے اپنا خیال سمجھ کر لکھ دیا ہو۔۔۔!
متلاشی — مارچ 10، 2013 4:04 شام
جذبات کو عریاں کرنا؟
مجھے پتہ ہے کیا محسوس ہو رہا ہے؟ میں اس غزل کے ڈکشن کو نہیں پا سکا شاید۔ اگر واقعی ایسا ہے تو میری گزارشات کو نظر انداز کر دیجئے گا، اس میں کوئی قباحت نہیں۔
استاذِ محترم یہ ڈکشن کیا ہوتا ہے ؟
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%81%D9%85-%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%81%D9%90-%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%AF%D9%90%D8%B1%D9%82%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92-%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%85%D8%B7%D9%84%D9%88%D8%A8%DB%94%DB%94.60891/