شکیل حنیف مالیگاؤنوی — ستمبر 18، 2016 10:51 شام
محترم قارئین,
میں نے غزم کے نام سے ایک نئی صنف سخن پر طبع آزمائی کی ہے۔ جو میں بحر سے آزاد شاعری کے زمرے میں پوسٹ کر چکا ہوں۔
غزم میں ایک مکمل شعر ہوتا ہے اور باقی اس کی وضاحت کرتی ہوئی آزاد شاعری۔
اب تک دس غزمیں لکھ چکا ہوں جو وقفے وقفے سے محفل سخن میں پوسٹ کروں گا۔
اپنی رائے سے ضرور نوازیں۔
شکیل حنیف, مالیگاؤں, مہاراشٹرا, انڈیا
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 19، 2016 3:29 صبح
بھائی محفل میں خوش آمدید!!
امید ہے کہ آپ نے ہیلمٹ پہن رکھا ہوگا ۔

محمد تابش صدیقی — ستمبر 19، 2016 4:04 صبح
کیا یہ غزم آسانی سے ہضم کر لی گئی ہے؟
ربیع م — ستمبر 19، 2016 8:22 صبح
کیا یہ غزم آسانی سے ہضم کر لی گئی ہے؟
ہضم کرنے کی کوشش کریں!!!!
محمد تابش صدیقی — ستمبر 19، 2016 8:36 صبح
ہضم کرنے کی کوشش کریں!!!!
میرے ہضم کرنے یا نہ کرنے سے کیا ہو گا۔ بات تو مستند شعراء اورنقاد کے ہضم کرنے کی ہے۔

محمداحمد — ستمبر 19، 2016 10:26 صبح
کیا یہ غزم آسانی سے ہضم کر لی گئی ہے؟
کوئی بھی نئی شے آسانی سے قبول نہیں کی جاتی۔ اگر جدت میں اپنا آپ منوانے کا حوصلہ ہو تو بالآخر روایت گھٹنے ٹیک دیتی ہے۔
تاہم یہ شرط بہت کڑی ہے۔

محمد تابش صدیقی — ستمبر 19، 2016 10:30 صبح
کوئی بھی نئی شے آسانی سے قبول نہیں کی جاتی۔ اگر جدت میں اپنا آپ منوانے کا حوصلہ ہو تو بالآخر روایت گھٹنے ٹیک دیتی ہے۔
تاہم یہ شرط بہت کڑی ہے۔
پیارے بھائی سے معذرت کے ساتھ، ابھی تک مجھ کچھ ایسا خاص نظر نہیں آیا اس میں کہ اس کو آزاد نظم سے الگ نام دینے کی ضرورت پیش آئے۔

محمداحمد — ستمبر 19، 2016 10:31 صبح
میرے ہضم کرنے یا نہ کرنے سے کیا ہو گا۔ بات تو مستند شعراء اورنقاد کے ہضم کرنے کی ہے۔
نقاد کے لئے تو یہ فوڈ فار تھاٹ ہے۔ تاہم نظامِ ہضم نئی چیزوں پر بہت کم ہی کارگر ثابت ہوتا ہے۔

محمداحمد — ستمبر 19، 2016 10:33 صبح
پیارے بھائی سے معذرت کے ساتھ، ابھی تک مجھ کچھ ایسا خاص نظر نہیں آیا اس میں کہ اس کو آزاد نظم سے الگ نام دینے کی ضرورت پیش آئے۔
معذرت کی ضرورت نہیں ہے بھائی کہ ہم نے تو ایک عمومی بات کی اور مذکورہ صنف پر اب تک اپنی رائے دی ہی نہیں!
جیسے آپ نے کہا دیگر لوگ بھی اسے قبول یا رد کریں گے اور اسی طرح بات آگے بڑھے گی۔

اکمل زیدی — ستمبر 19، 2016 10:39 صبح
ویسے ایک بات میں بھی عرض کرونگا ...یہ کہ خیال برا نہیں ہے ....شاید اس طرح کہ آپ کوئی لمبی داستان سنائیں پھر کہیں بھائی مختصر یہ کے . . . .. . مطلب ایک لمبی نثری نظم ہو اور آخر میں اسے ایک شعر میں لپیٹ دیں ...مطلب جسے نثر میں سمجھ نہ آئے وہ آخری شعر میں سمجھ لے کے اوپر ساری بات کیوں کی گئی ہے اور اگر اؤپر سے سب سمجھ آگئی ہے تو آخری شعر سے confirm کرلے کے آپ صحیح سمجھیں .... ٹھیک ہے نا
شکیل حنیف مالیگاؤنوی ...آپ کا کام آسان کردیا نا ؟؟
محمد تابش صدیقی — ستمبر 19، 2016 10:39 صبح
معذرت کی ضرورت نہیں ہے بھائی کہ ہم نے تو ایک عمومی بات کی اور مذکورہ صنف پر اب تک اپنی رائے دی ہی نہیں!
جیسے آپ نے کہا دیگر لوگ بھی اسے قبول یا رد کریں گے اور اسی طرح بات آگے بڑھے گی۔
معذرت بانیِ اصطلاح سے تھی۔

محمداحمد — ستمبر 19، 2016 10:43 صبح
معذرت بانیِ اصطلاح سے تھی۔
چونکہ اقتباس ہماری پوسٹ کا تھا سو ہمیں یہ گمان ہوا۔

ویسے ہمارا خیال ہے کہ 'بانیِ اصطلاح' کے بجائے 'موجدِ صنفِ نو' پکارا جانا زیادہ ٹھیک رہے گا۔

محمداحمد — ستمبر 19، 2016 10:45 صبح
ویسے ایک بات میں بھی عرض کرونگا ...یہ کہ خیال برا نہیں ہے ....شاید اس طرح کہ آپ کوئی لمبی داستان سنائیں پھر کہیں بھائی مختصر یہ کے . . . .. . مطلب ایک لمبی نثری نظم ہو اور آخر میں اسے ایک شعر میں لپیٹ دیں ...مطلب جسے نثر میں سمجھ نہ آئے وہ آخری شعر میں سمجھ لے کے اوپر ساری بات کیوں کی گئی ہے اور اگر اؤپر سے سب سمجھ آگئی ہے تو آخری شعر سے confirm کرلے کے آپ صحیح سمجھیں .... ٹھیک ہے نا
شکیل حنیف مالیگاؤنوی ...آپ کا کام آسان کردیا نا ؟؟
ویسے عموماً اشعار کو سمجھنے کے لئے نثر میں تشریح کی جاتی ہے لیکن یہاں نثر کو سمجھانے کے لئے شعر فراہم کیا جا رہا ہے۔
واقعی یہ نئی شے ہے۔

La Alma — ستمبر 19، 2016 11:22 صبح
آپ دل برداشتہ نہ ہوں، خاطر جمع رکھیں .کمال اختراع ہے اور کیا پرفیکٹ ٹائمنگ ہے ... ذرا سوچیں "غزم" آپ کی ، گائیکی "طاہر شاہ" کی اور اس پہ رقص" ایلف خان" کا ...پھر وہ شہرت آپ کے حصّے میں آئے گی کہ سب دیکھتے ہی رہ جائیں گے .
محمداحمد — ستمبر 19، 2016 11:28 صبح
آپ دل برداشتہ نہ ہوں، خاطر جمع رکھیں .کمال اختراع ہے اور کیا پرفیکٹ ٹائمنگ ہے ... ذرا سوچیں "غزم" آپ کی ، گائیکی "طاہر شاہ" کی اور اس پہ رقص" ایلف خان" کا ...پھر وہ شہرت آپ کے حصّے میں آئے گی کہ سب دیکھتے ہی رہ جائیں گے .
بہت خوب!

شکر ہے کہ آپ نے شادی دفتر نہیں کھولا ہوا۔
ورنہ اکثر یہی سننے کو ملتا کہ "اچھا ہوا ایک ہی گھر خراب ہوا"

La Alma — ستمبر 19، 2016 11:38 صبح
بہت خوب!

شکر ہے کہ آپ نے شادی دفتر نہیں کھولا ہوا۔
ورنہ اکثر یہی سننے کو ملتا کہ "اچھا ہوا ایک ہی گھر خراب ہوا"
کچھ سمجھ نہیں آیا لیکن کچھ funny ہی ہو گا ...آپ کے لیے پر مزاح ریٹنگ ..
فاخر رضا — ستمبر 19، 2016 12:00 شام
وہ غزم ہے کدھر
محمد تابش صدیقی — ستمبر 19، 2016 12:03 شام
محمداحمد — ستمبر 19، 2016 12:12 شام
کچھ سمجھ نہیں آیا لیکن کچھ funny ہی ہو گا ...آپ کے لیے پر مزاح ریٹنگ ..
؎ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
شکیب — ستمبر 19، 2016 12:30 شام
محترم قارئین,
میں نے غزم کے نام سے ایک نئی صنف سخن پر طبع آزمائی کی ہے۔ جو میں بحر سے آزاد شاعری کے زمرے میں پوسٹ کر چکا ہوں۔
غزم میں ایک مکمل شعر ہوتا ہے اور باقی اس کی وضاحت کرتی ہوئی آزاد شاعری۔
اب تک دس غزمیں لکھ چکا ہوں جو وقفے وقفے سے محفل سخن میں پوسٹ کروں گا۔
اپنی رائے سے ضرور نوازیں۔
شکیل حنیف, مالیگاؤں, مہاراشٹرا, انڈیا
معذرت کے ساتھ، لیکن آپ کا نام سنتے ہی مابدولت چونک پڑے تھے۔ کچھ دنوں سے "
شکیل بن حنیف" پر وبال مچا ہوا تھا۔