غم سنا کہ اٹھتے ہیں

اسامہ جمشید — نومبر 14، 2012 5:46 صبح
غم سنا کہ اٹھتے ہیں
رو رولا کہ اٹھتے ہیں​

آج اپنے ہاتھوں سے
مے پلا کہ اٹھتے ہیں​

لوگ اپنے رازوں کو
کیوں بتاکہ اٹھتے ہیں​

اہل زر کی عادت ہے
لُٹ لٹاکہ اٹھتے ہیں​

اٹھ کہ دیکھ لو تم بھی
ہم جگا کہ اٹھتے ہیں​

خوں بہا کہ بیٹھے تھے
خوں بہا کہ اٹھتے ہیں​

راجپوت جنگوں میں
سر کٹا کہ اٹھتے ہیں​
موت سب کو آنی ہے
مل ملا کہ اٹھتے ہیں​

جن کو کچھ نہیں آتا
منہ اٹھا کہ اٹھتے ہیں​

آج ساری نفرت کو
پھر مٹا کہ اٹھتے ہیں​

انتظار کرتے ہیں
مُک مُکا کہ اٹھتے ہیں​

گر کسی کی شادی ہو
سج سجا کہ اٹھتے ہیں​

کچھ یہاں محافظ ہیں
گھر جلا کہ اٹھتے ہیں​

تم کو نیند آئی ہے
ہم سلا کہ اٹھتے ہیں​

میکدے کو جاتے ہیں
مار کھا کہ اٹھتے ہیں​
الف عین — نومبر 15، 2012 7:20 صبح
ردیف کیا ہے؟ ’کے اٹھتے ہیں‘ یا ’کہ اٹھتے ہیں‘۔ دونوں میں بہت فرق ہے۔
اسامہ جمشید — نومبر 15، 2012 7:40 صبح
ردیف کیا ہے؟ ’کے اٹھتے ہیں‘ یا ’کہ اٹھتے ہیں‘۔ دونوں میں بہت فرق ہے۔
’کہ اٹھتے ہیں‘ کہ ایک حرفی باندھا ہے
شاہد شاہنواز — نومبر 16، 2012 3:59 شام
’کہ اٹھتے ہیں‘ کہ ایک حرفی باندھا ہے
نہیں محترم ۔۔۔ فاعل ماضی مطلق میں ہوتو ’کہ‘ درست نہیں جیسے اٹھا کہ، بٹھا کہ غلط اور یہی ’کے‘ کے ساتھ جائز ہے۔کے یہاں کر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے یعنی اٹھا کر، بٹھا کر وغیرہ۔۔۔
کہ بمعنی یا استعمال ہوسکتا ہے یعنی OR۔۔۔۔
اسامہ جمشید — نومبر 17، 2012 8:29 صبح
نہیں محترم ۔۔۔ فاعل ماضی مطلق میں ہوتو ’کہ‘ درست نہیں جیسے اٹھا کہ، بٹھا کہ غلط اور یہی ’کے‘ کے ساتھ جائز ہے۔کے یہاں کر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے یعنی اٹھا کر، بٹھا کر وغیرہ۔۔۔
کہ بمعنی یا استعمال ہوسکتا ہے یعنی OR۔۔۔ ۔
جزاک اللہ برادر

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D9%85-%D8%B3%D9%86%D8%A7-%DA%A9%DB%81-%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA.56324/