غم کی آنکھوں میں ڈال کر آنکھیں
چل پڑا ہوں اجال کر آنکھیں
اسنے مانگے تھے مجھسے خواب مرے
میں نے دے دیں نکال کر آنکھیں
شہر کا شہر ہو گیا اندھا !!!!!!!!!
تم بھی رکھنا سنبھال کر آنکھیں
میں نے دی تھیں اسے امانت میں
اس نے رکھ دیں اچھال کر آنکھیں
کاش ! کوئی خرید لے ان کو
تھک گیا ہوں میں پال کر آنکھیں
آسماں سے زمیں پہ لاتی ہیں !!!
سو لڑا دیکھ بھال کر آنکھیں
دشتِ ویراں میں لے گئیں راجا
گھر سے مجھ کو نکال کر آنکھیں
[/quote]
ا سلام علیکم ، مَیں بالکل نیا رکن ہوں ، اور پہلی غزل پڑھ رہا ہوں اس سائٹ پر ۔ مجھے نہیں معلوم یہاں گفتگو کا ماحول کس سطح کا ہوتا ہے ۔ بہر حال نامناسب بات کی صورت میں معاف کیجئے گا۔مجھے غزل اچھی لگی آپ کی ۔
ایک بات کہنا چاہوں گا وہ یہ کہ جب ہم کسی ’’شے ‘‘کو ردیف کے طور پر لاتے ہیں تو اس ردیف کو نبھانا ذرا مشکل ہو جاتا ہے ۔ وہ اس طرح کے اس ایک شے کا پابند ہو کر ہر شعر میں الگ اور مختلف بات نکالنا اور بحیثیتِ مجموعی غزل میں متنوع مضمون نکالنا خاصے جوکھم کا کام ہوتا ہے کیوں کہ غزل کا ہر شعر جدا گانہ اور الگ مضمون کا حامل ہوتا ہے ۔ سو یہ تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ محض ردیف شعر کے خیال کی بنیاد بنا ہے ۔ بہت شکریہ