غم کی کوئی زباں اگر ہوتی (برائے اصلاح)

Abbas Swabian — مئی 26، 2016 6:33 شام
غم کی کوئی زباں اگر ہوتی
دل کی حالت نہ منتشر ہوتی
شاہد شاہنواز — مئی 27، 2016 8:45 صبح
زبان سے مراد اگر بولنے کی زبان ہے یعنی اردو، فارسی وغیرہ، تو دل کی حالت کا منتشر نہ ہونا غیر منطقی ہے کیونکہ خاموشی کو بھی ہم ایک زبان سمجھتے ہیں۔ اور اگر اس سے مراد زبان کا عضو ہے تو غم خود کو خود بیان کردیا کرتا۔ لیکن اس کا وجود آپ کے جسم سے الگ تو کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ غم انسان کو ہوتا ہے۔ انسان کو زبان کا عضو عطا کیا گیا ہے۔ وہ اسے بیان بھی کرسکتا ہے اور چپ بھی رہ سکتا ہے۔ یہ اس کا اپنا اختیار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر غم جو انسان کو پہنچتا ہے، زبان کے ساتھ آیا کرتا تو ؟ ۔۔۔ صورتحال خاصی عجیب ہے ۔۔۔ میں سمجھنے سے قاصر ہوں ۔۔۔
Abbas Swabian — مئی 28، 2016 1:57 صبح
بھائی جان مراد یہ ہے کہ اگر غم کی حالت سے ہر متعلق شخص واقف ہو جاتا تو دل اتنا بے قرار نہ ہوتا۔ دکھ تو تب ملتا ہے جب آپ اداس ہو اور کوئی آپکے اداسی کو نہ سمجھے۔
زبان سے مراد اگر بولنے کی زبان ہے یعنی اردو، فارسی وغیرہ، تو دل کی حالت کا منتشر نہ ہونا غیر منطقی ہے کیونکہ خاموشی کو بھی ہم ایک زبان سمجھتے ہیں۔ اور اگر اس سے مراد زبان کا عضو ہے تو غم خود کو خود بیان کردیا کرتا۔ لیکن اس کا وجود آپ کے جسم سے الگ تو کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ غم انسان کو ہوتا ہے۔ انسان کو زبان کا عضو عطا کیا گیا ہے۔ وہ اسے بیان بھی کرسکتا ہے اور چپ بھی رہ سکتا ہے۔ یہ اس کا اپنا اختیار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر غم جو انسان کو پہنچتا ہے، زبان کے ساتھ آیا کرتا تو ؟ ۔۔۔ صورتحال خاصی عجیب ہے ۔۔۔ میں سمجھنے سے قاصر ہوں ۔۔۔
Abbas Swabian — مئی 28، 2016 1:58 صبح
جھوٹے وعدے نہ مرد کے ہوتے​
کوئی عورت نہ دربدر ہوتی​
عبیر خان — مئی 28، 2016 7:17 صبح
بھائی جان مراد یہ ہے کہ اگر غم کی حالت سے ہر متعلق شخص واقف ہو جاتا تو دل اتنا بے قرار نہ ہوتا۔ دکھ تو تب ملتا ہے جب آپ اداس ہو اور کوئی آپکے اداسی کو نہ سمجھے۔
میں آپ کی بات سے متعمن ہوں۔
شاہد شاہنواز — مئی 28، 2016 7:33 صبح
بھائی جان مراد یہ ہے کہ اگر غم کی حالت سے ہر متعلق شخص واقف ہو جاتا تو دل اتنا بے قرار نہ ہوتا۔ دکھ تو تب ملتا ہے جب آپ اداس ہو اور کوئی آپکے اداسی کو نہ سمجھے۔
جو وضاحت آپ نے فرمائی، میں نہیں سمجھتا کہ آپ کا شعر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے۔۔۔ پڑھنے والے اس کا وہی مطلب لیں گے جیسے الفاظ اس شعر میں وارد ہوئے۔ پھر بھی اگر آپ مطمئن ہیں تو ٹھیک ہے ۔۔۔
غم کی کوئی زباں اگر ہوتی​
دل کی حالت نہ منتشر ہوتی​
Abbas Swabian — مئی 30، 2016 6:37 شام
میں آپ کی بات سے متعمن ہوں۔
شکریہ بھائی جان
Abbas Swabian — مئی 30، 2016 6:39 شام
جو وضاحت آپ نے فرمائی، میں نہیں سمجھتا کہ آپ کا شعر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے۔۔۔ پڑھنے والے اس کا وہی مطلب لیں گے جیسے الفاظ اس شعر میں وارد ہوئے۔ پھر بھی اگر آپ مطمئن ہیں تو ٹھیک ہے ۔۔۔
غم کی کوئی زباں اگر ہوتی
دل کی حالت نہ منتشر ہوتی​
شکریہ بھائی جان لیکن کیا خیال ہے آپ کا۔ کیسا ہونا چاہیے یہ شعر؟
الف عین — مئی 31، 2016 5:58 صبح
منتشر میں ش پر کسرہ ہے۔ اس لیے قافیہ ہی غلط ہے۔ اگر درست بھی ہوتا تو دل ہی منتشر ہو سکتا تھا، دل کی حالت؟
عورت والا شعر درست ہے
عبیر خان — مئی 31، 2016 6:17 صبح
ہاہا میں بھائی نہیں بہن ہوں۔ :)
شاہد شاہنواز — مئی 31، 2016 6:31 صبح
منتشر میں ش پر کسرہ ہے۔ اس لیے قافیہ ہی غلط ہے۔ اگر درست بھی ہوتا تو دل ہی منتشر ہو سکتا تھا، دل کی حالت؟
عورت والا شعر درست ہے
اس نکتے پر میری نظر نہیں گئی۔ "ش" یہاں زیر کے ساتھ ہے اور اگر کے "گ" پر زبر ۔۔۔ اور قافیے میں دونوں کا یکساں ہونا شرط ہے۔۔۔
عبیر خان — مئی 31، 2016 8:06 صبح
اس نکتے پر میری نظر نہیں گئی۔ "ش" یہاں زیر کے ساتھ ہے اور اگر کے "گ" پر زبر ۔۔۔ اور قافیے میں دونوں کا یکساں ہونا شرط ہے۔۔۔
پتہ نہیں آپ لوگ کیسے کیسے ان باتوں کو سمجھ لیتے ہیں۔ میجھے تو معمولی سی بھی سمجھ نہیں آئی۔
La Alma — مئی 31، 2016 8:17 صبح
پتہ نہیں آپ لوگ کیسے کیسے ان باتوں کو سمجھ لیتے ہیں۔ میجھے تو معمولی سی بھی سمجھ نہیں آئی۔
فکر نہ کرو اس سیارے کی زبان سمجھ ہمیں بھی نہیں آتی . بس اندازے سے ہی کام چلا لیتے ہیں۔☺
عبیر خان — مئی 31، 2016 8:25 صبح
فکر نہ کرو اس سیارے کی زبان سمجھ ہمیں بھی نہیں آتی . بس اندازے سے ہی کام چلا لیتے ہیں۔☺
لگتا تو کچھ ایسا ہی ہے۔ :)
محمد ریحان قریشی — مئی 31، 2016 8:27 صبح
فکر نہ کرو اس سیارے کی زبان سمجھ ہمیں بھی نہیں آتی . بس اندازے سے ہی کام چلا لیتے ہیں۔☺
ویسے آپ نے ایک جگہ کہا تھا کہ صرف عروض ڈاٹ کام سے آپ وزن چیک کرتی ہیں۔ پھر وہ رباعی کی بحر میں غزل کیا عروض ڈاٹ کام کے بھروسے کہی تھی؟؟
La Alma — مئی 31، 2016 8:30 صبح
جی بلکل .تجربہ کیا تھا .
ادب دوست — مئی 31، 2016 9:05 صبح
جھوٹے وعدے نہ مرد کے ہوتے

کوئی عورت نہ دربدر ہوتی​
یہاں "اگر" محذوف ہے، مصرع میں شامل ہوجائے تو مطالب واضح ہونگے. ابھی کمی بہرحال ہے.
دوسری بات بھائی، شعر کے خیال پر ایک لڑی تخلیق دے لیجئے ، پُر لطف بحث رہے گی
عباد اللہ — مئی 31، 2016 9:06 صبح
ویسے آپ نے ایک جگہ کہا تھا کہ صرف عروض ڈاٹ کام سے آپ وزن چیک کرتی ہیں۔ پھر وہ رباعی کی بحر میں غزل کیا عروض ڈاٹ کام کے بھروسے کہی تھی؟؟

جی بلکل .تجربہ کیا تھا .
حیرت انگیز
دلچسپ
ہم بھی تجربہ کریں گے:)
La Alma — مئی 31، 2016 9:18 صبح
حیرت انگیز
دلچسپ
ہم بھی تجربہ کریں گے:)
ضرور. عروض ڈاٹ کام کی بہتی گنگا میں آپ بھی ہاتھ دھو لیں .
شاہد شاہنواز — مئی 31، 2016 12:39 شام
پتہ نہیں آپ لوگ کیسے کیسے ان باتوں کو سمجھ لیتے ہیں۔ میجھے تو معمولی سی بھی سمجھ نہیں آئی۔
اس بات کو تو بچے بھی سمجھ سکتے ہیں، میں دوبارہ وضاحت کرتا لیکن اس کے لیے "سمجھنے کی کوشش" شرط ہے۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA-%D8%A7%DA%AF%D8%B1-%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.90111/