فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن۔ ایک شعوری کوشش؟

محمد خلیل الرحمٰن — مارچ 15، 2012 4:04 صبح
اگر اس غزل کو اس بحر میں تبدیل کر دیا جائے تو ۔۔۔
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فعلن
نہ میں شہزادہ کہیں کا، نہ پری میرے لیے
وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرت منکوح سو ہے
استادِ محترم ۔ ایک شعوری کوشش جو شاید زیادہ کامیاب نہیں ہورہی؟
شک نہیں اس میں کہ پیاری ہے ہماری بیوی​
’’وہ جو رکھتے تھے ہم اِک حسرتِ منکوح سو ہے‘‘​
ہے رگ و پے میں سراپا میں وہی تو جاری​
گنگناتی ہے جسے آج مری روح سو ہے​
وہ تڑپنا، وہ پھڑکنا ، وہی اندازِ جنوں​
جیسی کل تھی وہی اب حالتِ مذبوح سو ہے​
اس زمیں کو مئے خونناب سے رنگین کیا​
وہی مسجودِ خلائق،وہی ممدوح سو ہے​
وہ جسے آج تلک ڈھونڈ نہ پائے عشاق​
وہ کتابوں میں کہیں آج بھی مشروح سو ہے​
الف عین — مارچ 15، 2012 3:39 شام
واہ میاں خلیل، اس مصرع کی شان بڑھانے کا شکریہ جو تمہارے اشعار میں ایک ہی موضوع کے اعادے سے ذہن میں آیا تھا۔
زمین کے مشکل ہونے کا واضح احساس ہو رہا ہے اس غزل میں۔بہر حال اچھی غزل نکالی ہے۔
ایم اے راجا — مارچ 15، 2012 7:20 شام
واہ بہت خوب، داد قبول ہو
مانی عباسی — فروری 22، 2013 4:37 صبح
سلام بھائی کیا اس بحر میں لکھ سکتے ہیں ؟؟؟؟؟
فاعلاتن فاعلاتن فعلن

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%81%D8%A7%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AA%D9%86-%D9%81%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AA%D9%86-%D9%81%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AA%D9%86-%D9%81%D8%B9%D9%84%D9%86%DB%94-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%B4%D8%B9%D9%88%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%D9%88%D8%B4%D8%B4%D8%9F.50287/