نور وجدان — اکتوبر 2، 2016 3:35 شام
فراق ، وصل سے پرے یہ ایسا اک مقام ہے
وہی دکھے نہیں ، جو رہتا مجھ میں ہم کلام ہے
شمس تبریز قاسمی — اکتوبر 2، 2016 6:23 شام
ماشاءاللہ
La Alma — اکتوبر 3، 2016 6:29 صبح
بہت خوب نور . باقی کی غزل کیوں ڈیلیٹ کر دی؟.
الف عین — اکتوبر 3، 2016 5:26 شام
فی الحال تو ایک ہی شعر کی اصلاح کی جا سکتی ہے۔
فراق و وصل کہنے میں کیا مسئلہ ہے، اس طرح مصرع رواں ہو جاتا ہے۔
’وہی دکھے نہیں‘ کا بیانیہ اچھا نہیں۔ ’نظر نہ آئے وہ‘ بہتر ہو گا۔
نور وجدان — اکتوبر 7، 2016 10:38 صبح
بہت خوب نور . باقی کی غزل کیوں ڈیلیٹ کر دی؟.
شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔ میں نے سوچا کہ اچھی نہیں ہے یہ ۔۔۔۔۔۔۔ابھی پوسٹ کردیتی ہوں
نور وجدان — اکتوبر 7، 2016 10:39 صبح
فراق و وصل سے پرے یہ ایسا اک مقام ہے
نظر نہ آئے وہ ، جو رہتا مجھ میں ہم کلام ہے
نظر مکاں سے لامکاں تلک جو میری ہے گئی
عجب ہی رنگ و بو کا چار سو وہ انتظام ہے
یہ بیچ راہ کا ہے کھیل کب تلک یہ بھی چلے
تری نگہ کے تیر سہنا عشق میں جو عام ہے
بدن کی قید میں جوپارہ تھا ، وہ اب چٹک گیا
بکھرنا روشنی کا ُاس کے ملک کا نظام ہے
فلک تلک رسائی نورؔ کو ملی بھٹک بھٹک
یہ بعد موت کے لگا بڑا مجھے مقام ہے
La Alma — اکتوبر 7، 2016 11:58 صبح
بہت اچھی ہے .کیپ اٹ اپ.

ڈاکٹرعامر شہزاد — اکتوبر 7، 2016 12:36 شام
بہت خوب ۔۔۔
اکمل زیدی — اکتوبر 7، 2016 12:49 شام
فراق ، وصل سے پرے یہ ایسا اک مقام ہے
وہی دکھے نہیں ، جو رہتا مجھ میں ہم کلام ہے
اگر اجازت ہو تو میں کچھ کوشش کروں ..مومن خان مومن کی INSPIRATIONکے ساتھ
فراق و وصل میں ایسا مقام آیا
نظر میں جو نہیں وہ گویا دل میں ہے