فریب ٹوٹا، کھلی حقیقت، سو اب سے میرا کلام سچ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل اصلاح کے لیے

سید اسد معروف — نومبر 12، 2015 5:47 صبح
سلام کے بعد عرض ہے کہ پشاور میں کوئی ادبی رسالہ نہ ملنے کے بعد یہ محفل ایک متبادل نظر آئی سو حاضر ہوگیاہوں۔چنداشعاراصلاح کےلیےپیش کرناچاہتاہوں
جمیل مثمن سالم
مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن
فریب ٹوٹا، کھلی حقیقت، سو اب سے میرا کلام سچ ہے
مبالغہ تھا جو پہلے لَّکھا، جو اب لکھوں گا تمام سچ ہے
گزر ہمارا محال ہے اب تمہارے خوابوں کی انجمن سے
تمہارا عنواں ہے خود فریبی، ہماری مشکل کا نام سچ ہے
ازل سے خوابوں میں رہنے والے، حقیقتوں سے سہم گئے ہیں
حلال ہیں جھوٹ مصلحت کے، یہاں پہ لکھنا حرام 'سچ' ہے
فلک پہ بادل کو بے یقینی سے تک رہی ہے یہ خشک مٹی
جو آسماں سے ٹپک رہا ہے وہ قَطرہ قطرہ پیام سچ ہے
شکیب — نومبر 12، 2015 7:37 صبح
بہت پسند آیا آپ کا کلام۔
فلک پہ بادل کو بے یقینی سے تک رہی ہے یہ خشک مٹی
جو آسماں سے ٹپک رہا ہے وہ قَطرہ قطرہ پیام سچ ہے
واہ۔ کیا علامتی شعر ہے۔
اکمل زیدی — نومبر 12، 2015 7:51 صبح
بہت اچھی لکھی آپ نے ...نوک پلک ...اور درستگی ...اساتذہ کرینگے....یقینن آپ یہاں ایک اچھا اضافہ ...ثابت ہونگے...تعارف سیکشن میں باقاعدہ تعارف کروایے...آپ کے بارے میں ...احباب جاننا چاہیںگے
شکیب — نومبر 12، 2015 8:01 صبح
پشاور میں کوئی ادبی رسالہ نہ ملنے کے بعد یہ محفل ایک متبادل نظر آئی
الف عین چچا کے سہ ماہی سمت میں ارسال کریں جو آن لائن شائع ہوتا ہے۔ اسلامی کلام ہو تو دو ماہی سربکف میں ارسال کریں، یہ بھی آن لائن شائع ہوتا ہے۔
محمد تابش صدیقی — نومبر 12، 2015 8:08 صبح
بہت عمدہ جناب۔
امید ہے اپنا مزید کلام یہاں پیش کرتے رہیں گے۔
سید عاطف علی — نومبر 12، 2015 9:48 صبح
سلام کے بعد عرض ہے کہ پشاور میں کوئی ادبی رسالہ نہ ملنے کے بعد یہ محفل ایک متبادل نظر آئی سو حاضر ہوگیاہوں۔چنداشعاراصلاح کےلیےپیش کرناچاہتاہوں
جمیل مثمن سالم
مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن
فریب ٹوٹا، کھلی حقیقت، سو اب سے میرا کلام سچ ہے
مبالغہ تھا جو پہلے لَّکھا، جو اب لکھوں گا تمام سچ ہے
گزر ہمارا محال ہے اب تمہارے خوابوں کی انجمن سے
تمہارا عنواں ہے خود فریبی، ہماری مشکل کا نام سچ ہے
ازل سے خوابوں میں رہنے والے، حقیقتوں سے سہم گئے ہیں
حلال ہیں جھوٹ مصلحت کے، یہاں پہ لکھنا حرام 'سچ' ہے
فلک پہ بادل کو بے یقینی سے تک رہی ہے یہ خشک مٹی
جو آسماں سے ٹپک رہا ہے وہ قَطرہ قطرہ پیام سچ ہے
بہت اچھا سلیس اور سلجھا ہوا کلام ہے ۔ واہ۔۔۔ بہت پسند آیا ۔
اصلاح سخن کی مناسبت سے البتہ ایک رائے ہے کہ مطلع کے اگر دوسرے مصرع میں بیان واسلوب کے لحاظ سے ماضی اور حال کو ایک دم برتنا ذرا نا ہموار محسوس ہوا اسے (میرے خیال میں) کچھ بہتر کیا جاسکتا ہے ۔مثلاً
رواں بیانیے کے اعتبار سے کچھ یوں ہوتا۔۔۔جو اب لکھوں گا تمام سچ ہوگا۔ لیکن دریف کی قید کی وجہ سے ہو نہیں سکتا ۔
جو اب لکھوں گا کی جگہ "جو آج لکھا تمام سچ ہے" کی طرح اسلوب کو قدرے موافق کیا جاسکتاہے۔۔۔
ابن رضا — نومبر 12، 2015 3:54 شام
محفل میں خوش آمدید۔ بہت عمدہ شستہ سلیس لہجہ۔ خوب غزل کے لیے بہت سی داد۔ سلامت رہیے۔
ادب دوست — نومبر 12، 2015 6:18 شام
بہت اچھے اشعار ہیں جناب واہ واہ
داد قبول کیجئے
ان دونوں مصرعوں میں ربط سمجھنے سے قاصر رہا. یا یوں سمجھ لیں کہ جو ربط مجھے محسوس ہوا وہ میں سمجھنا نہیں چاہتا کیونکہ باقی اشعار بہت مثبت فکر کے آئینہ دار معلوم ہوتے ہیں۔
وہ مصرعے یہ ہیں۔
ازل سے خوابوں میں رہنے والے، حقیقتوں سے سہم گئے ہیں
حلال ہیں جھوٹ مصلحت کے، یہاں پہ لکھنا حرام 'سچ' ہے
اس سے ہٹ کر، بہت اچھے اشعار ہیں ایک مرتبہ پھر داد قبول کیجئے
الف عین — نومبر 12، 2015 6:23 شام
اچھی غزل ہے۔ اصلاح کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ عاطف کے مشورے پر غور کریں اور بس!
سید اسد معروف — نومبر 13، 2015 7:44 صبح
اس پذیرائی کے لیے آپ سب احباب کا بہت بہت شکریہ۔۔۔ آپ سب کی اتنی حوصلہ افزائی کے بعد کوشش ہو گی کہ مزید اشعار بھی اصلاح کے لیے پیش کروں اور تعارف بھی۔۔۔۔۔ بس ذرا ٹائپنگ کو ٹھیک طرح سمجھنے کی دیر ہے!!!
ادب دوست — نومبر 13، 2015 8:03 صبح
جی ضرور
ہم بھی مشتاق رہینگے
سید اسد معروف — نومبر 13، 2015 8:30 صبح
بہت اچھا سلیس اور سلجھا ہوا کلام ہے ۔ واہ۔۔۔ بہت پسند آیا ۔
اصلاح سخن کی مناسبت سے البتہ ایک رائے ہے کہ مطلع کے اگر دوسرے مصرع میں بیان واسلوب کے لحاظ سے ماضی اور حال کو ایک دم برتنا ذرا نا ہموار محسوس ہوا اسے (میرے خیال میں) کچھ بہتر کیا جاسکتا ہے ۔مثلاً
رواں بیانیے کے اعتبار سے کچھ یوں ہوتا۔۔۔جو اب لکھوں گا تمام سچ ہوگا۔ لیکن دریف کی قید کی وجہ سے ہو نہیں سکتا ۔
جو اب لکھوں گا کی جگہ "جو آج لکھا تمام سچ ہے" کی طرح اسلوب کو قدرے موافق کیا جاسکتاہے۔۔۔
عاطف بھائی ، یوں کیسا رہے گا "جو لکھ رہا ہوں، تمام سچ ہے"
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 13، 2015 9:09 صبح
اردو محفل میں دھماکے دار شراکت مبارک ہو۔
سید عاطف علی — نومبر 13، 2015 9:30 صبح
عاطف بھائی ، یوں کیسا رہے گا "جو لکھ رہا ہوں، تمام سچ ہے"
سید اسد معروف صاحب ۔ یہ بھی اچھا ہے لیکن آپ کیوں کہ "پہلے" کا ذکر لائے ہیں اس لحاظ سے مجھے ۔اب ۔یا ۔آج ۔زیادہ موافق لگ رہا ہے اور اسلوب کو مستحکم کر تاہوا لگتا ہے۔ ۔باقی جو آپ مناسب سمجھیں ۔
کاشف اسرار احمد — نومبر 13، 2015 10:34 صبح
بہت خوب ماشا اللہ۔
غزل کے باقی اشعار کا بھی انتظار رہے گا۔:)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8-%D9%B9%D9%88%D9%B9%D8%A7%D8%8C-%DA%A9%DA%BE%D9%84%DB%8C-%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%D8%8C-%D8%B3%D9%88-%D8%A7%D8%A8-%D8%B3%DB%92-%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85-%D8%B3%DA%86-%DB%81%DB%92%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%92-%D9%84%DB%8C%DB%92.85839/