سنا ہے کہ تم نے یہ دل دے دیا ہے
یہ کس کے بھروسے پہ تم نے کیا ہے؟
مطلع میں ایطا کا عیب ہے۔ دونوں مصرعوں کے قوافی ’یا‘ پر ختم ہوتے ہیں۔ اور کیونکہ یہ مطلع ہے جس سے قوافی کا اعلان ہوتا ہے، اس لیے یا تو سارے قوافی دیا، کیا، لیا ہونا چاہئے (حیا یرہ بھی نہیں چلے گا۔ کہ ’حیا‘ کی ’ح‘ پر فتح یا زبر ہے، یہاں دال اور کاف پر زیر ہے!! یا مطلع کے قوافی بدلنے ہوں گے، تاکہ سارے قوافی محض ’الف‘ پر ختم ہونے والے ہوں۔
ان اشعار میں:
کوئی بات ہے جو تمھیں ہو گوار؟ا
تمھاری انا کی کوئی انتہا ہے؟
ذرا تم بتائو کہ تم کیا کروگے
اسے جو بھی کرنا تھا وہ کر چکا ہے
مرے گھر کا رستہ جو ٹوٹا ہوا تھا
بڑی مشکلوں سے دوبارہ بنا ہے
میں فیضان اب بھی وہیں پہ کھڑا ہوں
جہاں سے مری بود کی ابتدا ہے
دست ابلاغ نہیں ہو سکا۔ یا دونوں مصرعوں میں جو بات کہی ج رہی ہے، ان کا آپسی ربط محسوس نہیں ہوتا۔
گھر کاراستہ ٹوٹا ہوا مان بھی لیا جائے تو بھی اس شعر میں کہنا کیا چاہتے ہو؟
مقطع میں ’پر‘ کے معنوں میں ’پہ‘ کا استعمال ہے۔ یہاں مکمل ’پر‘ آ سکتا ہے۔ جہاں نہ آ سکے وہاں تو ’پہ‘ کیا جا سکتا ہے، یہاں نہیں۔ اس شعر میں کیا فلسفہ بیان کیا گیا ہے، وہ میری سمجھ میں نہیں آیا۔
مطلع کے حوالے سے میرے زہن میں بھی یہ خدشہ موجود تھا اب جو آپ نے توجہ فرمائی تو یقین ہوگیا کہ خدشہ درست تھا۔
باقی اشعار
کوئی بات ہے جو تمھیں ہو گوارا
تمھاری انا کی کوئی انتہا ہے؟
خود کلامی ہے ۔ شاعر اپنے مزاج پر آپ برہم ہے کہ آخر ہر چیز کو اپنی انا کا مسئلہ کیوں بنا لیتا ہے۔
ذرا تم بتائو کہ تم کیا کروگے
اسے جو بھی کرنا تھا وہ کر چکا ہے
اس شعر میں متکلم اور مخاطب مختلف ہوسکتے ہیں۔ یعنی کہ کسی شخص نے اپنے عمل سے خود کو سہی یا غلط ثابت کر دیا ہے۔ اب مخاطب سے پوچھا جارہا ہے کہ تمھیں اس شخص کے حوالے سے جو الجھن تھی چونکہ اب وہ تو دور ہوچکی لہذا اب تم اپنا ٖفیصلہ ارشاد کرو۔
مرے گھر کا رستہ جو ٹوٹا ہوا تھا
بڑی مشکلوں سے دوبارہ بنا ہے
یہاں گھر سے مراد دل کو لیا گیا ہے اور رستے سے مراد اعتماد۔۔ یعنی چونکہ ہمارا رشتوں سے اعتماد اٹھ گیا تھا اس لئے کوئی بھی ہمارے دل تک رسائی حاصل نہیں کر پاتا تھا ۔ مگر اب ہمارا اعتماد بہیت مشکلوں سے بحال ہوا ہے۔
میں فیضان اب بھی وہیں پہ کھڑا ہوں
جہاں سے مری بود کی ابتدا ہے
بود کی ابتدا سے مراد عمر کا وہ حصہ لیا ہے جہاں سے ہمیں غم اور خوشی کا مظلب سمجھ میں آتا ہے رشتوں کی باریکیاں اور مختلف جزباتی کیفییات کا ادراک شروع ہوجاتا ہے۔ اپنی ایسی ہی ایک کیفیت کو بیان کرنے کی کوشش کی کہ گو وقت آگے بڑھ چکا ہے، عمر میں بھی اضافہ ہوگیا ہے مگر مجھے اپنوں سے جو شکایت تھی جوکبھی میں بیان نہیں کر سکا وہ شکایت مجھے اب بھی باقی ہے۔ لوگ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ اب تو بہت وقت گزر چکا اور باتیں پرانی ہو چکی ہیں لہذا سب اسے بھول چکے ہیں تو ایسا نہیں ہے۔ میں ابھی بھی اسی مقام پہ انھی شکایت کے ساتھ موجود ہوں زندگی اور وقت اگرچہ گزرتے جارہے ہیں۔