فنا بھی ساتھ لائی ہوں
بقا بھی ساتھ لائی ہوں محبت میں دغا بھی ہے
وفا بھی ساتھ لائی ہوں میں الفت سے گریزاں ہوں
رضا بھی ساتھ لائی ہوں ارادوں میں لچک بھی ہے
انا بھی ساتھ لائی ہوں نئے موسم تُو پیدا کر
فضا بھی ساتھ لائی ہوں مری مٹّھی میں جگنو ہیں
ضیا بھی ساتھ لائی ہوں مقّدر کے لبھانے کو
ادا بھی ساتھ لائی ہوں تُو رخ پھیرے تو مر جاؤں
قضا بھی ساتھ لائی ہوں قدم بھٹکیں، کہاں ممکن
حیا بھی ساتھ لائی ہوں نہیں تنہا، چلے آؤ
خدا بھی ساتھ لائی ہوں
بہت اچھے اشعار ہیں
دیکھیں اصلاح والے اساتذہ کیا کہتے ہیں، مگر کچھ اشعار بہت ہی اچھے لگے
ارادوں میں لچک بھی ہے
انا بھی ساتھ لائی ہوں تُو رخ پھیرے تو مر جاؤں
قضا بھی ساتھ لائی ہوں
خود کیوں مریں، جب قضا لائی ہیں تو سامنے والے کو ماریں، یہ آپ فرہاد والی غلطی مت کریں. قدم بھٹکیں، کہاں ممکن
حیا بھی ساتھ لائی ہوں
یہ بہت پیارا شعر ہے. یہ ایسی جبلت ہے جسے کوئی کتنا بھی چھیننے کی کوشش کریں یہ عورت کے خمیر سے جدا نہیں ہوتی. آج ایک عورت کو ایمرجنسی میں دیکھا، وہ گردے اور جگر کی آخری اسٹیج کی مریضہ ہے، بیچاری نیم بیہوشی میں بھی کہ رہی تھی مجھے شرم آرہی ہے مجھے شرم آرہی ہے.
خدا سب مرد اور عورت کی شرم و حیا قائم رکھے
فنا بھی ساتھ لائی ہوں
بقا بھی ساتھ لائی ہوں محبت میں دغا بھی ہے
وفا بھی ساتھ لائی ہوں میں الفت سے گریزاں ہوں
رضا بھی ساتھ لائی ہوں ارادوں میں لچک بھی ہے
انا بھی ساتھ لائی ہوں نئے موسم تُو پیدا کر
فضا بھی ساتھ لائی ہوں مری مٹّھی میں جگنو ہیں
ضیا بھی ساتھ لائی ہوں مقّدر کے لبھانے کو
ادا بھی ساتھ لائی ہوں تُو رخ پھیرے تو مر جاؤں
قضا بھی ساتھ لائی ہوں قدم بھٹکیں، کہاں ممکن
حیا بھی ساتھ لائی ہوں نہیں تنہا، چلے آؤ
خدا بھی ساتھ لائی ہوں
آپ اچھا لکھتی ہیں مگر موضوعات میں تنوع اور ندرت کی ضرورت ہے ، تخلیق پر جدت کے دروازے کھولیے ۔
لاریب مرزا — نومبر 16، 2016 2:23 شام
واہ!! کیا بات ہے!! بہت خوبصورت غزل ہے!!
آپ کے لیے بہت سی داد و تحسین
عبدالقیوم چوہدری — نومبر 16، 2016 2:33 شام
وا جی وا۔ اعلیٰ ہے
آپ نے اصلاح سخن میں پوسٹ کر دی ہے یہاں بندہ کوئی شرارت بھی نہیں کر سکتا ورنہ ایک شعر پر اچھی خاصی اصلاح نازل ہو گئی تھی خیر اس لڑی میں چلتے ہیں
بہت اچھے اشعار ہیں
دیکھیں اصلاح والے اساتذہ کیا کہتے ہیں، مگر کچھ اشعار بہت ہی اچھے لگے
ارادوں میں لچک بھی ہے
انا بھی ساتھ لائی ہوں تُو رخ پھیرے تو مر جاؤں
قضا بھی ساتھ لائی ہوں
خود کیوں مریں، جب قضا لائی ہیں تو سامنے والے کو ماریں، یہ آپ فرہاد والی غلطی مت کریں. قدم بھٹکیں، کہاں ممکن
حیا بھی ساتھ لائی ہوں
یہ بہت پیارا شعر ہے. یہ ایسی جبلت ہے جسے کوئی کتنا بھی چھیننے کی کوشش کریں یہ عورت کے خمیر سے جدا نہیں ہوتی. آج ایک عورت کو ایمرجنسی میں دیکھا، وہ گردے اور جگر کی آخری اسٹیج کی مریضہ ہے، بیچاری نیم بیہوشی میں بھی کہ رہی تھی مجھے شرم آرہی ہے مجھے شرم آرہی ہے.
خدا سب مرد اور عورت کی شرم و حیا قائم رکھے