فنا کی رات ۔۔۔۔۔۔ برائے اصلاح

صفی حیدر — جون 18، 2016 11:01 صبح
محترم الف عین صاحب اور دیگر اساتذہ و محفلین سے اصلاح کی درخواست ہے ۔۔۔۔۔
" فنا کی رات "
میں اکیلا تو نہیں ہوں
شب کی تنہائی میں تنہا تو نہیں ہوں
جو ازل سے ہے رواں اس قافلے کا میں ہوں حصہ
جس کی منزل ہے وجودِ ظاہری کا خاک ہونا
چاندنی ہے
آسماں روشن چمکتے ہوئے تاروں سے بھرا ہے
رات کی کھیتی میں پھیلی روشنی ہے
ایک آفاقی سکوتِ دلنشیں ہے
شب کی خاموشی میں ایسا لگ رہا ہے
کائناتی وسعتیں بانہوں کو پھیلائے فنا کے راستے پر منتظر ہیں
چاہتی ہیں میں بقا کی ہر تمنا بھول جا ئوں
اور بقائے نفس کی سب آرزوئیں ترک کر دوں
عباد اللہ — جون 18، 2016 11:27 صبح
آسماں روشن چمکتے ہوئے تاروں سے بھرا ہے
بھیا اس مصرعے کو اگر آپ یوں کر لیں تو شاید وزن درست ہو جائے
"آسماں روشن ستاروں سے بھرا ہے"
صفی حیدر — جون 18، 2016 12:11 شام
بہت شکریہ سر عباد اللہ ۔۔۔ آپ نے اس مصرعے کو زیادہ بہتر اور رواں کر دیا ہے ۔۔۔۔۔
الف عین — جون 19، 2016 6:41 صبح
مجھے بھی وہی غلطی نظر آئی۔ مصرع بہتر اور رواں ہی نہیں، اوزان میں درست کر دیا ہے۔
آسماں روشن چمکتے ہوئے تاروں سے بھرا ہے
میں ’ہوئے‘ فاع کے وزن پر آ رہا ہے۔ درست وزن فعو ہے۔
صفی حیدر — جون 19، 2016 10:21 صبح
شکریہ سر الف عین ۔۔۔۔ آپ نے درست نشاندہی اور راہنمائی کی ۔۔۔ " ہوئے" کے وزن کو جانچنے میں مجھ سے چوک ہو گئی۔۔۔۔۔
اس مصرعے کی سر عباد اللہ نے اصلاح کر دی ہے ۔۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%81%D9%86%D8%A7-%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%AA-%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.90497/