فوقؔ

حماد سعیدی فوقؔ — جون 16، 2017 11:49 صبح
غزل
ملی جو برسوں کی فریاد کے بعد
خرم. ہیں ہم اس داد کے بعد
عِش تو کچھ کم ہوا اے کرب
طبیب کی قسمت بنی فساد کے بعد
سوگند کھا کر جو موعود ہضم کیا
حاجت نہ تھی پھر اس مواد کے بعد
پھر کبھی منہ نہ دکھایا تو نے
بہت فرقت ہوئی اس خیر باد کے بعد
سخن پہ اتنا غرور مت کر سعیدی
اور بھی شاعر ہیں حماد کے بعد
الف عین — جون 17، 2017 7:20 صبح
فوق بیتا۔ ابھی تم خوب پڑھو، مستند شاعری بھی۔ پھر شعر بھی کہہ لینا۔ پہلے طبیعت موزوں ہو جائے پھر غزل کہو۔ تب تک نثری نظمیں کہہ کر دل بہلاؤ
حماد سعیدی فوقؔ — جون 17، 2017 11:06 صبح
میں تو فارغ بیٹھا تھا
غزل یوں ہی پرو لی
حماد سعیدی فوقؔ — جون 17، 2017 11:10 صبح
فوق بیتا۔ ابھی تم خوب پڑھو، مستند شاعری بھی۔ پھر شعر بھی کہہ لینا۔ پہلے طبیعت موزوں ہو جائے پھر غزل کہو۔ تب تک نثری نظمیں کہہ کر دل بہلاؤ
جی بالکل!
اصلاح کے لیے شکراً

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%81%D9%88%D9%82%D8%94.97186/