قافیہ شناسی ۔۔۔

انیس فاروقی — مئی 27، 2014 2:22 شام
کیا درج زیل قوافی درست ہیں۔
بدل
سنبھل
نکل
پھسل
جل
نور وجدان — مئی 27، 2014 2:40 شام
میرا خیال ہے قافیہ حرف روی سے بنتا ہے جس میں آخری دو ہجے درست ہونے چاہیے
جیسے : اندر ، مندر ، سمندر ، قلندر ، وغیرہ
بدل
جدل
ضدل
نور وجدان — مئی 27، 2014 3:14 شام
عدل
ردو بدل
دلدل
مہدی نقوی حجاز — مئی 28، 2014 5:06 شام
عدل ان کا قافیہ نہیں، دال ساکن ہے۔
الف عین — مئی 29، 2014 5:02 صبح
کیا درج زیل قوافی درست ہیں۔
بدل
سنبھل
نکل
پھسل
جل
قطعی درست ہیں۔ یہاں حرف روی محض لام ہے، اور اس سے پہلے زبر ہونا ضروری ہے۔ مُل، اور گُل قوافی نہیں ہو سکتے۔
الف عین — مئی 29، 2014 5:07 صبح
عزیزہ نور سعدیہ شیخ کا معروضہ غلط ہے۔ عدل میں یوں بھی دال پر جزم ہے۔ لیکن ’دل‘ کو روی بنانے سے قافیہ بہت محدود ہو جائے گا۔ بدل (رد و بدل میں بھی بدل ہی ہے) ، جدل تو درست ہو سکتے ہیں۔ لیکن صندل،دلدل بر وزن فعلن ہو جاتے ہیں۔ (یہ بائنری سسٹم سے میں کم ہی واقف ہوں، بہر حال اسے 2 2 کہیں گے) اور میرے خیال میں کوئی ایسی بحر نہیں ہو گی جہاں فعِل اور فعلن کو ایک ساتھ باندھا جا سکے۔
شوکت پرویز — مئی 29، 2014 9:32 صبح
اور میرے خیال میں کوئی ایسی بحر نہیں ہو گی جہاں فعِل اور فعلن کو ایک ساتھ باندھا جا سکے۔
یہ ممکن ہے انکل!
ہر اس بحر میں جہاں آخری فُعِلن (ف+ع+لن) کو فعلن (فع+لن) کِیا جا سکتا ہے۔
1) فاعلاتن فعِلاتن فعِلاتن فعِلن
غالب:
دہر جُز جلوۂ یکتائیِ معشوق نہیں
ہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتا خود بیں
2) مفاعلن فعِلاتن مفاعلن فعِلن
غالب:
حریفِ مطلبِ مشکل نہیں فسونِ نیاز
دعا قبول ہو یا رب کہ عمرِ خضر دراز
وصالِ جلوہ تماشا ہے پر دماغ کہاں!
کہ دیجے آئینۂ انتظار کو پرواز
3) فاعلاتن مفاعلن فعِلن
غالب:
نہ گلِ نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز
میں ہوں اپنی شکست کی آواز
4) فاعلاتن فعِلاتن فعِلن
مثال: اس کی کوئی مثال مل نہیں سکی۔ لیکن اس بحر میں بھی 'بدل' اور 'صندل' قافیے استعمال کِیے جا سکتے ہیں۔
جیسے:
فاعلاتن فعِلاتن ف + بدل
فاعلاتن فعِلاتن + صندل
ابن رضا — مئی 29، 2014 9:59 صبح
میرا خیال ہے قافیہ حرف روی سے بنتا ہے جس میں آخری دو ہجے درست ہونے چاہیے
جیسے : اندر ، مندر ، سمندر ، قلندر ، وغیرہ
بدل
جدل
ضدل
قوافی میں آخری دو حروف کے درست هونے کی کوئی قید نہیں. حرف روی لفظ کا آخری اور اصلی حرف ہوتا ہے وصلی نہیں. جیسے شکاریوں بیماریوں میں آخری اصلی حرف " ر " هے جو کہ روی هوگا نہ کہ ں (نون غنہ).
اور روی سے قبل حرف کی حرکت یعنی زیر زبر پیش وغیره کی پابندی لازم هے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%82%D8%A7%D9%81%DB%8C%DB%81-%D8%B4%D9%86%D8%A7%D8%B3%DB%8C-%DB%94%DB%94%DB%94.74704/