قربتیں اور فاصلے

محمد خلیل الرحمٰن — جنوری 23، 2019 9:55 صبح
قربتیں اور فاصلے
محمد خلیل الرحمٰن
( ایک انگریزی نظم کا ترجمہ)
تم مجھ سے دور ہوکر، اِن فاصلوں میں کھوکر
دِل سے قریب ہو تم، میرے رفیق و دِلبر
تھے کیا حسین لمحے، جب ساتھ تھے تمہارے
نذرِ گماں ہوئے اب لیکن وہ خواب سارے
ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے، پگڈنڈیوں پہ جانا
مجھ کو ہے یاد اب بھی خوشیوں کا وہ زمانا
ہائے وہ ساری خوشیاں وہ لطف کھوچکے ہیں
مجھ کو یقیں نہیں ہے ہم دور ہوچکے ہیں
چھا جائے جب اندھیرا چاروں طرف سے آکر
اور روشنی کی کوئی امید نہ ہو دلبر
میں تجھ کو ڈھونڈ لوں گی دل کے چمن کے اندر
ہر شب تجھے ملوں گی میں اپنے من کے اندر
اِک دن ضرور ہم بھی با چشمِ تر ملیں گے
بچھڑے ہوئے جنم کے، دو ہمسفر ملیں گے
اے دوست میں ہمیشہ تری منتظر رہوں گی
اس تیرگی میں آخر تجھے ڈھونڈ کر رہوں گی
(سال سوم الیکٹرانکس ۔کالج میگزین میں چھپی)​
محمد عدنان اکبری نقیبی — جنوری 23، 2019 10:10 صبح
ماشاءاللہ ،
سر بہت اعلی اور زبردست تخلیق ۔
محمد خلیل الرحمٰن — جنوری 23، 2019 11:06 صبح
ماشاءاللہ ،
سر بہت اعلی اور زبردست تخلیق ۔
جزاک اللہ محمد عدنان اکبری نقیبی بھائی
محمداحمد — جنوری 23، 2019 1:10 شام
بہت خوب خلیل الرحمٰن بھائی!
زبردست (y)
محمداحمد — جنوری 23، 2019 1:11 شام
جب کبھی فرصت ہو تو انگریز نظم بھی پڑھوائیے گا۔
سعید احمد سجاد — جنوری 25، 2019 5:09 شام
قربتیں اور فاصلے
محمد خلیل الرحمٰن
( ایک انگریزی نظم کا ترجمہ)
تم مجھ سے دور ہوکر، اِن فاصلوں میں کھوکر
دِل سے قریب ہو تم، میرے رفیق و دِلبر
تھے کیا حسین لمحے، جب ساتھ تھے تمہارے
نذرِ گماں ہوئے اب لیکن وہ خواب سارے
ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے، پگڈنڈیوں پہ جانا
مجھ کو ہے یاد اب بھی خوشیوں کا وہ زمانا
ہائے وہ ساری خوشیاں وہ لطف کھوچکے ہیں
مجھ کو یقیں نہیں ہے ہم دور ہوچکے ہیں
چھا جائے جب اندھیرا چاروں طرف سے آکر
اور روشنی کی کوئی امید نہ ہو دلبر
میں تجھ کو ڈھونڈ لوں گی دل کے چمن کے اندر
ہر شب تجھے ملوں گی میں اپنے من کے اندر
اِک دن ضرور ہم بھی با چشمِ تر ملیں گے
بچھڑے ہوئے جنم کے، دو ہمسفر ملیں گے
اے دوست میں ہمیشہ تری منتظر رہوں گی
اس تیرگی میں آخر تجھے ڈھونڈ کر رہوں گی
(سال سوم الیکٹرانکس ۔کالج میگزین میں چھپی)​
سر خلیل صاحب بہت زبردست کمال ہے یہ
سعید احمد سجاد — جنوری 25، 2019 5:15 شام
قربتیں اور فاصلے
محمد خلیل الرحمٰن
( ایک انگریزی نظم کا ترجمہ)
تم مجھ سے دور ہوکر، اِن فاصلوں میں کھوکر
دِل سے قریب ہو تم، میرے رفیق و دِلبر
تھے کیا حسین لمحے، جب ساتھ تھے تمہارے
نذرِ گماں ہوئے اب لیکن وہ خواب سارے
ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے، پگڈنڈیوں پہ جانا
مجھ کو ہے یاد اب بھی خوشیوں کا وہ زمانا
ہائے وہ ساری خوشیاں وہ لطف کھوچکے ہیں
مجھ کو یقیں نہیں ہے ہم دور ہوچکے ہیں
چھا جائے جب اندھیرا چاروں طرف سے آکر
اور روشنی کی کوئی امید نہ ہو دلبر
میں تجھ کو ڈھونڈ لوں گی دل کے چمن کے اندر
ہر شب تجھے ملوں گی میں اپنے من کے اندر
اِک دن ضرور ہم بھی با چشمِ تر ملیں گے
بچھڑے ہوئے جنم کے، دو ہمسفر ملیں گے
اے دوست میں ہمیشہ تری منتظر رہوں گی
اس تیرگی میں آخر تجھے ڈھونڈ کر رہوں گی
(سال سوم الیکٹرانکس ۔کالج میگزین میں چھپی)​
چھا جائے جب اندھیرا چاروں طرف سے آکر
اور روشنی کی کوئی امید نہ ہو دلبر
سر گستاخی معاف میں اپنی اصلاح کے لئے پوچھ رہا ہوں آپ نے taraf باندھا ہے یہ tarf ہے یا taraf hai
محمد خلیل الرحمٰن — جنوری 26، 2019 3:15 صبح
چھا جائے جب اندھیرا چاروں طرف سے آکر
اور روشنی کی کوئی امید نہ ہو دلبر
سر گستاخی معاف میں اپنی اصلاح کے لئے پوچھ رہا ہوں آپ نے taraf باندھا ہے یہ tarf ہے یا taraf hai
کیا سماں اس بہار کا ہو بیاں
ہر طرف ندیاں تھیں صاف رواں
ایک گائے اور بکری از علامہ اقبال​

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%AA%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%81%D8%A7%D8%B5%D9%84%DB%92.105165/