قطعات

نوید اکرم — مارچ 12، 2016 7:04 صبح
1
خدایا تو ہر چیز پر ہے جو قادر
مری اس سے قربت خیالی ہی کیوں تھی
جو دینا نہیں تھا مجھے میرا دلبر
محبت مرے دل میں ڈالی ہی کیوں تھی
2
مقابل میں جب مرد کے آئی عورت
کیا اس نے ثابت، ہے اس میں بھی قوت
مگر اس حقیقت سے غافل رہی وہ
کہ ہے اصل میں کارِ عظمت امومت
3
سنا ہے کہ یہ عہدِ فکر و نظر ہے
مگر ہے ابھی تک عیاں جاہلیت
صفر میں رفاقت سے سب ہیں گریزاں
وہ کہتے ہیں مضمر ہے اس میں نحوست
4
نہیں حسن میں کوئی بھی اس کا ثانی
کسی کی نہیں جیسی اس کی ہے سیرت
سبھی لوگ مرتے ہیں جلووں پہ اس کے
مری وجہِ چاہت ہے حسنِ بصیرت
الف عین — مارچ 13، 2016 6:33 صبح
کہ ہے اصل میں کارِ عظمت امومت
’امومت؟‘
مری وجہِ چاہت ہے حسنِ بصیرت
وجہِ چاہت کی ترکیب غلط ہے۔ وجہِ الفت چل سکتا ہے۔
نوید اکرم — مارچ 13، 2016 6:43 صبح
کہ ہے اصل میں کارِ عظمت امومت
’امومت؟‘
امومت یعنی ماں ہونا۔ جیسا کہ اقبال نے اپنے ایک شعر میں فرمایا ہے
تہذیبِ فرنگی ہے اگر مرگِ امومت
ہے حضرتِ انساں کے لئے اس کا ثمر موت
الف عین — مارچ 13، 2016 4:37 شام
ماشاء اللہ، تو میں درست سمجھا تھا۔ مجھے شک تھا کہ اصلاح سخن میں کسی نے ایسا مشکل لفظ اسعمال کیا ہو گا!!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%82%D8%B7%D8%B9%D8%A7%D8%AA.88581/