واہ۔ اچھے عرفانی (شاید صوفی) شعر ہیں۔
کچھ تکنیکی باتوں کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
وحدت لگی انڈیلنے تو ذات پیالی ہو گئی
وحدت لگی انڈیلنے میں تعقید معنوی ہے۔ یعنی معنی میں گرہ پڑ رہی ہے۔ انیس اپنے مرثیے "نمک خوان تکلم ہے" میں فصاحت کی یوں تعریف کرتے ہیں:
لفظ مغلق نہ ہوں، گنجلک نہ ہوں، تعقید نہ ہو!
بہر کیف، تو اس مصرع میں انڈیلنا فعل ہے، اس کا فاعل بھی ہونا چاہیے اور مفعول بھی۔ کیوں کہ یہ فعل متعدی ہے۔ یعنی فاعل کے علاوہ مفعول بھی چاہتا ہے۔ (متعدی کے مقابلے میں جو فعل ہوتا ہے اسے فعل لازم کہتے ہیں، اس میں مفعول کا تقاضا نہیں ہوتا۔ جیسے سونا۔)
اب وحدت فاعل ہے تو مفعول کیا ہے؟ یعنی انڈیلنی والی وحدت ہے تو انڈیلا جانے والا کون ہے یا کیا ہے؟
اگر وحدت مفعول ہے یعنی وحدت کو انڈیلا جا رہا ہے تو لگی کے اندر جو چھپا ہوا فاعل ہے وہ کسی کی طرف ہے، آپ کی طرف یا ذات کی طرف؟
ان دو سوالوں کا جواب مصرعے میں مفقود ہے۔ لہٰذا یہ تعقید کا شکار ہے۔
مجھ میں ہے کوئی بھر گیا ، میں خود سے خالی ہو گئی
مجھ میں ہے کوئی بھر گیا! ٹھیک ہے، بالکل غلط یہ جملہ بھی نہیں لیکن اردو میں ترتیب یوں فصیح ہے:
فاعل پھر مفعول پھر فعل۔ آپ نے مفعول فی کو فاعل پر مقدم کر دیا، یعنی کوئی، جو بھرنے والا ہے، کو مجھ میں، جو مفعول واقع ہو رہا ہے سے مؤخر کر دیا۔ جائز ہے البتہ حسن جاتا رہا جملے کا۔
یوں ہوتا تو: کوئی ہے مجھ میں بھر گیا! (البتہ اب بھی "ہے" کی جگہ سے قانع نہیں ہوں میں لیکن بہر حال ترتیب کی رعایت ہوئی)