فیضان قیصر — جولائی 12، 2019 7:19 صبح
اک کشمکش میں ہے دل حالت عجیب سی ہے
اب کیا بتاؤں کیا ہے تفصیل اس بلا کی
تم کو میں چاہتا ہوں بے انتہا مگر جاں
نفرت بھی ہے تمھی سے اور وہ بھی انتہا کی
فیضان قیصر — جولائی 12، 2019 7:19 صبح
الف عین — جولائی 12، 2019 11:02 صبح
ویسے تو درست ہے، بس تیسرے مصرعے میں جاں کا لفظ بھرتی کا لگ رہا ہے ۔ بدل دیں مصرع تو بہتر ہے، اور کوشش کریں کہ نئے مصرعے میں 'انتہا' نہ دہرایا جائے
ایک مثال
تم کو میں چاہتا ہوں بے حد، مگر یہ سچ ہے
فیضان قیصر — جولائی 12، 2019 2:46 شام
ویسے تو درست ہے، بس تیسرے مصرعے میں جاں کا لفظ بھرتی کا لگ رہا ہے ۔ بدل دیں مصرع تو بہتر ہے، اور کوشش کریں کہ نئے مصرعے میں 'انتہا' نہ دہرایا جائے
ایک مثال
تم کو میں چاہتا ہوں بے حد، مگر یہ سچ ہے
بے حد شکریہ- متبادل آپکا والا ہی اچھا ہے