فیضان قیصر — ستمبر 16، 2019 10:10 صبح
زندگی کے سفر میں ظاہر ہے
موت سے بھی تو سامنا ہوگا
دیکھنا یہ ہے ساتھیوں بسکہ
کون سا لمحہ بے وفا ہوگا
فیضان قیصر — ستمبر 16، 2019 10:11 صبح
عظیم — ستمبر 17، 2019 7:26 صبح
اصلاح کی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی۔
بس تیسرے مصرع میں 'ساتھیو' ہونا چاہیے تھا
فیضان قیصر — ستمبر 17، 2019 2:22 شام
اصلاح کی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی۔
بس تیسرے مصرع میں 'ساتھیو' ہونا چاہیے تھا
شکریہ عظیم صاحب وقت دینے کے لیے- میں ساتھیو کر دیتا ہوں - بس معلومات کے لیے یہ بتا دیں کہ ساتھیوں اوف ساتھیو میں کیا فرق سمجھا جائے؟
الف عین — ستمبر 18، 2019 5:44 صبح
ساتھیو تخاطبی لفظ ہے، جب کہ ساتھیوں جمع کا لفظ
ساتھیو! قدم بڑھاؤ
ساتھیوں نے قدم بڑھائے
اب واضح ہوا نا!
فیضان قیصر — ستمبر 18، 2019 3:55 شام
ساتھیو تخاطبی لفظ ہے، جب کہ ساتھیوں جمع کا لفظ
ساتھیو! قدم بڑھاؤ
ساتھیوں نے قدم بڑھائے
اب واضح ہوا نا!
بلکل واضح ہوگیا - معلومات میں اضافہ فرمانے کا بے حد شکریہ سر -