قطعہ برائے اصلاح

فیضان قیصر — اکتوبر 19، 2019 7:13 صبح
لمبے عرصے جدا رہیں ہم
ایسے مت منہ موڑیے گا
تنہائی میں عجب کشش ہے
مجھکو تنہا نہ چھوڑیے گا
فیضان قیصر — اکتوبر 19، 2019 7:14 صبح
الف عین سر
عظیم بھائی
عظیم — اکتوبر 19، 2019 8:12 صبح
تنہائی میں عجب کشش بھی ہے اور تنہا بھی نہ چھوڑیے گا؟
چوتھے مصرع میں وزن کا بھی مسئلہ لگتا ہے
فیضان قیصر — اکتوبر 19، 2019 8:26 صبح
مفعولن فاعلن فعولن
عظیم بھائی
تختی کے اعتبار سے تو مجھے وزن کا مسئلہ نہیں لگ رہا ۔ رہنمائی فرمائیں
اور تنہائی میں کشش ہے ۔ مطلب اشارا کرنا چاہا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ مجھے تنہا رہنا بھا جائے۔ لہذا مجھے تنہا چھوڑنے سے اجتناب کیجے
عظیم — اکتوبر 20، 2019 7:37 صبح
میں فعلن کی تکرار سمجھ رہا تھا!
جو وضاحت آپ نے کی ہے وہ شعر کے الفاظ سے ظاہر نہیں ہوتی۔
تنہائی کو بلا وغیرہ کہہ لیا جائے تو بھی ٹھیک ہو سکتا ہے
فیضان قیصر — اکتوبر 20، 2019 9:20 صبح
میں فعلن کی تکرار سمجھ رہا تھا!
جو وضاحت آپ نے کی ہے وہ شعر کے الفاظ سے ظاہر نہیں ہوتی۔
تنہائی کو بلا وغیرہ کہہ لیا جائے تو بھی ٹھیک ہو سکتا ہے
عظیم بھائی شکریہ میں بہتر کرنے کی کوشش کرتا ہوں
عمران سرگانی — اکتوبر 20، 2019 1:54 شام
مفعولن فاعلن فعولن
عظیم بھائی
تختی کے اعتبار سے تو مجھے وزن کا مسئلہ نہیں لگ رہا ۔ رہنمائی فرمائیں
اور تنہائی میں کشش ہے ۔ مطلب اشارا کرنا چاہا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ مجھے تنہا رہنا بھا جائے۔ لہذا مجھے تنہا چھوڑنے سے اجتناب کیجے
ان الفاظ کا استعمال کر سکتے ہیں جیسے
میں تنہائی پسند نہ ہو جاؤں۔ یا تنہائی سے مانوس
اس بحر کے مد مقابل یہ بحر بھی لا سکتے ہیں۔
مفعول مفاعلن فعولن

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%82%D8%B7%D8%B9%DB%81-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.108859/