قطعہ برائے اصلاح

ارتضی عافی — جولائی 24، 2016 10:47 شام
عشقِ خدا عشقِ نبی عشقِ علی ہے زندگی
سجدہ کروں دورود بھیجوں ہے یہی تو بندگی
میرے لیے افضل جہاں میں بن گیا ہے شاعری
اس عشق کو پھیلاؤ میں میری یہی ہےنوکری
رجز مثمن سالم اصلاح درکار ہے استاد صاحبان اردو تحریر پر بھی
الف عین — جولائی 25، 2016 5:13 صبح
درود کا تلظ غلط باندھا ہے۔ یہ فعول ہے۔
تیسرا اور چوتھا مصرع و اضح نہیں۔ غالباً بن گئی ہے شاعری کہنا چاہ رہے ہیں!
آخری مصرع میں بھی ’پھیلاؤ‘ کا نہیں ’پھیلاؤں‘ کا محل ہے۔
اور اصل بات۔ یہ قطعہ کے طور پر یا دو اشعار کے طور پر بھی غلط ہیں۔ زندگی، بندگی قوافی درست ہیں، لیکن مزید قوافی میں ’دگی‘ ہونا چاہئے۔
اسی طرح آخری دونوں مصرعوں میں شاعری اور نوکری بھی غلط قوافی ہیں۔ شاعر میں عین پر کسرہ ہے۔ جب کہ نوکر کے کاف پر فتحہ۔ شاعری اور نوکری انہیں سے مشتق الفاظ ہیں۔
ارتضی عافی — جولائی 25، 2016 8:05 صبح
درود کا تلظ غلط باندھا ہے۔ یہ فعول ہے۔
تیسرا اور چوتھا مصرع و اضح نہیں۔ غالباً بن گئی ہے شاعری کہنا چاہ رہے ہیں!
آخری مصرع میں بھی ’پھیلاؤ‘ کا نہیں ’پھیلاؤں‘ کا محل ہے۔
اور اصل بات۔ یہ قطعہ کے طور پر یا دو اشعار کے طور پر بھی غلط ہیں۔ زندگی، بندگی قوافی درست ہیں، لیکن مزید قوافی میں ’دگی‘ ہونا چاہئے۔
اسی طرح آخری دونوں مصرعوں میں شاعری اور نوکری بھی غلط قوافی ہیں۔ شاعر میں عین پر کسرہ ہے۔ جب کہ نوکر کے کاف پر فتحہ۔ شاعری اور نوکری انہیں سے مشتق الفاظ ہیں۔
شکریہ سر کوشش کرتا ہوں مزید بہتری کے لیے
ارتضی عافی — جولائی 25، 2016 8:13 صبح
درود کا تلظ غلط باندھا ہے۔ یہ فعول ہے۔
تیسرا اور چوتھا مصرع و اضح نہیں۔ غالباً بن گئی ہے شاعری کہنا چاہ رہے ہیں!
آخری مصرع میں بھی ’پھیلاؤ‘ کا نہیں ’پھیلاؤں‘ کا محل ہے۔
اور اصل بات۔ یہ قطعہ کے طور پر یا دو اشعار کے طور پر بھی غلط ہیں۔ زندگی، بندگی قوافی درست ہیں، لیکن مزید قوافی میں ’دگی‘ ہونا چاہئے۔
اسی طرح آخری دونوں مصرعوں میں شاعری اور نوکری بھی غلط قوافی ہیں۔ شاعر میں عین پر کسرہ ہے۔ جب کہ نوکر کے کاف پر فتحہ۔ شاعری اور نوکری انہیں سے مشتق الفاظ ہیں۔
رورد کی جگہ سر صلوات استعمال کر سکتا ہوں یا کہ غلط ہے یا پورا شعر چینچ کروں
ارتضی عافی — جولائی 25، 2016 9:57 صبح
درود کا تلظ غلط باندھا ہے۔ یہ فعول ہے۔
تیسرا اور چوتھا مصرع و اضح نہیں۔ غالباً بن گئی ہے شاعری کہنا چاہ رہے ہیں!
آخری مصرع میں بھی ’پھیلاؤ‘ کا نہیں ’پھیلاؤں‘ کا محل ہے۔
اور اصل بات۔ یہ قطعہ کے طور پر یا دو اشعار کے طور پر بھی غلط ہیں۔ زندگی، بندگی قوافی درست ہیں، لیکن مزید قوافی میں ’دگی‘ ہونا چاہئے۔
اسی طرح آخری دونوں مصرعوں میں شاعری اور نوکری بھی غلط قوافی ہیں۔ شاعر میں عین پر کسرہ ہے۔ جب کہ نوکر کے کاف پر فتحہ۔ شاعری اور نوکری انہیں سے مشتق الفاظ ہیں۔
عشقِ خدا عشقِ نبی عشقِ علی ہے زندگی
سجدہ کروں صلوات بھیجوں ہے یہی تو بندگی
اس عشق سے مجھ کو ملا پیوستگی اس عشق کا
وہ عشق حق جس سے ملا یوسف کو بھی آسودگی
یہ صحیع ہے سر
الف عین — جولائی 25، 2016 10:38 صبح
آسودگی مؤنث ہے،
تیسرا مصرعہ اب بھی نا قابل فہم ہے۔ عشق سے پیوستگی ملنا چہ معنی دارد؟
La Alma — جولائی 25، 2016 10:40 صبح
عشقِ خدا عشقِ نبی عشقِ علی ہے زندگی
سجدہ کروں صلوات بھیجوں ہے یہی تو بندگی
اس عشق سے مجھ کو ملا پیوستگی اس عشق کا
وہ عشق حق جس سے ملا یوسف کو بھی آسودگی
یہ صحیع ہے سر
'صلوات ' اور معنوں میں بھی مستعمل ہے اگر متبادل تلاش کریں تو شاید بہتر ہو .
ارتضی عافی — جولائی 25، 2016 12:23 شام
آسودگی مؤنث ہے،
تیسرا مصرعہ اب بھی نا قابل فہم ہے۔ عشق سے پیوستگی ملنا چہ معنی دارد؟
از این عشق حاصل شد مارا آن عشق کہ یوسف پیوستہ بود یعنی در آن عشق کہ یوسف تعلق داشت مارا حاصل شد
ارتضی عافی — جولائی 25، 2016 12:25 شام
'صلوات ' اور معنوں میں بھی مستعمل ہے اگر متبادل تلاش کریں تو شاید بہتر ہو .
صلوات فارسی ہم لوگ درود کی جگہ استفادہ کرتے ہیں اور درود کو ختم کرکے میں نے صلوات لکھا ہے
ارتضی عافی — جولائی 25، 2016 1:35 شام
آسودگی مؤنث ہے،
تیسرا مصرعہ اب بھی نا قابل فہم ہے۔ عشق سے پیوستگی ملنا چہ معنی دارد؟
آسودگی مؤنث است یعنی متبادل لفظ پیدا کنم در جایی آسودگی
ارتضی عافی — جولائی 25، 2016 2:30 شام
آسودگی مؤنث ہے،
تیسرا مصرعہ اب بھی نا قابل فہم ہے۔ عشق سے پیوستگی ملنا چہ معنی دارد؟
اور سر آخر مصرعے میں اگر آسودگی ہے تو یہ مصرع استفادہ کروں تو کیسا ہوگا
جس سے ختم شد چشم سے یعقوب کی بارندگی
اور ہاں سر اگر غلط ہے تو پھر سر رہنمائی کریں تاکہ اور سمجھ میں آجائے اور قوافی کی بات کچھ سمجھ میں آگیا کیونکہ میں نے مطلع بندگی زندگی استعمال کیا ہے تو اور بھی اسی طرح اگر بندگی کی جگہ ہم آشفتگی جیسے الفاظ استعمال کرتے تو بقایا جات بھی اسی طرح ہوتا کیا ایسا صحیع ہے سر یا پھر آپ سر کوئی تجویز دیں میرے لیے اگر بات سمجھ نہیں آ رہا ہے تو سر فارسی میں بات چیت کر سکتے ہیں
الف عین — جولائی 26، 2016 7:47 صبح
نہیں بھائی، فارسی تو بس نمی دانم تک ہی آتی ہے!!
عشق سے پیوستگی ہو یا بارندگی، دونوں ہی درست فٹ نہیں ہوتے۔ بارندگی تو اردومیں استعمال نہیں ہوتا عام طور پر۔
ارتضی عافی — جولائی 26، 2016 8:45 صبح
نہیں بھائی، فارسی تو بس نمی دانم تک ہی آتی ہے!!
عشق سے پیوستگی ہو یا بارندگی، دونوں ہی درست فٹ نہیں ہوتے۔ بارندگی تو اردومیں استعمال نہیں ہوتا عام طور پر۔
جی سر ٹھیک ہے دونوں لفظ فارسی کے ہیں مطلب قافیہ میں ہم فارسی استعمال نہیں کر سکتے خواندگی بندگی زندگی تابندگی آسودگی آزردگی درماندگی پیوندگی پسماندگی پیش آمدگی سیر آمدگی بر خوردگی برہم خوردگی پایندگی پردگی پژ مردگی پرسیدگی ترشیدگی ترکیدگی چین خوردگی خانوادگی خلیدگی پوشیدگی خمیدگی خواندگی خوردگی یہ الفاظ سارے سر فارسی کے ہیں کیا ہم بطور قافیہ استعمال کرسکتے ہیں اسے یا کہ جو اردو میں استعمال ہوا ہے صرف وہ لفظ استعمال کرسکتے ہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%82%D8%B7%D8%B9%DB%81-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.91130/