بوٹے کا لفظ یہاں غیرمناسب نہیں تھا۔ مگر جیسے آپ مناسب سمجھیں۔
دوسرے مصرع میں پہلو، جو فارسی لفظ سے، کا واؤ گر رہا ہے جو فاش غلطی ہے۔ اسے اگر آپ یوں کر لیں؛
دل جاتا ہے پہلو سے اسے بھینچ کے رکھیے
تو عیب کا سانپ بھی مر جائے گا اور روانی کی لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی۔
مصرعِ ثانی میں جاناں کی دوسری الف گر رہی ہے جو پچھلی غلطی سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے۔ ایک مفت مشورہ:
ہم آتے ہیں سرکار کماں کھینچ کے رکھیے
اگلی، آخری اور اہم بات یہ ہے کہ رکھیے، کیجیے وغیرہ جیسے الفاظ میں ہمزہ کا استعمال معیوب ہے۔ جدید اردو املا اس کی اجازت نہیں دیتا۔ قدیم طرز پر بھی اسے زیادہ سے زیادہ رکھئے لکھا جاتا تھا۔ جو صورت آپ نے نکالی ہے وہ آپ ہی سے خاص ہے۔ اب اگر اہلِ اردو کچھ عرصے میں آپ کے قاعدے پر نہ لکھنے لگیں تو آپ ہی چار و ناچار ان کا اصول اپنا لیجیے گا۔ زمانہ با تو نسازد، تو با زمانہ بساز!