شاہد شاہنواز — ستمبر 14، 2013 10:18 صبح
ہر ایک لمحہ برستی ہیں رحمتیں تیری
جہان زود فراموش یاد اتنا ہے
تری زمیں کو گناہوں سے بھر دیا ہم نے
ترے کرم پہ ہمیں اعتماد اتنا ہے
برائے توجہ:
محترم
الف عین صاحب
محترم
محمد یعقوب آسی صاحب
محمد یعقوب آسی — ستمبر 14، 2013 10:54 صبح
بلا تکلف ۔۔
دوسرے مصرعے میں ’’عجزِ بیان‘‘ پایا جاتا ہے (یعنی بات پوری نہیں ہو رہی)۔ مزید ’’زود فراموش‘‘ کے ساتھ ’’یاد‘‘ کا مفہوم کیا ہے؟ کہ ہمیں جو کچھ یاد ہے وہ یہ ہے کہ دنیا زود فراموش ہے؟ عجزِ بیان یوں بھی موجود ہے۔
بعد کے دو مصرعے، بھائی مجھے اس اندازِ فکر ہی سے اختلاف ہے۔ اللہ کے کرم کی امید اور ایمان کی بنیاد پر بھی گناہ کا جواز نہیں بنتا، یہ تو سیدھا سیدھا عصیان ہے۔ وہ جو کہتے ہیں ’’سو سو گناہ کئے تری رحمت کے زور پر‘‘ یہ لغو ہے۔ اللہ کی رحمت اور کرم کا خاصہ تو یہ ہے کہ وہ انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے۔ چہ جائے کہ میں اسی رحمت کو گناہ کا سبب (یا کم از کم شہ) قرار دے دوں؟ کہ اس کی رحمت سے مجھے گناہ کی جرات ملی؟ استغفراللہ۔ اللہ کی گرفت بھی تو شدید ہے!
اگر خدا نخواستہ میرا طرزِ عمل ایسا ہے بھی جو اِن دونوں مصرعوں میں بیان ہوا ہے تو بھی اس کا اعلان کرتے ہوئے میری زبان اور قلم کو کانپنا چاہئے۔ کہ یہ تو اپنے عصیان و طغیان کا اعلان ہے، اللہ کے ہاں کیسے پسندیدہ ہو سکتا ہے؟ اس کا رحیم و رحمان ہونا اس کی کمزوری تو نہیں!۔
شاہد شاہنواز — ستمبر 14، 2013 11:41 صبح
متفق۔۔۔۔
محمد یعقوب آسی — ستمبر 14، 2013 12:05 شام
اللہ کریم جزائے خیر سے نوازے اور اپنی مزید رحمتیں نازل فرمائے۔ آمین۔
شیرازخان — ستمبر 14، 2013 1:37 شام
بلا تکلف ۔۔
دوسرے مصرعے میں ’’عجزِ بیان‘‘ پایا جاتا ہے (یعنی بات پوری نہیں ہو رہی)۔ مزید ’’زود فراموش‘‘ کے ساتھ ’’یاد‘‘ کا مفہوم کیا ہے؟ کہ ہمیں جو کچھ یاد ہے وہ یہ ہے کہ دنیا زود فراموش ہے؟ عجزِ بیان یوں بھی موجود ہے۔
بعد کے دو مصرعے، بھائی مجھے اس اندازِ فکر ہی سے اختلاف ہے۔ اللہ کے کرم کی امید اور ایمان کی بنیاد پر بھی گناہ کا جواز نہیں بنتا، یہ تو سیدھا سیدھا عصیان ہے۔ وہ جو کہتے ہیں ’’سو سو گناہ کئے تری رحمت کے زور پر‘‘ یہ لغو ہے۔ اللہ کی رحمت اور کرم کا خاصہ تو یہ ہے کہ وہ انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے۔ چہ جائے کہ میں اسی رحمت کو گناہ کا سبب (یا کم از کم شہ) قرار دے دوں؟ کہ اس کی رحمت سے مجھے گناہ کی جرات ملی؟ استغفراللہ۔ اللہ کی گرفت بھی تو شدید ہے!
اگر خدا نخواستہ میرا طرزِ عمل ایسا ہے بھی جو اِن دونوں مصرعوں میں بیان ہوا ہے تو بھی اس کا اعلان کرتے ہوئے میری زبان اور قلم کو کانپنا چاہئے۔ کہ یہ تو اپنے عصیان و طغیان کا اعلان ہے، اللہ کے ہاں کیسے پسندیدہ ہو سکتا ہے؟ اس کا رحیم و رحمان ہونا اس کی کمزوری تو نہیں!۔
ماشااللہ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!! بہت خوب