قوافی قائم کرنے کے بارے میں اساتذہ سے ذرا رہنمائی کی درخواست ہے۔ شکریہ :)

محسن احمد محسن — مئی 23، 2017 11:17 صبح
السلام علیکم !
طرح مصرع :
سکوں بھی خواب ہوا نیند بھی ہے کم کم پھر
قریب آنے لگا دوریوں کا موسم پھر
(پروین شاکر)

قوافی: ریشم مبہم پرنم شبنم مدھم
افاعیل: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن

درج بالا ہدایات کی روشنی میں کیا یہ قافیہ لکھا جا سکتا ہے ؟
کوئی تو حادثہ دستک کی سوچتا ہوگا
میں بے سبب ہی نہیں آج یونہی گم صم پھر

یا پھر یہ ؟
چلو اٹھائیں نکات - شعور دنیا پر
سجائیں بزم سخن یونہی آج ہم تم پھر
محمد ریحان قریشی — مئی 23، 2017 6:50 شام
اسے اختلاف توجیہ کہیں گے یعنی حرف روی سے قبل آنے والے حروف کی حرکت میں اختلاف۔ یہ سخت عیب ہے۔
محسن احمد محسن — مئی 23، 2017 9:16 شام
اسے اختلاف توجیہ کہیں گے یعنی حرف روی سے قبل آنے والے حروف کی حرکت میں اختلاف۔ یہ سخت عیب ہے۔
سر بہت شکریہ :)
محسن احمد محسن — مئی 23، 2017 9:23 شام
اسے اختلاف توجیہ کہیں گے
سر اس بات کی ذرا مزید وضاحت کر دیں، شکر گزار رہوں گا۔
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 24، 2017 2:03 صبح
کوئی تو حادثہ دستک کی سوچتا ہوگا
میں بے سبب ہی نہیں آج یونہی گم صم پھر

یا پھر یہ ؟
چلو اٹھائیں نکات - شعور دنیا پر
سجائیں بزم سخن یونہی آج ہم تم پھر
ہماری صلاح
کہ بے سبب تو نہیں بے خودی کا عالم پھر​

دوسرے شعر میں
سجائیں بزمِ سخن یوں ہی آج ہمدم پھر​
کاشف اسرار احمد — مئی 24، 2017 2:13 شام
سر اس بات کی ذرا مزید وضاحت کر دیں، شکر گزار رہوں گا۔
سب سے پہلے حرفِ روی سمجھ لیجیئے۔ کسی لفظ کا سب سے آخری حرف جو اصلی بھی ہو اور بغیر کسی تبدیلی کے ہر شعر کے آخر میں آئے حرفِ روی کہلاتا ہے۔ اور جو حرفِ روی مطلع میں معین کر دیا جاتا ہے اسے پوری نظم یا غزل میں قائم رکھنا ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ریحان بھائی کی بات میں ذہن میں رکھیں کہ حرفِ روی سے ماقبل حرف کی حرکت بھی مختلف نہ ہو۔ آپ کے قافیے میں "تُم" اور "صُم" میں "ت" اور "ص" پر پیش ہے جو "ریشَم" "پرنَم" وغیرہ میں حرفِ روی کے ما قبل حروف "ن" اور "ش" کی حرکت سے مختلف ہے !
امید ہے اب ابہام دور ہو گیا ہوگا۔
محسن احمد محسن — مئی 26، 2017 8:51 شام
ہماری صلاح
کہ بے سبب تو نہیں بے خودی کا عالم پھر​

دوسرے شعر میں
سجائیں بزمِ سخن یوں ہی آج ہمدم پھر​
ارے واہ، بہت عمدہ
محسن احمد محسن — مئی 26، 2017 8:53 شام
سب سے پہلے حرفِ روی سمجھ لیجیئے۔ کسی لفظ کا سب سے آخری حرف جو اصلی بھی ہو اور بغیر کسی تبدیلی کے ہر شعر کے آخر میں آئے حرفِ روی کہلاتا ہے۔ اور جو حرفِ روی مطلع میں معین کر دیا جاتا ہے اسے پوری نظم یا غزل میں قائم رکھنا ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ریحان بھائی کی بات میں ذہن میں رکھیں کہ حرفِ روی سے ماقبل حرف کی حرکت بھی مختلف نہ ہو۔ آپ کے قافیے میں "تُم" اور "صُم" میں "ت" اور "ص" پر پیش ہے جو "ریشَم" "پرنَم" وغیرہ میں حرفِ روی کے ما قبل حروف "ن" اور "ش" کی حرکت سے مختلف ہے !
امید ہے اب ابہام دور ہو گیا ہوگا۔
سر وضاحت کے لیے بے حد شکریہ۔ دراصل یہ بات کسی کو سمجھانی تھی لیکن شاید میں سمجھا نہیں پا رہا تھا تو خود بھی الجھ گیا۔ اس لیے یہاں آپ احباب سے پوچھا۔ یہ اشعار بھی میرے کہے ہوئے نہیں ہیں۔ آپ احباب کے تعاون کے بے حد شکریہ، سلامت رہیں :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%82%D9%88%D8%A7%D9%81%DB%8C-%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%85-%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%B3%D8%A7%D8%AA%D8%B0%DB%81-%D8%B3%DB%92-%D8%B0%D8%B1%D8%A7-%D8%B1%DB%81%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA-%DB%81%DB%92%DB%94-%D8%B4%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DB%81.96665/