نور وجدان — دسمبر 22، 2018 1:39 شام
فنائے ہستی بعد دید کی طلب میں رہ گئی
کہ زندگی مری ملن کے ہی کرب میں رہ گئی
ازل کے نوری آئنے کی جستجو میں زندگی
جنونِ عشق کے تڑپ میں اور تعب میں رہ گئی
خودی میں ہے چھُپی اُحد کی وہ نشانی، نور کے
وجود میں ڈھلی تو زندگی سبب میں رہ گئی
عجب زمانے کا چلن ، اسیر سب مکان کے
مری ہی روح لامکان کے پلٹ میں رہ گئی
یہ جذب ، شوق بے قرار رکھتا ہے بہت مجھے
کہ ہستی رازِ کن فکاں کی ہی طرب میں رہ گئی
نور وجدان — دسمبر 24، 2018 5:54 صبح
محمد تابش صدیقی — دسمبر 24، 2018 6:01 صبح
کہ زندگی مری ملن کے ہی کرب میں رہ گئی
درست نہیں
نور وجدان — دسمبر 24، 2018 8:22 صبح
یہاں تڑپ کا محل ہے ...اس لیے مشورہ مانگا تھا ..آپ سے مدد چاہیے اس سلسلے میں
محمد وارث — دسمبر 24، 2018 8:32 صبح
اول تو یہ کہ جیسے صدیقی صاحب نے لکھا، کرب میں رے ساکن ہے اور اس کا وزن درد کے وزن پر ہے نہ کہ طلب یا چمن کے۔ فارسی لغت میں کَرَب کے ساتھ بھی چند اشعار لکھے ہیں لیکن اردو میں شاید اس کی کوئی سند نہ ملے۔ "پلٹ" بھی درست نہیں۔
دوم، جہاں تک میرا خیال ہے آپ کی اس غزل کا اصل مسئلہ قافیہ نہیں ہے جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہوتا ہے بلکہ ردیف ہے!
قافیہ آسان ہے اور "اَب" کی آواز پر ہے، سو اس میں طلب، سبب، طرب، تعب، اب ، جب، تب، کب، سب، شب، لب، ادب،عجب، رطب، بو لہب، عنب، عرب، حلب وغیرہ آ سکتے ہیں، لیکن ردیف "میں رہ گئی" نے اسے تنگ کر دیا ہے، اقبال نے اس قافیے کو کافی برتا ہے ۔
سفیر آفریدی — دسمبر 27، 2018 12:59 صبح
ویسے خیال دلچسپ تها اچها بهی لگا پلٹ کے سوا بہت معیار کی تها لفظ بحر دریا تول ردیف قافیہ پیمائی آزمائی سب بیکار یہ احساس ہی لکها جائے اس کے فریم رنگین کرنا اور بہتر رنگ میں چسپاں رکهنے سے وہ سادے عکس بنا تصویر لفظ کا بہت ہے
فاخر رضا — دسمبر 27، 2018 4:54 صبح
ویسے خیال دلچسپ تها اچها بهی لگا پلٹ کے سوا بہت معیار کی تها لفظ بحر دریا تول ردیف قافیہ پیمائی آزمائی سب بیکار یہ احساس ہی لکها جائے اس کے فریم رنگین کرنا اور بہتر رنگ میں چسپاں رکهنے سے وہ سادے عکس بنا تصویر لفظ کا بہت ہے
اپنا تعارف تو کرادو
جب جملہ لکھو تو اسے دو تین دفعہ پڑھ لیا کرو
سفیر آفریدی — دسمبر 27، 2018 2:45 شام
جی سر جملے میں حملہ تها جو رنگ اور عکس اپنی احساس سے میں سمجها وہ یہ نہی قواعد بحر قافیے
یہ سب اصول رمز بیکار ہے غزل کو
مرکز خیال ہے احساس ہے ڈهالا تو بس ڈهالا
وہ خیال اور احساس کی سمجهہ دوسرے کو ضروری ہے
سفیر آفریدی — دسمبر 27، 2018 2:47 شام
ہر بندہ استاد نہی ہر بندہ اپنی فطرت میں اعلی نہی
آپکی بات وزنی ہے قائل ہوں احترامات
سفیر آفریدی — دسمبر 27، 2018 2:50 شام
سمجهہ اور سیکهنا چاهتے ہیں پڑهنا چاهتے ہیں یہی تعارف ہے
ہاں مجروح احساس کے شکار ہیں
فاخر رضا — دسمبر 28، 2018 5:37 صبح
ہر بندہ استاد نہی ہر بندہ اپنی فطرت میں اعلی نہی
آپکی بات وزنی ہے قائل ہوں احترامات
یہ بات تو اب طے ہوگئی کہ آپ اردو کہیں پر کوئی زبان لکھ کر ترجمہ کررہے ہیں اور پھر پیسٹ کررہے ہیں
اردو لکھنا اتنا مشکل نہیں
آپ کی مادری زبان کیا ہے
What is your mother tongue
سفیر آفریدی — دسمبر 29، 2018 12:16 صبح
پشتو جی لکهنا مشکل نہی اگر آپ مجهہ سے مخاطب ہیں یہی تو دیکهہ اور سمجهہ رہے ہیں یہاں دیکهہ بهال والے بهی ہیں تنقید اچها لگتا ہے
سفیر آفریدی — دسمبر 29، 2018 12:44 صبح
لفظ معنی کے رنگ مفہوم چونکہ آپکی بات درست ہے میں پوری توجہ اس پہ اور سمجهہ نہیں ڈال سکا