قوم ہے آج جن کے چنگل میں

محمد اظہر نذیر — اگست 10، 2010 6:41 شام
فوم ہے آج جن کے چنگل میں
وہ مری جان سب لٹیرے ہیں
اَن کی ذنیا ہے نفس کی ذنیا
یہ نہ تیرے ہیں اور نہ میرے ہیں
عام تو ہیں شکار ان کے سب
کچھ تو تیتر ہیں کچھ بٹیرے ہیں
وردیوں میں چھپا کے خنجر یہ
شاخِ مالک پہ پر بکھیرے ہیں
ساری دنیا کا ظِل ہمیں دے کر
اپنی محفل میں کر سویرے ہیں
مجھکو گھر سے نکال کر اظہر
میرے گھر پر کئے بسیرے ہیں​
الف عین — اگست 11، 2010 3:59 صبح
پہلی بات تو یہ طے کرنا ہے کہ یہ غزل ہے یا نظم؟ اکثر اشعار مسلسل محسوس ہوتے ہیں۔
پہلے دو شعر تو درست ہیں۔
تیسرے شعر میں۔۔۔ بٹیرے سے کیا مراد ’بٹیر‘ پرند ہے، تو یہ محض بٹیر ہوتا ہے، کہیں بٹیرے بولا جاتا ہو تو میں واقف نہیں۔
وردیوں میں چھپا کے خنجر یہ
شاخِ مالک پہ پر بکھیرے ہیں
شاخ مالک سے مراد؟
ساری دنیا کا ظِل ہمیں دے کر
اپنی محفل میں کر سویرے ہیں
الفاظ کی نشست و برخواست شعر کو مہمل بنا رہی ہے، مطلب سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کہنا چاہ رہے ہو۔ اس کے علاوہ ’ظل‘ عربی میں سائے کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ بول چال میں استعمال نہیں کیا جاتا جو تم شعر میں آسان اردو میں استعمال کر رہے ہو۔ یہ اچھا نہیں لگتا۔
مجھکو گھر سے نکال کر اظہر
میرے گھر پر کئے بسیرے ہیں
الفاظ کا استعمال اور تریب درست نہیں، کچھ بہتر کہنے کی کوشش کرو۔
اس کے علاوہ یہ آخر کے اشعار ہی اسے غزل بناتے ہیں جو یہاں لکھے ہیں۔
محمد اظہر نذیر — اگست 13، 2010 9:06 صبح
ہر طرف یاس ہے اندھیرے ہیں
چور ڈاکو کیے بسیرے ہیں
قوم ہے آج جن کے چنگل میں
وہ مری جان سب لٹیرے ہیں
اَن کی ذنیا ہے نفس کی ذنیا
یہ نہ تیرے ہیں اور نہ میرے ہیں
عام تو ہیں شکار ان کے سب
کچھ تو تیتر ہیں کچھ بٹیرے ہیں
وردیوں میں چھپا کے خنجر یہ
اپنے مالک کے پر بکھیرے ہیں
مجھکو گھر سے نکال کر اظہر
میرے گھر پر کئے بسیرے ہیں​

جی اُستاد محترم
اب دیکھیے تو
دعد گو
اظہر
دوست — اگست 13، 2010 12:44 شام
بٹیرے جمع ہے۔ پنجابی میں بٹیرے ہی کہا جاتا ہے۔ اردو میں بھی یہی بنے گا میرے خیال سے۔
الف عین — اگست 13، 2010 4:23 شام
ہر طرف یاس ہے اندھیرے ہیں
چور ڈاکو کیے بسیرے ہیں
دوسرا مصرع یوں کر دو
ڈاکوؤں کے یہاں بسیرے ہیں
قوم ہے آج جن کے چنگل میں
وہ مری جان سب لٹیرے ہیں
مری جان کیوں؟ ویسے چل سکتا ہے۔
کچھ تو تیتر ہیں کچھ بٹیرے ہیں
بٹیرے وہاں تم لوگوں کو اٹپٹا نہیں لگتا ہو گا، میرے لئے تو یہ اجنبی لفظ ہے۔ بٹیریں جمع ہوتی ہے اس کی۔
وردیوں میں چھپا کے خنجر یہ
اپنے مالک کے پر بکھیرے ہیں
مالک کیا پرندہ تھا؟ خنکر سے گلا کاٹ دیا گیا ہوگا یا پر اکھاڑے گئے ہوں گے؟
مجھکو گھر سے نکال کر اظہر
میرے گھر پر کئے بسیرے ہیں
اس میں بھی دوسرے مصرع میں ترتیب بدلنی ہو گی۔
فاتح — اگست 13، 2010 7:49 شام
اظہر صاحب۔ محض مشق کی حد تک عمدہ ہے حتیٰ کہ اعجاز صاحب کی اصلاحات کے بعد بھی اسے عمدہ غزل نہیں کہا جا سکتا۔
محمد اظہر نذیر — اگست 13، 2010 8:32 شام
اظہر صاحب۔ محض مشق کی حد تک عمدہ ہے حتیٰ کہ اعجاز صاحب کی اصلاحات کے بعد بھی اسے عمدہ غزل نہیں کہا جا سکتا۔

محترم فاتح صاحب،
تو آیئے اسے اچھا بنانے میں کچھ مدد کیجیے، میں ہمہ تن گوش ہوں جناب
دعا گو
اظہر
فاتح — اگست 13، 2010 8:34 شام
محترم فاتح صاحب،
تو آیئے اسے اچھا بنانے میں کچھ مدد کیجیے، میں ہمہ تن گوش ہوں جناب
دعا گو
اظہر
مشق کرتے رہیے۔ ایک روز عمدگی بھی بھی آ جائے گی۔
محمد اظہر نذیر — اگست 13، 2010 8:42 شام
ہر طرف یاس ہے اندھیرے ہیں
ڈاکوؤں کے یہاں بسیرے ہیں
قوم ہے آج جن کے چنگل میں
وہ مری جان سب لٹیرے ہیں
اَن کی ذنیا ہے نفس کی ذنیا
یہ نہ تیرے ہیں اور نہ میرے ہیں
عام تو ہیں شکار ان کے سب
کچھ تو تیتر ہیں کچھ بٹیرے ہیں
وردیوں میں چھپے محافظ ہی
اپنےآجر کا خوں بکھیرے ہیں
مجھکو گھر سے نکال کر اظہر
گھرمیرے پر کئے بسیرے ہیں​

یوں کچھ بہتری آئی کیا؟
رمضان کی مبارک باد سب اھل محفل کو
اظہر
الف عین — اگست 14، 2010 7:16 صبح
یہ دونوں اشعار اب بھی بدلنے لائق ہیں۔
وردیوں میں چھپے محافظ ہی
اپنےآجر کا خوں بکھیرے ہیں
مجھکو گھر سے نکال کر اظہر
گھرمیرے پر کئے بسیرے ہیں
آخری مصرع یوں کیا جا سکتا ہے
میرے گھر پر کئے بسیرے ہیں
تعجب ہے یہ ترتیب تمہاری سمجھ میں نہیں آئی۔
فاتح۔۔ ایسی تک بندیوں میں ہی مکمل اصلاح کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ اسی لئے میرا طریقہ یہی ہے کہ شاعر کو ہی تبدیل کرنے کا کہتا ہوں، اور جو اغلاط ہوتی ہیں، ان کی نشان دہی کر دیتا ہوں۔
محمد اظہر نذیر — اگست 14، 2010 12:04 شام
ہر طرف یاس ہے اندھیرے ہیں
ڈاکوؤں کے یہاں بسیرے ہیں
قوم ہے آج جن کے چنگل میں
وہ مری جان سب لٹیرے ہیں
اَن کی ذنیا ہے نفس کی ذنیا
یہ نہ تیرے ہیں اور نہ میرے ہیں
عام تو ہیں شکار ان کے سب
کچھ تو تیتر ہیں کچھ بٹیرے ہیں
اب محافظ کمال کے دیکھو
اپنےآجر کا خوں بکھیرے ہیں
مجھکو گھر سے نکال کر اظہر
میرے گھر پر کئے بسیرے ہیں​

جی بہت بہتر اُستاد جی
دعا گو
اظہر
الف عین — اگست 15، 2010 2:29 صبح
اظہر اعتراض دوسرے مصرع پر تھا، پہلے پر نہیں۔ یعنی ’پر بکھیرے‘ پر۔ اس کی جگہ تم نے اس بار ‘خوں‘ کر دیا ہے۔ خون بہانا محاورہ ہوتا ہے، خون بکھیرنا نہیں۔ (پہلے سے نکلا ہوا پڑا ہو تو اس کو بکھیرا جا سکتا ہے!!)۔ لیلکن پہلا مصرع تو وہی جاندار تھا۔
اب محافظ کمال کے دیکھو
اپنےآجر کا خوں بکھیرے ہیں
اس شعر کو نکال ہی دو، خیال اچھا ہے، لیکن قافیہ ساتھ نہیں دے رہا۔
راجہ صاحب — اگست 15، 2010 5:01 صبح
موضوع کا عنوان نظرثانی کا منتظر ہے :)
الف عین — اگست 15، 2010 6:18 صبح
یہ غزل ہے راجہ صاحب، بس ذرا اخباری صحافت کی عادت نے اس کا عنوان دے دیا ہے۔
راجہ صاحب — اگست 15، 2010 6:21 صبح
میرے خیال میں قوم ہے آج جن کے چنگل میں لکھنے کی بجائے فوم ہے آج جن کےچنگل میں لکھا گیا ہے :)
محمد اظہر نذیر — اگست 15، 2010 2:27 شام
ہر طرف یاس ہے اندھیرے ہیں
ڈاکوؤں کے یہاں بسیرے ہیں
قوم ہے آج جن کے چنگل میں
وہ مری جان سب لٹیرے ہیں
اَن کی ذنیا ہے نفس کی ذنیا
یہ نہ تیرے ہیں اور نہ میرے ہیں
عام تو ہیں شکار ان کے سب
کچھ تو تیتر ہیں کچھ بٹیرے ہیں
اُجرتوں پر رکھے محافظ ہی
خوں کے چھینٹے یہاں بکھیرے ہیں

مجھکو گھر سے نکال کر اظہر
میرے گھر پر کئے بسیرے ہیں
ذرا یوں دیکھ لیجیے از راہ کرم محترم اُستاد
الف عین — اگست 16، 2010 5:10 صبح
سرخ شعر کو یوں کہو تو
اُجرتوں پر رکھے محافظ نے
خوں کے چھینٹے یہاں بکھیرے ہیں
تو کم از کم گرامر کی رو سے درست ہو جائے گا۔
محمد اظہر نذیر — اگست 16، 2010 1:13 شام
ہر طرف یاس ہے اندھیرے ہیں
ڈاکوؤں کے یہاں بسیرے ہیں
قوم ہے آج جن کے چنگل میں
وہ مری جان سب لٹیرے ہیں
اَن کی ذنیا ہے نفس کی ذنیا
یہ نہ تیرے ہیں اور نہ میرے ہیں
عام تو ہیں شکار ان کے سب
کچھ تو تیتر ہیں کچھ بٹیرے ہیں
اُجرتوں پر رکھے محافظ نے
خوں کے چھینٹے یہاں بکھیرے ہیں
مجھکو گھر سے نکال کر اظہر
میرے گھر پر کئے بسیرے ہیں​

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%82%D9%88%D9%85-%DB%81%DB%92-%D8%A2%D8%AC-%D8%AC%D9%86-%DA%A9%DB%92-%DA%86%D9%86%DA%AF%D9%84-%D9%85%DB%8C%DA%BA.31038/