سید علی رضوی — جون 13، 2017 6:00 صبح
قہر ہے خود کا دو جگہ ہونا
ہو کہ یک جا جدا جدا ہونا
منتشر ہو کہ خود خیالوں میں
زیر لب ہاں جواب نا ہونا
بیچ ہونا کئی خیالوں کے
حال خود کا سوالیا ہونا
گم شدہ ہوکے خود میں ہی رہنا
ایسے ہونا کہ جیسے نا ہونا
بچ کے چلنا تمام کانٹوں سے
آنکھ میں اپنی پارسا ہونا
محمد خلیل الرحمٰن — جون 13، 2017 6:39 صبح
قہر ہے خود کا دو جگہ ہونا
ہو کہ یک جا جدا جدا ہونا
منتشر ہو کہ خود خیالوں میں
زیر لب ہاں جواب نا ہونا
بیچ ہونا کئی خیالوں کے
حال خود کا سوالیا ہونا
گم شدہ ہوکے خود میں ہی رہنا
ایسے ہونا کہ جیسے نا ہونا
بچ کے چلنا تمام کانٹوں سے
آنکھ میں اپنی پارسا ہونا
بہت داد قبول فرمائیے۔
کچھ ٹائپوز کی نشاندھی۔ دو مصرعوں میں کہ کو کے کردیجیے۔
ہوکے یکجا، جدا جدا ہونا
منتشر ہوکے خود خیالوں میں
الف عین — جون 13، 2017 6:55 صبح
درست ہے غزل
بیچ ہونا کئی خیالوں کے
حال خود کا سوالیا ہونا
÷÷یہ شعر سمجھ نہیں سکا۔
سوالیہ؟
گم شدہ ہوکے خود میں ہی رہنا
ایسے ہونا کہ جیسے نا ہونا
÷÷÷دو حرفی نا میں اس کو درست مانتا ہوں جب استمراری ہو۔ سمجھ گئے نا!!! محض انکاری نا، یعنی ’نہ‘ کو ’نا‘ لکھنا غلط سمجھتا ہوں
سید علی رضوی — جون 13، 2017 7:14 صبح
دونوں استادووں کا بہت مشکورہوں کہ انہوں نے اپنا وقت دیا اور اصلاح فرمائی نشاندہی شدہ غلطیاں ضرور درست کرنی ہے آپ کے توجہ کی مزید ضرورت رہے گی شکریہ