لحظہ بہ لحظہ دیدنی نام و نشاں تمام شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل برائے اصلاح و تنقید

اسد قریشی — دسمبر 18، 2012 6:55 صبح
ایک دوست کی غزل حاضر ہے، آپ احباب کی رائے جاننا چاہتا ہوں کیا یہ غزل موضوع ہے؟ دوست کا کہنا ہے کہ یہ غزل غالب کی غزل "دل ہی تو ہے نہ سنگ و خِشت" کی زمین میں کہی ہے۔
لحظہ بہ لحظہ دیدنی نام و نشاں تمام شد
کارِ نگاہ پیش پیش کارِ جہاں تمام شد
قریہ بہ قریہ ، کو بہ کو ، صحرا بہ صحرا ، جُو بہ جُو
پھرتے تھے تشنہ لب ترے تشنہ لباں تمام شد
جلوہءِ حسن و رنگ کو حدِ یقین چاہیے
حدِ یقین کے لیے حدِ گماں تمام شد
خاک یہ تو نے کیا کیا چاک یہ تو نے کیا کیا
کوزے ادھورے رہ گئے کوزہ گراں تمام شد
تارِ رگِ گلاب سے زخمِ دروں سِیا گیا
چارہ گری کی خیر ہو چارہ گراں تمام شد
وضع کریں جمالِ یار کس کو ہے اب خیالِ یار
مصرعءِ زندگی تمام حرف و بیاں تمام شد
پیش بہ پیش ، دُو بہ دُو ، سامنے تھا وہ خوب رو
دیکھا نگاہ بھر اُسے اور گماں تمام شد
قلبِ سیاہ میں حضور نور جو بھر دیا گیا
چشمِ سیاہ اب ترے کون و مکاں تمام شد
خواب و خیال ہوگئے اپنی مثال ہوگئے
دل زدگانِ شہرِ جاں دل زدگاں تمام شد
یار کے سبز گیان میں اپنا تمام دھیان تھا
جانے خدا کہاں ہوئی عمرِ رواں تمام شد
دلاور علی آزر
الف عین — دسمبر 18، 2012 9:32 صبح
درست ہیں بحر و اوزان۔
اسی زمین میں وہ مشہور غزل ہے دریا بہ دریا یم بہ یم دجلہ بہ دجلہ جو بہ جو۔۔۔ (ممکن ہے ترکیب الٹی پلٹی ہو گئی ہو مصرع کی) قرۃ العین طاہرہ کی۔
دلاور علی آذر تمہارے دوست ہیں؟ ان کی ایک عدد ای بک بنا دی گئی ہے۔ان کو اطلاع دے دیں۔ فیس بک زندہ باد!!
محمد بلال اعظم — دسمبر 18، 2012 9:37 صبح
درست ہیں بحر و اوزان۔
اسی زمین میں وہ مشہور غزل ہے دریا بہ دریا یم بہ یم دجلہ بہ دجلہ جو بہ جو۔۔۔ (ممکن ہے ترکیب الٹی پلٹی ہو گئی ہو مصرع کی) قرۃ العین طاہرہ کی۔
دلاور علی آذر تمہارے دوست ہیں؟ ان کی ایک عدد ای بک بنا دی گئی ہے۔ان کو اطلاع دے دیں۔ فیس بک زندہ باد!!
شاید آپ اس غزل کی بات کر رہے ہیں۔
الف عین — دسمبر 18، 2012 9:42 صبح
اس کی اصل غزل کی!!
اسد قریشی — دسمبر 19، 2012 6:04 صبح
اعجاز صاحب، بہت شکریہ۔۔۔ دراصل یہاں اصلاح کی ضرورت دلاور علی صاحب کو نہیں تھی بلکہ مجھ غریب کو تھی۔ اپنی کم علمی کے باعث میں اس غزل کے اوزان کو سمجھنے سے قاصر تھا۔ میرے ناقص علم کے مطابق مطلع ہی وزن میں نہیں تھا۔
دل ہی ت ہے ن سن گو خش ت در د س بر ن اا ے کو
لح ظہ ب لح ظ دی د نی نا مو ن شا ت ما م شد
اب یہاں مجھے اس بات کا یقن نہیں کہ غالب کے مصرعہ کی میں نے تقطعی درست کی ہے یا نہیں۔
نیز اگر ہم اس غزل کے مطلع کی ہی تقطعی کریں تو میری کم علمی کے باعث کچھ یوں سمجھ پایا ہوں، رہنمائی فرمائیں
لحظہ بہ لحظہ دیدنی نام و نشاں تمام شد​
کارِ نگاہ پیش پیش کارِ جہاں تمام شد​

لح ظہ ب لح ظ دی د نی نا مو ن شا ت ما م شد
کا رے ن گا ہ پی ش پی ش کا رے ج ہا ت مام شد
یہاں پر جو حروف سُرخ رنگ میں ہیں وہ میرے مطابق درست نہیں یا دونوں مصروعوں میں موضوع نہیں۔ اس کی وضاحت فرمائیں
"وضع کریں"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سے۔۔۔۔۔"​
جانے خدا کہاں ہوئی عمرِ رواں تمام شد" تک کسی بھی مصرعہ کو مطلع کہ وزن پر موضوع نہیں پایا، یقینا" یہ میرے کم علمی ہی ہوگی، لیکن اگر اس کو وضاحت فرمائیں تو میرے اور دیگر احباب کے علم میں اضافہ کا باعث ہوگا۔۔۔۔۔۔۔​
نیز دلاور علی آذر صاحب سے معذرت خواہ ہوں، اُن کے کلام میں کوئی سقم نہیں بلکہ میں اپنے علم میں اضافہ اور اپنی اصلاح کو غرض سے یہ غزل یہاں لایا ہوں اوراس یقین کے ساتھ کے دلاور علی صاحب کے لیے یہ بات باعثِ فخر ہوگی کہ ان کا کلام میرے لیے نصاب کی حیثیت رکھتا ہے۔​
بہت شکریہ​
مزمل شیخ بسمل — دسمبر 19، 2012 6:34 صبح
بحر کے ارکان:
مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن
مفاعلن کی بجائے مفاعلان بھی آسکتا ہے۔
اسد قریشی — دسمبر 19، 2012 6:49 صبح
بحر کے ارکان:
مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن
مفاعلن کی بجائے مفاعلان بھی آسکتا ہے۔
شیخ صاحب آپ کی بات درست، اس مصرعہ کی تقطعی کیسے ہوگی:
وضع کریں جمالِ یار کس کو ہے اب خیالِ یار
مصرعءِ زندگی تمام حرف و بیاں تمام شد
محمد اظہر نذیر — دسمبر 19، 2012 7:04 صبح
اگر یہ
بحر - بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف ہے تو مصرع الثانیہ تقطیع نہیں ہو پا رہا، اولی درست ہے
یا شائد مجھے بحر کی سمجھ نہیں آ رہی
لح۔ظہ۔ب۔۔۔لح۔ظ۔دی۔د۔۔۔ن۔نا۔مو۔ن۔۔۔شا۔ت۔ما۔م۔۔۔شد
کا۔رے۔ن۔۔۔گا۔ہ۔پی۔ش۔۔۔؟۔؟۔کا۔ر۔۔۔؟۔؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اساتذہ سے رہنمائی کی درخواست ہے
محمد اظہر نذیر — دسمبر 19، 2012 7:07 صبح
مزمل شیخ بسمل از راہ کرم تقطیع کر دیجیے
مزمل شیخ بسمل — دسمبر 19، 2012 8:25 صبح
شیخ صاحب آپ کی بات درست، اس مصرعہ کی تقطعی کیسے ہوگی:
وضع کریں جمالِ یار کس کو ہے اب خیالِ یار
مصرعءِ زندگی تمام حرف و بیاں تمام شد

وضع کرے ::: مفتعلن
جمال یار ::: مفاعلان
کس ک ہ اب ::: مفتعلن
خیال یار ::: مفاعلان
مصرع زن ::: مفتعلن
دگی تمام ::: مفاعلان
حرفُ بیا ::: مفتعلن
تمام شد ::: مفاعلن
بحر کا نام: رجز مثمن مطوی مخبون
امید ہے واضح ہوا ہوگا۔ اشکال کی صورت میں ضرور سوال کریں
محمد اظہر نذیر — دسمبر 19، 2012 8:54 صبح
وضع کرے ::: مفتعلن
جمال یار ::: مفاعلان
کس ک ہ اب ::: مفتعلن
خیال یار ::: مفاعلان
مصرع زن ::: مفتعلن
دگی تمام ::: مفاعلان
حرفُ بیا ::: مفتعلن
تمام شد ::: مفاعلن
بحر کا نام: رجز مثمن مطوی مخبون
امید ہے واضح ہوا ہوگا۔ اشکال کی صورت میں ضرور سوال کریں
شکریہ مزمل شیخ بسمل صاحب
اسد قریشی — دسمبر 19، 2012 9:09 صبح
وضع کرے ::: مفتعلن
جمال یار ::: مفاعلان
کس ک ہ اب ::: مفتعلن
خیال یار ::: مفاعلان
مصرع زن ::: مفتعلن
دگی تمام ::: مفاعلان
حرفُ بیا ::: مفتعلن
تمام شد ::: مفاعلن
بحر کا نام: رجز مثمن مطوی مخبون
امید ہے واضح ہوا ہوگا۔ اشکال کی صورت میں ضرور سوال کریں

اوہ! یہ تو اور بھی مشکل کردی آپ نے۔۔۔۔۔۔اب تو میں پھنس گیا۔۔۔تو پھر اب مطلع کیسے تقطعی کریں گے؟
لح ظ ب لح = مف ت ع لن
ظ دی د نی = م فا ع لن
نا م ن شا = مف ت ع لن
ت ما م شد = م فا ع لن
کا رن گا = مف ت ع لن
ہ پی ش پی = م فا ع لن
ش کا ر ج ہا = ؟؟؟؟
ت مام شد = م فا ع لن
مصرعہ اولا تو ہو گیا پر مصرعہِ ثانی ؟
باقی مصرعوں کی بھی کوشش کر دیکھتا ہوں کچھ سمجھ نہ آیا تو پھر آپ کو زحمت دوں گا۔
اسد قریشی — دسمبر 19، 2012 9:31 صبح
اوہ، ٹھیک، ہی تو ہے، یہاں مفاعلان استعمال کیا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے جی شیخ صاحب آپ کا بے حد ممنون ہوں، بہت مشکل غزل تھی یہ تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن خیر مسئلہ حل ہو ہی گیا۔۔۔۔۔۔۔شیخ صاحب آپ کو زحمت ہوئی اس کے لیے شکریہ:LOL:
مزمل شیخ بسمل — دسمبر 19، 2012 9:31 صبح
اوہ! یہ تو اور بھی مشکل کردی آپ نے۔۔۔ ۔۔۔ اب تو میں پھنس گیا۔۔۔ تو پھر اب مطلع کیسے تقطعی کریں گے؟
لح ظ ب لح = مف ت ع لن
ظ دی د نی = م فا ع لن
نا م ن شا = مف ت ع لن
ت ما م شد = م فا ع لن
کا رن گا = مف ت ع لن
ہ پی ش پی = م فا ع لن
ش کا ر ج ہا = ؟؟؟؟
ت مام شد = م فا ع لن
مصرعہ اولا تو ہو گیا پر مصرعہِ ثانی ؟
باقی مصرعوں کی بھی کوشش کر دیکھتا ہوں کچھ سمجھ نہ آیا تو پھر آپ کو زحمت دوں گا۔

کار نگا
ہ پیش پیش ::: مفاعلان
مفاعلن کو مفاعلان میں تبدیل کیا جاسکتا ہے. اب کریں تقطیع.:)
اسد قریشی — دسمبر 19، 2012 9:50 صبح
مزے کی بات تو یہ ہے کہ اس ہی بحر میں ایک غزل مئی 2011 میں کہہ چکا ہوں اور ذہن اُدھر گیا ہی نہیں:
اُس کو خیال بھی نہیں، مجھ کو ملال بھی نہیں
آنکھوں سے اشک ہیں رواں، لب پر سوال بھی نہیں
زخمو کو نظم کر کے میں، لایا ہوں بزم میں غزل
میری تمام کاوشیں، میرا کمال بھی نہیں
مزمل شیخ بسمل — دسمبر 19، 2012 9:57 صبح
اوہ، ٹھیک، ہی تو ہے، یہاں مفاعلان استعمال کیا جائے گا۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ ٹھیک ہے جی شیخ صاحب آپ کا بے حد ممنون ہوں، بہت مشکل غزل تھی یہ تو۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ لیکن خیر مسئلہ حل ہو ہی گیا۔۔۔ ۔۔۔ ۔شیخ صاحب آپ کو زحمت ہوئی اس کے لیے شکریہ:LOL:
جناب مشکل تو تب تک ہے جب تک سمجھ نہ آئے. سمجھ آجائے تو کیا مشکل؟ پانچ مہینے پہلے مجھے بھی کچھ سمجھ نہیں آتا تھا. آپ تو خاصے بہتر ہیں مجھ سے. :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%84%D8%AD%D8%B8%DB%81-%D8%A8%DB%81-%D9%84%D8%AD%D8%B8%DB%81-%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D9%86%DB%8C-%D9%86%D8%A7%D9%85-%D9%88-%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA-%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85-%D8%B4%D8%AF%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF.57485/