لفظوں سے اشکوں تک

قمر عسکری — اگست 2، 2016 9:05 صبح
جو زباں سے نہ بیاں ہوتے ہیں
آنکھ سے پھر وہ رواں ہوتے ہیں
لفظ اشکوں میں بدل جاتے ہیں
جب وبال دل و جاں ہوتے ہیں
مانا لازم نہیں صبر آنا مگر
بس میں یہ اشک کہاں ہوتے ہیں
غم جو لفظوں میں سما سکتے نہیں
وہ اک آنسو میں نہاں ہوتے ہیں
عائد — اگست 27، 2016 2:10 شام
اچھی غزل ہے
فاعلاتن فَعِلاتن فِعْلن
جب وبال دلُ جا ہو تے ہیں
مجھے لگا کہ
لفظ "وبال"" کا ل وزن میں نہیں آ رہا اصلاح جاننے کے لیے انتظار لازم ہے سلامت رہیں
الف عین — اگست 27، 2016 7:16 شام
درست ہے غزل، وبال میں کوئی مسئلہ نہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%84%D9%81%D8%B8%D9%88%DA%BA-%D8%B3%DB%92-%D8%A7%D8%B4%DA%A9%D9%88%DA%BA-%D8%AA%DA%A9.91267/