لو اب راز دل کے عیاں ہورہے ہیں

درویش بلوچ — ستمبر 17، 2017 2:36 صبح
لو اب راز دل کے عیاں ہورہے ہیں
ترے بزم میں سب بیاں ہورہے ہیں
مصیبت کے دن ختم ہونے لگے ہیں
ستم گر مرے مہرباں ہورہے ہیں
امیرِ شہر آج کل ہے پریشاں
غریبوں کے بچے جواں ہورہے ہیں
جنہیں ہم نے کل بولنا جو سکھایا
وہ اغیار کے نغمہ خواں ہورہے ہیں
اترنے لگے وہ جفاؤں پہ درویش
رقم پھر نئے داستاں ہورہے ہیں
درویش بلوچ — ستمبر 18، 2017 10:31 صبح
استاد محترم
لئیق احمد — ستمبر 18، 2017 10:55 صبح
۔
ترے بزم میں سب بیاں ہورہے ہیں
یہاں اگر تری بزم کر دیا جائے تو زیادہ اچھا لگے گا۔
جنہیں ہم نے کل بولنا جو سکھایا
۔
اگر اسے "۔
جنہیں ہم نے کل بولنا تھا سکھایا"
تو زیادہ اچھا لگے گا باقی اساتذہ بہتر بتا سکتے ہیں ویسے مجھے مجموعی طور پر اچھی لگی
محمد تابش صدیقی — ستمبر 18، 2017 12:25 شام
لئیق بھائی کی توجہات کے علاوہ
لو اب راز دل کے عیاں ہورہے ہیں
ترے بزم میں سب بیاں ہورہے ہیں
ایطا آ رہا ہے۔
یاں
یاں
رقم پھر نئے داستاں ہورہے ہیں
داستاں واحد مؤنث ہے ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%84%D9%88-%D8%A7%D8%A8-%D8%B1%D8%A7%D8%B2-%D8%AF%D9%84-%DA%A9%DB%92-%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA-%DB%81%D9%88%D8%B1%DB%81%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA.98290/