ليلة القدر کی تلاش ۔۔۔۔۔۔۔۔ عابی مکھنوی

عابی مکھنوی — جولائی 1، 2014 7:33 صبح
مرچ میں اٹھاؤں تو اینٹ کا برادہ ہے
دودھ پانی پانی توشہد لیس چینی کی
وردیوں میں ڈاکو ہیں
کرسیوں پہ کتے ہیں
عصمتوں پہ بولی ہے
سرحدیں بھی ننگی ہیں
چینلوں پہ بکتی ہےبھوک مرنے والوں کی
دیر تک رلاتا ہےرش تماش بینوں کا
بے زبان لاشوں کا
جس جگہ میں رہتا ہوں بے حسوں کی جنت ہے
کس قدر یہ سادہ ہیں
سود کے نوالوں سے جب ڈکار آتے ہیں
شکر کی صداؤں سے رب کو یاد کرتے ہیں
رب بھی مسکراتا ہے
جب یہ طاق راتوں میں
کچھ تلاش کرتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔
عابی مکھنوی
محمود احمد غزنوی — جولائی 1، 2014 7:47 صبح
بھرپور طنز۔۔۔۔۔
سید ذیشان — جولائی 1، 2014 7:48 صبح
بہت خوب جناب!
x boy — جولائی 1، 2014 7:51 صبح
بہت خوب بھائی
صائمہ شاہ — جولائی 1، 2014 9:33 صبح
بہت خوب
غدیر زھرا — جولائی 1، 2014 10:11 صبح
لاجواب۔۔۔۔۔
سید عاطف علی — جولائی 1، 2014 10:40 صبح
"سود کے نوالوں سے جب ڈکار آتے ہیں"
یہاں ڈکار لیتےہیں ۔مناسب ہوگا۔آتے ہیں ۔درست نہیں۔۔۔ڈکار مؤنث بھی ہو تی ہے۔
شیرازخان — جولائی 1، 2014 5:52 شام
بہت اعلٰی۔۔۔
عمر سیف — جولائی 2، 2014 6:47 صبح
لاجواب .. بہت خوب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%84%D9%8A%D9%84%D8%A9-%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%AF%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%B4-%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%B9%D8%A7%D8%A8%DB%8C-%D9%85%DA%A9%DA%BE%D9%86%D9%88%DB%8C.75723/