لہروں پہ کوئی خواب روانہ تو نہیں ہے.... بحر ہزج ..... غزل اصلاح کے لئے۔

کاشف اسرار احمد — جنوری 25، 2017 11:53 صبح
ایک غزل اصلاح کے لئے پیش ہے۔
استاد محترم جناب الف عین اور احباب سے گزارش ہے کہ اصلاح اور مشورؤں سے سرفراز فرمائیں۔
بحر ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن

دنیا ہے، ہمیشہ کا ٹھکانہ تو نہیں ہے
کنکر ہے یہ اک ،قند کا دانہ تو نہیں ہے
ناکام محبت کا فسانہ تو نہیں ہے
یادوں کا ذخیرہ ہے خزانہ تو نہیں ہے
کچھ چبھتے ہوئے جملے ہیں مخصوص مرے نام
ہر بار وہی شخص نشانہ تو نہیں ہے
کچھ غزلیں توجہ کو بٹانے کے لئے ہیں
ہر شعر مرے غم کا ٹھکانہ تو نہیں ہے
دنیا کی طلب سچی محبت پہ ہو حاوی
معقول وجہ ہے یہ بہانہ تو نہیں ہے
اک یاد صفِ ضبط سے آگے چلی آئی
کہتی تھی کہ وہ "شغلِ شبانہ" تو نہیں ہے
چلتے ہوئے جب آپ کو دیکھا تو لگا یوں
لہروں پہ کوئی خواب روانہ تو نہیں ہے
خوشبو سی کوئی نرم، دبے پاؤں ہے کاشف
تکیہ یہ، کہیں آپ کا شانہ تو نہیں ہے ؟!
ظہیراحمدظہیر — جنوری 25، 2017 6:32 شام
بہت خوب! اچھی غزل ہے کاشف بھائی! زمین پسند آئی !
مطلع دو لخت لگ رہا ہے ۔ دیکھ لیجئے
چلتے ہوئے جب آپ کو دیکھا تو لگا یوں​
لہروں پہ کوئی خواب روانہ تو نہیں ہے​

یہ شعر بھی توجہ طلب ہے ۔ ۔۔۔۔ لگا یوں کہنے کہ بعد اس طرح کا سوالیہ بیان نہیں آئے گا ۔ درست بیانیہ یوں ہونا چاہئے: جب آپ کو چلتے ہوئے دیکھا تو یوں لگا کہ لہروں پہ کوئی خواب روانہ ہے ۔
مدثر علی شہپر — جنوری 25، 2017 8:29 شام
خوب کہی جناب!
الف عین — جنوری 26، 2017 4:22 صبح
اچھی غزل ہے۔ ظہیر احمد ظہیر کا خیال مطلع کے بارے میں درست ہے۔ مطلع واقعی مجھے بھی دو لخت لگا۔ لیکن خواب روانہ والے شعر میں ان کی بات سے متفق نہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ بیابیہ مجھے قافیے کی وجہ سے پسند نہیں۔ خواب رواں تو ہو سکتا ہے، تم نے تو اسے کسی سفر پر روانہ کر دیا!!!
اس کے علاوہ
معقول وجہ ہے یہ۔۔۔۔۔
وجہ کا غلط تلفظ باندھا گیا ہے۔ یہں سبب کر دو۔
باقی درست ہے۔
کاشف اسرار احمد — جنوری 26، 2017 6:34 صبح
بہت خوب! اچھی غزل ہے کاشف بھائی! زمین پسند آئی !
مطلع دو لخت لگ رہا ہے ۔ دیکھ لیجئے


چلتے ہوئے جب آپ کو دیکھا تو لگا یوں

لہروں پہ کوئی خواب روانہ تو نہیں ہے​

یہ شعر بھی توجہ طلب ہے ۔ ۔۔۔۔ لگا یوں کہنے کہ بعد اس طرح کا سوالیہ بیان نہیں آئے گا ۔ درست بیانیہ یوں ہونا چاہئے: جب آپ کو چلتے ہوئے دیکھا تو یوں لگا کہ لہروں پہ کوئی خواب روانہ ہے ۔
بہت بہت شکریہ ظہیر بھائی۔
مطلع سے متعلق میں بھی مطمئن نہیں تھا۔ حسن مطلع اصل میں اسی دو لختی کو نظر انداز کرنے کی ایک کوشش تھی۔ :)
روانہ والے شعر پر آپ سے متفق ہوں لیکن ردیف آڑے آتی ہے۔ سوچتا ہوں ۔ شاید کوئی بہتر متبادل مل سکے !
جزاک اللہ۔
کاشف اسرار احمد — جنوری 26، 2017 6:38 صبح
اچھی غزل ہے۔ ظہیر احمد ظہیر کا خیال مطلع کے بارے میں درست ہے۔ مطلع واقعی مجھے بھی دو لخت لگا۔ لیکن خواب روانہ والے شعر میں ان کی بات سے متفق نہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ بیابیہ مجھے قافیے کی وجہ سے پسند نہیں۔ خواب رواں تو ہو سکتا ہے، تم نے تو اسے کسی سفر پر روانہ کر دیا!!!
اس کے علاوہ
معقول وجہ ہے یہ۔۔۔۔۔
وجہ کا غلط تلفظ باندھا گیا ہے۔ یہں سبب کر دو۔
باقی درست ہے۔
شکریہ استاد محترم
مطلع پر دوبارہ کام کرتا ہوں۔ اصل میں شروع میں سوچا کہ مطلع غزل میں نہ رکھوں لیکن پھر صحیح معنوں میں "بھیڑ" ہی دیا۔:p
خواب سے زیادہ "محبوب" کی چال پر تبصرہ تھا استاد محترم۔ لیکن دیکھتا ہوں کہ اسے شاید اور بہتر کر سکوں۔
جزاک اللہ ۔
کاشف اسرار احمد — جنوری 26، 2017 6:39 صبح
شکریہ بھائی۔
نوازش!
سید اسد معروف — جنوری 27، 2017 6:52 صبح
بہت خوب کاشف بھائی۔۔۔۔۔۔ کافی عرصے بعد محفل میں آنے پر آپکی حوبصورت غزل پڑھنے کو ملی۔۔۔۔
مجھے مطلع میں ایک تبدیلی تجویز کرنی ہے۔۔۔۔۔۔ کنکر ہے۔۔۔۔ کوئی قند کا دانہ تو نہیں ہے
کاشف اسرار احمد — جنوری 27، 2017 9:24 صبح
شکریہ۔
ضرور تجویز کریں۔
منتظر ہوں۔
La Alma — جنوری 27، 2017 9:39 صبح
ضرور تجویز کریں۔
منتظر ہوں۔
کنکر ہے۔۔۔۔ کوئی قند کا دانہ تو نہیں ہے
یہ تجویز ہے .
کاشف اسرار احمد — جنوری 27، 2017 11:09 صبح
اوہو ۔ اچھا
میں واقعی نہیں سمجھ پایا تھا۔
شکریہ المٰی۔
کاشف اسرار احمد — جنوری 27، 2017 11:27 صبح
غزل اصلاح کے بعد پیش ہے۔
استاد محترم جناب الف عین اور احباب سے گزارش ہے کہ اصلاح اور مشورؤں سے سرفراز فرمائیں۔
کنکر ہے کوئی،قند کا دانہ تو نہیں ہے
جینے کی سزا، فرضِ دو گانہ تو نہیں ہے

ناکام محبت کا فسانہ تو نہیں ہے
یادوں کا ذخیرہ ہے خزانہ تو نہیں ہے
کچھ چبھتے ہوئے جملے ہیں مخصوص مرے نام
ہر بار وہی شخص نشانہ تو نہیں ہے
استاد محترم ایک نیا شعر بھی شامل کر رہا ہوں:
جس طرح میں اپنے پہ جراحت کا ہوں مجرم
یوں درپہءِ آزار زمانہ تو نہیں ہے

کچھ غزلیں توجہ کو بٹانے کے لئے ہیں
ہر شعر مرے غم کا ٹھکانہ تو نہیں ہے
دنیا کی طلب سچی محبت پہ ہو حاوی
معقول سبب ہے یہ بہانہ تو نہیں ہے


اک یاد صفِ ضبط سے آگے چلی آئی
کہتی تھی کہ وہ "شغلِ شبانہ" تو نہیں ہے
چلتے ہوئے جب آپ کو دیکھا تو لگا یوں
لہروں پہ کوئی خواب روانہ تو نہیں ہے
خوشبو سی کوئی نرم، دبے پاؤں ہے کاشف
تکیہ یہ، کہیں آپ کا شانہ تو نہیں ہے ؟!
کاشف اسرار احمد — جنوری 27، 2017 11:29 صبح
بہت خوب کاشف بھائی۔۔۔۔۔۔ کافی عرصے بعد محفل میں آنے پر آپکی حوبصورت غزل پڑھنے کو ملی۔۔۔۔
مجھے مطلع میں ایک تبدیلی تجویز کرنی ہے۔۔۔۔۔۔ کنکر ہے۔۔۔۔ کوئی قند کا دانہ تو نہیں ہے
شکریہ
آپ کی تجویز کے بعد ہی نیا مطلع سامنے آ پایا۔
جزاک اللہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%84%DB%81%D8%B1%D9%88%DA%BA-%D9%BE%DB%81-%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8-%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81-%D8%AA%D9%88-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DB%81%DB%92-%D8%A8%D8%AD%D8%B1-%DB%81%D8%B2%D8%AC-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%92-%D9%84%D8%A6%DB%92%DB%94.94407/