ما ں

hani — فروری 15، 2010 7:30 صبح
سوکھے پتوں پہ چلنے کی چاپ کیطرح تری یادیں
ھمیشہ موجود رہیں گی
ہر وہ پل جو میرے احساس پہ دستک دینے آیا تھا
تیری موجودگی کا گواہ رھا ھے
وقت کے آزار کے ھونے، پھیلنے پھلنے کی تکلیف میں۔۔
مبتلا لمحوں کی ہمراہی میں ترا وجود، جو موجود تھا
میرے یہ کہنے سے پہلے کہ ماں
میں ترے ھی نور کی اک مدھم سی تنویر ھوں
ترے رنگوں کی آمیزش سے بنی تصویر ھوں
ترے وجود سے بچھڑ گیا
پہلے پہل تو یہی لگتا تھا کہ
سارے رنگ،سارے موسم،سارے پل ادھورے ھیں
روح و جاں کی فسوں سازی کے آزار کبھی کم نہ ھونگے
سارے خواب تری ذات سے شروع،تری ذات پہ ختم ھونگے
لمحوں کے جھمیلوں کی ، مجھہ تک پہنچتی سرگوشیوں سے
میں جان گیا ھوں ماں
تم کہیں نھیں گئیں
یہ آنا جانا،ملنا بچھڑنا
اک ڈھونگ کے وسوسے کے سوا کچھہ بھی تو نہیں
تم تو یہیں ھو۔۔ یہیں کہیں ھو
میری بہتی سانسوں کے ساحل کے کنارے کیطرح
ھونی،انہونی کے درمیاں گذرتی زندگی میں
بے ریا و پُر محبت دعاؤں کے سہارے کیطرح
تم تو یہیں ھو، یہیں کہیں ھو
ورنہ کون ھے جو اب بھی ھر روز صبحُ
میرے ماتھے پہ اپنے لمس کا بوسہ دیتا ھے
طاھرجاوید
اشتیاق علی — فروری 15، 2010 7:53 صبح
میں جان گیا ھوں ماں
تم کہیں نھیں گئیں
ہمیں اپنی ماؤں سے پیار و محبت سے پیش آنا چاہئے اور ۔ جن کی مائیں اس دنیا فانی سے جا چکی ہیں انہیں چاہئے کہ ان کےلیے ایصال ثواب کریں۔ ماں کی شان میں کچھ بیان کرنا لفظوں میں آسان نہیں ہے۔ لہذا تمام احباب کو یہی صلح دوں گا کہ اپنی ماؤں کو خوش رکھیں۔ میرا خیال تو یہ ہے کہ اگر میری ماں مجھ سے ناراض ہے تو میرا رب مجھ سے ناراض ہے اور اگر میری ماں مچھ سے خوش ہے تو میرا رب مجھ سے خوش ہے۔ لہذا مں اور باپ دونوں کی عزت اور خدمت کرنی چاہئے۔ اللہ تعالی سب کے والدین کی خیر فرمائے اور ان کی عزت کرنے کی اور انہیں خوش رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
فاتح — فروری 15، 2010 8:09 صبح
خوبصورت احساسات کا مجموعہ ہے۔
اگر اسے بھی "نثری نظم" کے طور پر لکھا ہے تو اسے کسی اصلاح اصلاح کی قطعاً ضرور نہیں کہ نثری نظم کی کوئی بحر یا وزن نہیں ہوتا۔
hani — فروری 15، 2010 8:32 صبح
میں جان گیا ھوں ماں
تم کہیں نھیں گئیں
ہمیں اپنی ماؤں سے پیار و محبت سے پیش آنا چاہئے اور ۔ جن کی مائیں اس دنیا فانی سے جا چکی ہیں انہیں چاہئے کہ ان کےلیے ایصال ثواب کریں۔ ماں کی شان میں کچھ بیان کرنا لفظوں میں آسان نہیں ہے۔ لہذا تمام احباب کو یہی صلح دوں گا کہ اپنی ماؤں کو خوش رکھیں۔ میرا خیال تو یہ ہے کہ اگر میری ماں مجھ سے ناراض ہے تو میرا رب مجھ سے ناراض ہے اور اگر میری ماں مچھ سے خوش ہے تو میرا رب مجھ سے خوش ہے۔ لہذا مں اور باپ دونوں کی عزت اور خدمت کرنی چاہئے۔ اللہ تعالی سب کے والدین کی خیر فرمائے اور ان کی عزت کرنے کی اور انہیں خوش رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

بہت اچھے الفاظ میں آپ نے والدین کے رتبے کو بیان کیا ھے
hani — فروری 15، 2010 8:35 صبح
خوبصورت احساسات کا مجموعہ ہے۔
اگر اسے بھی "نثری نظم" کے طور پر لکھا ہے تو اسے کسی اصلاح اصلاح کی قطعاً ضرور نہیں کہ نثری نظم کی کوئی بحر یا وزن نہیں ہوتا۔

نثری نطم کی یہی تو حصوصیت ھے کہ ایک احساس ، ایک خیال۔ ایک موضوع کو مکمل طور پر بیان کیا جا سکتا ھے
مغزل — فروری 15، 2010 7:58 شام
رسید حاضر ہے ہانی ( طاہر جاوید صاحب) ، ماشا اللہ ، سلامت رہیں۔
الف عین — فروری 15، 2010 9:28 شام
اچھی نثری نظم ہے۔ بطور خیال تو بہت پاکیزہ۔
ایم اے راجا — فروری 16، 2010 1:46 شام
بہت خوب ہانی صاحب، بہت اچھا اور پاکیزہ خیال ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%A7-%DA%BA.28560/