ابن رضا — اکتوبر 14، 2014 2:53 شام
مانا کہ اب وہ پہلی سی فرصت نہیں اُسے
کیسے یہ مان لوں کہ محبت نہیں اُسے
تیور بتا رہے ہیں سبھی حالِ دل مجھے
لفظوں کے پیرہن کی ضرورت نہیں اُسے
غمگین بھی ہے ترکِ مراسم پہ وہ مگر
لہجے کی تلخیوں پہ ندامت نہیں اُسے
رہتا ہے التفات میں وہ دوستوں کے گم
ایسے میں دشمنوں کی ضرورت نہیں اُسے
کرتا وہ کیا وضاحتِ پہلو تہی رضؔا
میں جانتا ہوں اس کی بھی عادت نہیں اُسے
ٹیگ استادِ محترم محمد یعقوب آسی صاحب و الف عین صاحب
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 14، 2014 3:22 شام
خوبصورت غزل پر داد قبول فرمائیے۔
’پہلے سی ‘ کو اگر پہلی سی کردیا جائے تو؟؟
غمگین ہمیں نون کی بجائے نون غنہ کے ساتھ نظر آرہا ہے لیکن یہ شاید فونٹ کا مسئلہ ہے۔
ابن رضا — اکتوبر 14، 2014 4:02 شام
خوبصورت غزل پر داد قبول فرمائیے۔
۔
پسند آوری کا بہت شکریہ
’پہلے سی ‘ کو اگر پہلی سی کردیا جائے تو؟؟
یقیناً ایسا ہی ہونا چاہیے۔
غمگین ہمیں نون کی بجائے نون غنہ کے ساتھ نظر آرہا ہے لیکن یہ شاید فونٹ کا مسئلہ ہے
غمگین بروزن مفعول بمع نون ہی لکھا ہے۔
بہت نوازش۔ شاد رہیے۔
محمد یعقوب آسی — اکتوبر 14، 2014 5:12 شام
مانا کہ اب وہ پہلی سی فرصت نہیں اُسے
یہ کیسے مان لوں کہ محبت نہیں اُسے
مناسب ہے، تاہم ہو سکے تو دوسرے مصرعے کو چست کریں۔
محمد یعقوب آسی — اکتوبر 14، 2014 5:12 شام
تیور سنا چکے ہیں سبھی داستانِ دل
اب اور انکشاف کی حاجت نہیں اُسے
تیور کے ساتھ بتانا محاورہ ہے سنانا نہیں۔ انکشاف کی حاجت نہیں، انکشاف کرنے کے معانی اس میں نہیں آ رہے۔ یہ مصرع بتاتا ہے کہ اسے اس امر کی حاجت نہیں کہ اس پر کوئی اور انکشاف ہو۔ تقاضا یہاں کوئی اور یا نئی بات بتانے کا ہے۔ مثال کے طور پر ہم کہتے ہیں کہ فلان کو توجہ کی، یا محبت کی، یا روٹی کی، حاجت نہیں تو مراد یہی لیا جاتا ہے مذکورہ چیز کا فلان پر واقع ہونا؛ اسے توجہ ملنا، محبت ملنا، روٹی ملنا وغیرہ؛ نہ کہ اس کی طرف سے دوسرے کو توجہ یا روٹی یا محبت ملے۔
محمد یعقوب آسی — اکتوبر 14، 2014 5:13 شام
ہر گام پر ہے دوستوں کی بھیڑ میں وہ گم
ایسے میں دشمنوں کی ضرورت نہیں اُسے
پہلا مصرع توجہ چاہتا ہے۔ دوسرا مصرع عمدہ ہے مگر اس کی چمک پہلے پر منحصر ہے۔
محمد یعقوب آسی — اکتوبر 14، 2014 5:13 شام
لب سی دیے ہیں وقت کے دھاگوں نے اُس کے یوں
کچھ بولنے کی اب کہ اجازت نہیں اُسے
وقت نے لب سی دیے ہیں؛ بات مکمل ہے یہ دھاگے غیر ضروری ہیں، ان کی جگہ لبوں کے سل جانے کا کوئی محرک لاتے تو شعر بن جاتا۔ پیلے مصرعے کی روشنی میں یہاں اجازت کا نہیں جرات وغیرہ کا ذکر ہونا چاہئے تھا۔ املاء کی بات نوٹ کر لیجئے۔ "اب کے" نہ کہ "اب کہ"۔
محمد یعقوب آسی — اکتوبر 14، 2014 5:14 شام
دیتا وہ کیا وضاحتِ پہلو تہی رضؔا
میں جانتا ہوں جھوٹ کی عادت نہیں اُسے
وضاحت دینا نہیں ہوتا، وضاحت کرنا ہوتا ہے۔ اس سیاق و سباق میں جھوٹ کا مقام مجھ پر نہیں کھلا۔ میں جانتا ہوں اس کی ضرورت نہیں اسے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابن رضا — اکتوبر 14، 2014 5:21 شام
دیتا وہ کیا وضاحتِ پہلو تہی رضؔا
میں جانتا ہوں جھوٹ کی عادت نہیں اُسے
وضاحت دینا نہیں ہوتا، وضاحت کرنا ہوتا ہے۔ اس سیاق و سباق میں جھوٹ کا مقام مجھ پر نہیں کھلا۔ میں جانتا ہوں اس کی ضرورت نہیں اسے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نکتہ آفرینی کے لیے ممنون ہوں استادِ محترم. نشان زدہ اسقام کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ جزاکم اللہ خیرا
کاشف اسرار احمد — اکتوبر 14، 2014 7:05 شام
گستاخی معاف
لب سی دیے ہیں وقت کے لمحوں نے اُس کے یوں۔۔۔
کچھ بولنے کی اب کے اجازت نہیں اُسے
کیسا رہیگا ۔۔۔
مری ناچیز رائے ۔۔۔
ابن رضا — اکتوبر 14، 2014 7:10 شام
دیتا وہ کیا وضاحتِ پہلو تہی رضؔا
میں جانتا ہوں جھوٹ کی عادت نہیں اُسے
وضاحت دینا نہیں ہوتا، وضاحت کرنا ہوتا ہے۔ اس سیاق و سباق میں جھوٹ کا مقام مجھ پر نہیں کھلا۔ میں جانتا ہوں اس کی ضرورت نہیں اسے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
استادِ محترم توجہ فرمائیے گا۔
مانا کہ اب وہ پہلی سی فرصت نہیں اُسے
کیسے یہ مان لوں کہ محبت نہیں اُسے
تیور بتا رہے ہیں سبھی داستانِ دل
لفظوں کے پیرہن کی ضرورت نہیں اُسے
غمگین بھی ہے ترکِ مراسم پہ وہ مگر
لہجے کی تلخیوں پہ ندامت نہیں اُسے
رہتا ہے التفات میں وہ دوستوں کے گم
ایسے میں دشمنوں کی ضرورت نہیں اُسے
کرتا وہ کیا وضاحتِ پہلو تہی رضؔا
میں جانتا ہوں اس کی بھی عادت نہیں اُسے
ابن رضا — اکتوبر 14، 2014 7:18 شام
گستاخی معاف
لب سی دیے ہیں وقت کے لمحوں نے اُس کے یوں۔۔۔
کچھ بولنے کی اب کے اجازت نہیں اُسے
کیسا رہیگا ۔۔۔
مری ناچیز رائے ۔۔۔
جیسا کہ استادِ محترم نے وضاحت کی کہ وقت پر بات تمام ہوجاتی ہے باقی اضافی ہے تو اس لیے ایسا کوئی متبادل کارگر نہیں ہوگا ۔ نوازش
محمد یعقوب آسی — اکتوبر 14، 2014 7:27 شام
استادِ محترم توجہ فرمائیے گا۔
مانا کہ اب وہ پہلی سی فرصت نہیں اُسے
کیسے یہ مان لوں کہ محبت نہیں اُسے
تیور بتا رہے ہیں سبھی داستانِ دل
لفظوں کے پیرہن کی ضرورت نہیں اُسے
غمگین بھی ہے ترکِ مراسم پہ وہ مگر
لہجے کی تلخیوں پہ ندامت نہیں اُسے
رہتا ہے التفات میں وہ دوستوں کے گم
ایسے میں دشمنوں کی ضرورت نہیں اُسے
کرتا وہ کیا وضاحتِ پہلو تہی رضؔا
میں جانتا ہوں اس کی بھی عادت نہیں اُسے
بہتر ہو گیا ہے، مزید بہتر کے لئے سفر جاری رہے۔ بہت ساری دعائیں۔
ابن رضا — اکتوبر 14، 2014 7:37 شام
جی انشاءاللہ۔جزاک اللہ۔ سلامت رہیے۔
الف عین — اکتوبر 15، 2014 4:10 صبح
میں بھی اپنا حصہ ڈال ہی دوں!!!
تیور بتانا تو درست تر ہے لیکن وہ داستان کس طرح بتا سکتا ہے؟ یہاں حال دل لایا جا سکتا ہے۔
ابن رضا — اکتوبر 15، 2014 6:42 صبح
میں بھی اپنا حصہ ڈال ہی دوں!!!
تیور بتانا تو درست تر ہے لیکن وہ داستان کس طرح بتا سکتا ہے؟ یہاں حال دل لایا جا سکتا ہے۔
جی بہتر۔ میں دیکھتا ہوں۔ بہت شکریہ۔ سلامت رہیے۔