ماں

مظفرمحسن — مئی 12، 2008 9:03 صبح
تپتے صحرا،دھوپ میں،ننگےبدن،بے آثرا---
مر رھا ھوتا اگر سایہ نا دیتی ماں مجھے--
---حافظ مظفر محسن---
الف نظامی — مئی 12، 2008 4:55 شام
بہت خوب!!!
راجہ صاحب — مئی 12، 2008 5:06 شام

تیرے پیار کا ساون ایسا برسا ماں !
ٹھنڈا لگتا ہے اب ہر اِک صحرا ماں
تیرے ماتھے کی کرنوں سے جگ روشن
تیرے دل کی ہر دھڑکن اِک تارا ماں
حسن عباسی
راجہ صاحب — مئی 12، 2008 5:16 شام

جدائی میں ترستی ہے بچھڑجانے سے مرتی ہے
یقیناََ یہ حیقیت ہے محبت ماں‌ ہی کرتی ہے
جسے چاہے سجا رکھتی ہے دل میں اور آنکھوں میں‌
ہمہ وقتی اُسی کو چپے چپے یاد کرتی ہے
سراپا منتظر ہو کر دعائیں مانگنے والی
شبِ فرقت اسکے واسطے آہیں بھی بھرتی ہے
اسحاق ظفر
مظفرمحسن — مئی 13، 2008 6:21 صبح
شکریہ۔۔۔آپ دوستوں نے تو کمال کر دیا---بہت خوب۔۔۔۔۔ماں-----کا رتبہ---کیا کھنے---
مظفرمحسن — مئی 13، 2008 2:56 شام

بہت شکریہ----

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%A7%DA%BA.12315/