متفرق اشعار - اصلاح کے لئے

کاشف اسرار احمد — جنوری 20، 2016 7:49 شام
چند متفرق اشعار جو ابھی تک کسی غزل کا حصّہ نہیں بن سکے اصلاح کے لئے پیش کر رہا ہوں۔
استاد محترم جناب الف عین سر سے بطور خاص اصلاح کی گزارش ہے۔
دیگر احباب کی آراء اور مشوروں کا بھی منتظر رہونگا۔


مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
محفل میں سب کے سامنے پڑھ لو نماز عشق
نظریں جھکا کے بے جبیں سجدے سے کام لو
*******............********............********

فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن
اجنبی ساری زمیں ہم کو لگی ہے اب تو
آسماں میں کوئی پہچان نکالی جائے

عقل سے، حوصلے اس دل کے مسلنے کے لئے
ممکنہ رستوں پہ دیوار اٹھا لی جائے
*******............********............********

فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن
تری تصویر میں بند آنکھیں بنا دیں میں نے
منتظر ہوں یہ کھلیں اور کوئی منظر جاگے
*******............********............********

فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
مانگنے آئے ہو دنیا ہم فقیروں سے، رکو!
اک ذرا پیچھے ہٹو کاسہ اُلٹتا ہوں ابھی !
*******............********............********
چشمے وشمے ٹھیک کرانے آ جاتے ہیں
نئی طرح سے دل کو دُکھانے آ جاتے ہیں
*******............********............********

فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
غم کے اک سیل رواں سے بس گزرنا تھا ہمیں
چل رہے تھے بھیڑ میں ہم بھی رگڑ کھاتے ہوئے
*******............********............********

فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن
شدّتِ ضبط سے پتھرائی ہوئی آنکھوں میں
غم بھی اکثر شبِ فرقت میں پگھل آتے ہیں
*******............********............********
آنکھ جھپکی صبحِ دم, خواب آئے صف بہ صف
ایک مٹھی نیند بھی بٹ گئی ہزاروں میں
*******............********............********

مفاعلاتن مفاعلاتن مفاعلاتن مفاعلاتن
بلندیوں میں وہ اک ستارہ، وہ دل کا الماس جاں سے پیارا
وہ رفعتوں سے کبھی نہ گھبرا کے ٹوٹ پائے خدا بچائے
*******............********............********

مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
اس بے خودی نے وا کیا خوابوں کا اک جہان
ہم، آگہی کی دھوپ کے جھلسے، بہل گئے
*******............********............********
وہی یہ دشت ہے دیکھو، وہی اپنا گھرانہ ہے
مری چھاگل سے، اڑتے تير کا، رشتہ پرانا ہے
*******............********............********
سیّد کاشف
الف عین — جنوری 22، 2016 9:47 صبح
خوب اشعار ہیں ماشاء اللہ، بطور خاص
تری تصویر میں بند آنکھیں بنا دیں میں نے
منتظر ہوں یہ کھلیں اور کوئی منظر جاگے

اس کا جواب نہیں
کیا میاں کاشف اسرار احمد عینک ساز ہیں؟
کاشف اسرار احمد — جنوری 22، 2016 12:03 شام
خوب اشعار ہیں ماشاء اللہ، بطور خاص
تری تصویر میں بند آنکھیں بنا دیں میں نے
منتظر ہوں یہ کھلیں اور کوئی منظر جاگے

اس کا جواب نہیں
کیا میاں کاشف اسرار احمد عینک ساز ہیں؟
شکریہ استاد محترم۔
یہ شعر:
چشمے وشمے ٹھیک کرانے آ جاتے ہیں
نئی طرح سے دل کو دُکھانے آ جاتے ہیں
ایک تاریخ رکھتا ہے استاد محترم۔
فتحپوری مسجد کے دروازے پر چاندنی چوک کی جانب چھوٹے چبوترے پر بیٹھ کر میرے اسکول کے ہم جماعت کے ابّا گھڑیوں اور عینک ٹھیک کرنے کا کام کرتے تھے۔
میرا ہم جماعت بھی کبھی کبھی ہاتھ "بٹا" دیا کرتا تھا کیونکہ قریب کی آبادی (غالباََ گلی قاسم جان سے) ایک لڑکی جسے وہ بہت پسند کرتا تھا اکثر کسی نا کسی "غیر" لڑکے کے ساتھ اُس کی دکان پر آ جایا کرتی تھی اور اس کا سیروں خون پھنکا کرتا تھا۔ اگلے دن کلاس میں آ کر دل کے پھپولے پھوڑا کرتا تھا۔ خوب دلچسپی رہتی تھی۔ بس ایک دن اچانک لیٹے لیٹے اس وقت کی یا د آ گئی تو یہ شعر وارد ہو گیا۔
:p
الف عین — جنوری 22، 2016 2:17 شام
آنکھ جھپکی صبحِ دم, خواب آئے صف بہ صف
ایک مٹھی نیند بھی بٹ گئی ہزاروں میں
یہ شعر تو فاعلاتن فعلاتن الخ کا نہیں۔

اگر اس کے اراکان طے ہو جائیں تو دوسرے مصرع کا آخری حصہ دیکھا جائے کہ وزن سے خارج تو نہیں۔
کاشف اسرار احمد — جنوری 22، 2016 4:25 شام
بہتر سر۔
شاید کہیں کچھ چھوٹ گیا ہے۔
گھر پہنچ کر دوبارہ دیکھتا ہوں۔
کاشف اسرار احمد — جنوری 22، 2016 4:30 شام
آنکھ جھپکی صبحِ دم, خواب آئے صف بہ صف
ایک مٹھی نیند بھی بٹ گئی ہزاروں میں
یہ شعر تو فاعلاتن فعلاتن الخ کا نہیں۔

اگر اس کے اراکان طے ہو جائیں تو دوسرے مصرع کا آخری حصہ دیکھا جائے کہ وزن سے خارج تو نہیں۔
موبائل میں ہی مل گیا جناب۔ ارکان یہ ہیں:
فاعلن مفاعیلن فاعلن مفاعیلن
بحر ہزج مثمن اشتر
الف عین — جنوری 22، 2016 4:47 شام
صبحِ دم محاورہ نہیں، محض صبح دم ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے میں فاعلن مفاعلن سمجھ رہا تھا۔
ایک مٹھی نیند والا ٹکڑا وزن سے خارج ہو رہا ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے
ایک مشت بھر تھی نیند، بٹ ۔۔۔
کاشف اسرار احمد — جنوری 23، 2016 8:14 صبح
صبحِ دم محاورہ نہیں، محض صبح دم ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے میں فاعلن مفاعلن سمجھ رہا تھا۔
ایک مٹھی نیند والا ٹکڑا وزن سے خارج ہو رہا ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے
ایک مشت بھر تھی نیند، بٹ ۔۔۔
استاد محترم "ایک مشت بھر تھی نیند، بٹ۔۔۔" بھی شاید وزن سے خارج ہے !
غالباََ پورا شعر تبدیل کرنا پڑیگا۔
الف عین — جنوری 23، 2016 2:37 شام
ایک مش۔ فاعلن
ت بھر تھی نید ۔مفاعیلات نیند میں غنہ تقطیع نہیں ہو گا۔ مفاعیلن کو مفاعیلات کیا جا سکتا ہے۔
سید اسد معروف — جنوری 26، 2016 8:13 صبح
مانگنے آئے ہو دنیا ہم فقیروں سے، رکو!
اک ذرا پیچھے ہٹو کاسہ اُلٹتا ہوں ابھی !
بہت خوب۔ کیا عمدہ خیال ہے۔ واہ واہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%AA%D9%81%D8%B1%D9%82-%D8%A7%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%92-%D9%84%D8%A6%DB%92.87358/